بلوچستان میں حکومتی اتحادی نے PTI کے ساتھ کیسے ہاتھ کیا؟

وزیراعظم عمران خان کی اتحادی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی عرف باپ نے تحریک انصاف کے ساتھ سینٹ الیکشن میں ہاتھ کر دیا ہے۔
بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ وزیراعلیٰ جام کمال خان نے پی ٹی آئی کی جانب سے ٹکٹ واپس لیے جانے کے بعد آزاد حیثیت سے سینیٹ الیکشن لڑنے والے ارب پتی بلڈر عبدالقادر کی حمایت کردی ہے۔ وزیراعلیٰ جام کمال کا کہنا ہے کہ عبدالقادر کو پی ٹی آئی اور بی اے پی نے مشترکہ طور پر سینیٹ امیدوار بنایا تھا لیکن پی ٹی آئی کے پیچھے ہٹنے کے باوجود انکی جماعت قادر کی حمایت برقرار رکھے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں بلوچستان سے عبدالقادر کے منتخب ہونے کے روشن امکانات ہیں اور یوں تحریک انصاف اب ایک جیتی ہوئی نشست ہارنے جا رہی ہے چونکہ عبدالقادر کی جگہ پی ٹی آئی کا ٹکٹ حاصل کرنے والے امیدوار کی جیت کے امکانات معدوم ہیں۔
اس سے پہلے 17 فروری کو الیکشن کمیشن کوئٹہ کے صوبائی دفتر میں امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد آزاد امیدوار عبدالقادر اور بی اے پی کی امیدوار ستارہ ایاز سمیت 16 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے جبکہ ٹیکنوکریٹ کی نشست پر بی اے پی کے امیدوار ڈاکٹر نواز ناصر کے کاغذات نامزدگی دوہری شہریت کے باعث مسترد کر دیے گئے۔ یاد ریے کہ اسلام آباد میں مقیم کاروباری شخصیت عبدالقادر کو پہلے تحریک انصاف نے بلوچستان سے جنرل نشست پر سینیٹ کا امیدوار نامزد کیا تھا۔ تاہم پارٹی کی صوبائی قیادت کی جانب سے اعتراضات کے بعد تحریک انصاف نے ٹکٹ واپس لے لیا تھا۔ پی ٹی آئی کے چاروں صوبائی ریجن نے انہیں پیرا شوٹر قرار دیا تھا۔ لیکن پی ٹی آئی ٹکٹ واپس ہونے کے بعد قادر نے جام کمال کے ایما پر آزاد حیثیت سے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے اور بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین ان کے تائید و تجویز کنندہ بنے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عبدالقادر کو وزیراعظم عمران خان سے ٹکٹ دلوانے والے بھی جام کمال ہی تھے کیونکہ ان کی اس بلڈر کے ساتھ ذاتی دوستی ہے جس سے وہ اب بھی نبھا رہے ہیں۔
اسلام آباد میں مقیم عبدالقادر تعمیراتی شعبے کے ایک بڑے ٹھیکیدار ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’ان کی جائے پیدائش کوئٹہ ہے اور انہوں نے تعلیم بھی کوئٹہ سے حاصل کی اور کاروبار کا آغاز بھی بلوچستان سے کیا۔‘ وہ 2018 کے سینیٹ انتخابات میں بھی بلوچستان سے آزاد امیدوار تھے۔ انہیں مسلم لیگ ن کے منحرف ارکان صوبائی اسمبلی، جنہوں نے بعد میں بی اے پی کی بنیاد رکھی، کی حمایت حاصل تھی، تاہم کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر وہ مطلوبہ حمایت کے باوجود سینیٹر نہ بن سکے۔ عبدالقادر نے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے کی خاطر صرف ایک روز پہلے اپنی سابقہ جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کو چھوڑا تھا۔ لیکن اب عمومی تاثر یہی ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ٹکٹ واپس لیے جانے کے باوجود عبدالقادر اپنی دولت کے بل بوتے پر یہ الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں ہیں۔
یاد رہے کہ بلوچستان سے ایوان بالا کی سات جنرل نشستوں سمیت مجموعی طور پر بارہ نشستوں پر تین مارچ کو انتخاب ہوگا۔ حکمران جماعت تحریک انصاف نے بلوچستان سے جنرل نشست کے لیے پہلے اسلام آباد کے رہائشی اور تعمیراتی شعبے کے ٹھیکیدار عبدالقادر کو ٹکٹ دینے کا اعلان کیا تھا جس پر پی ٹی آئی بلوچستان میں شدید اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔
دوسری طرف کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ جام کمال نے عبدالقادر کے بلوچستان سے انتخاب لڑنے کے فیصلے کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عبدالقادر آج سے نہیں 2004 سے سینیٹ میں آنے کی کوشش کررہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو شاید یہ پتہ بھی نہیں کہ قادر کا تعلق کوئٹہ سے ہے۔ جام کمال نے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی ستارہ ایاز کو بلوچستان سے پارٹی کا سینیٹ ٹکٹ دینے کے فیصلے کا بھی دفاع کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ مستقبل میں بلوچستان عوامی پارٹی خیبر پختونخوا میں بھی بڑی پارلیمانی جماعت بن کر سامنے آسکتی ہے۔ جام کمال کا کہنا تھا کہ آج اگر بلوچستان اسمبلی میں بی اے پی کے24 اراکین ہیں تو ہوسکتا ہے آنے والے دنوں میں بی اے پی کی نمائندگی بلوچستان میں کم اور کسی اور صوبے میں زیادہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ضروری نہیں کہ ایک ہی صوبے سے سینیٹ میں اپنے نمائندے لائے جائیں۔ تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور ن لیگ سمیت باقی جماعتوں کی مثال دی جاسکتی ہے کہ انہوں نے ایک صوبے سے تعلق رکھنے والے شخص کو دوسرے صوبے سے کامیاب کرایا۔ وزیراعلیٰ جام کمال کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ یہاں سینیٹ کی نشستیں بکتی ہیں مگر بلوچستان میں سینیٹ کے پچھلے چار ضمنی انتخاب میں بی اے پی کے منظور کاکڑ، سرفراز بگٹی، خالد بزنجو اور نصرت شاہین کامیاب ہوئے۔ ایک بھی شخص تحفے تحائف تو دور کی بات ایک ٹیلیفون کال کی بھی مثال دیں کہ سینیٹر صاحبان نے کسی کو فون کیا ہو۔‘ ان کا کہنا تھا کہ پہلے کہا جاتا بلوچستان میں کاغذات نامزدگی کی تائید و تجویز کرنے کے بھی پیسے لیے جاتے تھے مگر اس بار ہم نے پارٹی کے اندر کاغذات نامزدگی کے عمل کو بہت محدود رکھا اور انٹرویوز کے بعد امیدواروں کا انتخاب کیا۔‘
یاد رہے کہ 65 رکنی بلوچستان اسمبلی کے ایوان میں سینیٹ کی سات میں سے ہر جنرل نشست جیتنے کے لیے کم سے کم آٹھ ووٹوں کی ضرورت ہے۔ نو ووٹوں والا یقینی طور پر جیت جائے گا جبکہ اس سے کم ووٹوں کے حامل امیدوار کی جیت کا فیصلہ پوائنٹس پر ہوگا۔ بلوچستان اسمبلی میں بلوچستان عوامی پارٹی 24 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔ پی ٹی آئی سات، اے این پی چار، بلوچستان نیشنل پارٹی تین، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی دو اور جمہوری وطن پارٹی کا ایک رکن ہے۔ یوں حکمران اتحاد کے پاس مجموعی طور پر 41 اراکین ہیں۔ مسلم لیگ ن کے واحد رکن نواب ثنا اللہ زہری پارٹی سے وابستگی ختم کر چکے ہیں اور حکمران اتحاد کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ اپوزیشن اتحاد میں شامل جمعیت علمائے اسلام اور بی این پی دس دس نشستوں کی حامل ہیں۔ انہیں پشتونخوا (میپ) کے نصراللہ زیرے اور آزاد امیدوار نواب اسلم رئیسانی کی بھی حمایت حاصل ہے۔ پشین سے بلوچستان اسمبلی کی خالی نشست پر منگل کو ہونے والے انتخاب میں بھی جے یو آئی کی کامیابی کا واضح امکان ہے۔
