عمران خان جیل سے باہر کب آئے گا؟ فیصلہ ہو گیا

سانحہ 9 مئی کے بعد مسلسل زیر عتاب بانی پی ٹی آئی عمران خان کی مشکلات کم ہوتی نظر نہیں آتیں۔ گزشتہ چند روز کے دوران ’عدت میں نکاح‘ تیسرا مقدمہ تھا جس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف فیصلہ آیا ہے جس میں عمران خان کو 7 سال قید سنائی گئی ہے جبکہ اس سے قبل سابق وزیر اعظم کو سائفر کیس میں 10سال جبکہ توشہ خانہ کیس میں 14سال قید سنائی جا چکی ہے یعنی پچھلے ایک ہفتے میں عمران خان کو مجموعی طور پر 31 سال سزا ہو چکی ہے۔ جس کے بعد عمران خان کا الیکشن سے قبل تو کجا الیکشن کے کئی سال بعد بھی جیل سے باہر آنا ممکن دکھائی نہیں دیتا کیونکہ مقتدر قوتوں نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ عمران خان اینڈ کمپنی نے سانحہ 9 مئی اور اس کے علاوہ بھی ریاست کو جو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اس کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑے گا انھی جرائم کی پاداش میں عمران خان کو آنے والے دنوں میں مزید مقدمات میں بھی سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کے خلاف تین فیصلے پہلے سے ہی جاری ہوچکے ہیں جبکہ کم از کم 3 دیگر مقدمات میں فیصلے جلد آنے والے ہیں۔ سابق وزیراعظم عمران خان کو ابھی 190 ملین پاؤنڈ کی بدعنوانی کے القادر ٹرسٹ کے مقدمے میں، سانحہ 9 مئی کے مقدمے میں اور الیکشن کمیشن پاکستان کی توہین کے مقدمے میں ابھی نتائج دیکھنا باقی ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے میں عمران خان کو شاہ محمود قرشی کے ساتھ سائفرکیس میں 10 سال جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔ اگلے ہی دن توشہ خان ریفرنس میں عمران خان کو ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ساتھ 14 سال قید اور78 کروڑ 70 لاکھ روپے فی کس جرمانہ ہوا اور اس سے اگلے دن ہی عدالت نے عدت میں نکاح کرنے کے کیس میں عمران خان اور بشری بی بی کو سات سات سال قید کی سزا سنا دی جبکہ ماضی میں خان کو 5 اگست کو ایک علیحدہ مقدمے میں سزادی گئی تھی جس میں انہیں اسلام آبادکی ڈسٹرکٹ کورٹ نے تین سال قیدکی سزادی تھی۔ہائیکورٹ نے یہ سزا معطل کردی تھی تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا کی معطلی خلاف دائر عمران خان کی درخواست مسترد کر دی تھی۔اس کے باوجود کہ عمران کو ان چار مقدمات میں سزا ہوچکی ہے عمران خان کو کم از کم تین مزید سنگین مقدمات مین فیصلوں کا انتظار کر نا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق انتخابات میں گنے چنے چند دن باقی ہیں اور تمام سیاسی جماعتیں انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ انتخابات کی گہما گہمی ایک جانب جبکہ پاکستان تحریک انصاف اور پارٹی کے بانی عمران خان کو یقیناً مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ہر دوسرے شخص کے ذہن میں اس وقت یہ سوال ضرور ہے کہ یہ تمام فیصلے عمران خان اور تحریک انصاف کو مستقبل میں کتنا نقصان پہنچا سکتے ہیں؟عمران خان کا سیاسی مستقبل کیا ہے اور کیا عمران خان کبھی دوبارہ عملی سیاست کر سکیں گے؟
سیاسی تجزیہ کار امتیاز عالم کے مطابق جس طرح سے دھڑا دھڑ عمران خان کے خلاف فیصلے آ رہے ہیں اس سے ایک بہت منفی تاثر جا رہا ہے۔ اور یہ سرا سر سیاسی انتقام ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ اس سب سے عدالتی عمل کی توہین ہو رہی ہے۔ اور صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ ایک پارٹی کے ہاتھ باندھے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری پارٹی کو مواقع دیے جا رہے ہیں۔ اس لیے اس سب کا انتخابات پر یہی اثر ہو گا کہ ایک پارٹی جیت کر بھی ہار جائے گی۔ جبکہ دوسری پارٹی ہار کر بھی جیت جائے گی۔
دوسری جانب سینیئر تجزیہ کار و کالم نگار وسعت اللہ خان نے کہاکہ عمران خان کے خلاف جتنے بھی فیصلے آئے ہیں، یہ تمام احتساب عدالت کے فیصلے ہیں جنہیں چیلنج بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ قانونی حلقوں کے افراد یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سزائیں ختم بھی ہو سکتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ باقی 8 فروری کے بعد ہی دیکھا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی کا مستقبل کیا ہوگا، ’انتخابات والے دن بھی 2 صورتیں سامنے آ سکتی ہیں، ایک یہ کہ ووٹر باہر نکلے گا اور ووٹ دے گا، جبکہ دوسری صورت یہ ہے کہ ووٹر گھر میں بیٹھ جائے گا کہ کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔ اس لیے ووٹ دینے کا فائدہ نہیں‘۔
سیاسی تجزیہ کار عثمان رانا نے کہاکہ پی ٹی آئی کی لیڈر شپ جیل میں ہے یا کچھ ان کو چھوڑ چکے ہیں۔ اس صورتحال میں پارٹی کو دوبارہ سے کھڑا کرنا ان فیصلوں کے بعد اتنا آسان نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ عمران خان کے خلاف ساتھ ساتھ جو 3 فیصلے آئے ہیں اس کا نقصان اتنا نہیں ہے کیونکہ اس قسم کی صورتحال سے ووٹر پارٹی کے ساتھ زیادہ ہمدردی کرتا ہے اور ایسا ہی ہوگا کہ پارٹی کا کارکن مزید پارٹی کے ساتھ پکا ہو جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ابھی تو انتخابات ہوئے بھی نہیں لیکن پی ٹی آئی کے امیدوار دوسری پارٹیوں میں جانا شروع ہو چکے ہیں۔ باقی کچھ آزاد امیدوار کے طور پر جو لڑ رہے ہیں اگر وہ انتخابات جیت جاتے ہیں تو وہ حکومت کے ساتھ ضرور شامل ہو جائیں گے۔ باقی فی الحال تحریک انصاف کا مستقبل مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔
