بلوچ شدت پسند نے گھر والوں کی بات نہ مانی اور مارا گیا

29 جون 2020 کو پاکستان سٹاک ایکسچینج پر حملے میں مارے جانے والے ایک بلوچ شدت پسند سلمان حمل کی بہن کا کہنا ہے کہ ان کا بھائی اپنے گھر والوں کی مرضی کے خلاف 2012 میں کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی میں شامل ہوا تھا۔ جب بھی سلمان کی فون پر اپنے گھر والوں سے بات ہوتی تو وہ ہمیشہ اس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے کہتے تھے لیکن سلمان یہ تنبیہہ سن کر فون کی لائن کاٹ دیتا تھا۔
یاد رہے کہ گذشتہ مہینے 29 جون کو صبح 10 بجے کیے جانے والے حملے کی ذمہ داری بعد میں کالعدم شدت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی کے مخصوص گروپ فداین مجید بریگیڈ نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس تنظیم کی جانب سے دو سال قبل کراچی میں چینی قونصلیٹ پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔ کراچی کے مصروف ترین آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع پاکستان سٹاک ایکسچینج کی عمارت پر حملے میں ملوث چار میں سے ایک دہشتگرد سلمان حمل کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ اسے کئی مرتبہ ہتھیار ڈالنے کے لیے کہتے تھے لیکن وہ اپنی والدہ اور بہن بھائیوں کی بات ماننے کی بجائے یہ باتیں سن کر ہمیشہ فون بند کردیتا تھا۔
سلمان حمل کی 21 سالہ بہن سائرہ نے ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں بتایا کہ 1993 میں پیدا ہونے والے سلمان کی عمر پاکستان سٹاک ایکسچینج پر حملے کے وقت 27 سال تھی۔ سائرہ کے مطابق سلمان کے چار بھائی ہیں، جن میں سے سب سے بڑا بھائی دبئی میں ہے جبکہ باقی دو بھائی تیسری اور پانچویں جماعت میں پڑھتے ہیں۔ اس کے علاوہ گھر میں دو بہنیں اور والدہ ہیں جبکہ ان کے والد کا انتقال 2012 میں ہوگیا تھا۔سائرہ نے بتایا کہ سلمان نے میٹرک کی تعلیم بلوچستان کےضلع کیچ کے شہر تربت میں واقع زبیدہ جلال خان سکول سے حاصل کی تھی۔سائرہ کے مطابق ان کے بھائی نے میٹرک کے بعد لورالائی میں واقع بلوچستان ریزیڈنشل کالج میں داخلہ لیا تھا، لیکن پھر تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔2012 میں ان کے والد کا انتقال ہوگیا، جس کے بعد ان کا بھائی سلمان حمل گھر چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ چند سال بعد گھر والوں کو اطلاع ملی کہ سلمان نے کالعدم شدت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی جوائن کرلی ہے۔
سائرہ کے بقول سلمان سے اکثر ہمارا فون پر رابطہ ہوتا تھا، ہم نے اسے بہت بار کہا کہ فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دو لیکن وہ یہ سن کر فون کی لائن کاٹ دیتا تھا۔ وہ ایک بار ہم سے ملنے کے لیے گھر آیا تھا، صرف ایک رات کے لیے۔ اس ملاقات میں اس نے ہمیں اپنے حوالے سے کچھ نہیں بتایا، صرف ہمارا حال پوچھنے کے لیے آیا تھا، پھر چلا گیا اور دوبارہ کبھی لوٹ کر نہیں آیا۔ سائرہ کے مطابق انہیں اپنے بھائی کی ہلاکت کے بارے میں ٹی وی کے ذریعے معلوم ہوا تھا۔ 29 جون کو ٹی وی چینلز پر کراچی میں پاکستان سٹاک ایکسچینج سے متعلق نشر ہونے والی خبروں میں حملہ آوروں کے نام بھی بتائے گئے تھے۔ ہمیں یقین نہیں آیا کہ سلمان نے ایسا برا کام کیا۔ ہم صرف اپنی والدہ کے کہنے پر اس کے آخری دیدار کے لیے لاش لینے آئے تھے، جس کی تدفین ہم نے تین جولائی کو اپنے گاؤں مند میں کی تھی۔سائرہ کے بقول انہیں بہت دکھ ہوا ہے کہ اس نے ایسا کام کیا۔ہمیں معلوم نہیں تھا کہ وہ ایک دن ایسا قدم اٹھا لے گا۔ اگر ہمیں معلوم ہوتا تو ہم کہتے کہ وہاں نہ جاؤ اور یہ کام نہ کرو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button