بلیک آؤٹ کے باوجود نواز شریف کا بیانیہ مقبول کیوں ہو رہا ہے؟

پاکستانی میڈیا پر اپوزیشن اتحاد کے جلسوں میں نواز شریف کی جانب سے کی جانے والی گرما گرم تقاریر نشر کرنے پر مکمل پابندی اور بلیک آؤٹ کے باوجود سابق وزیراعظم کا اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ عوام میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے کیوںکہ میاں صاحب ماضی کی طرح کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر اپنے مزاج کے بر خلاف حاضر سروس جرنیلوں کا نام لے لے کر ان کے مبینہ جرائم گنوا رہے ہیں۔ گوجرانوالہ کے جلسے میں آرمی اور آئی ایس آئی کے سربراہ کو پاکستان اور عوام کی تمام مشکلات اور مصائب کا سبب قرار دینے کے بعد نوازشریف نے کراچی کے جلسے میں تقریر نہیں کی لیکن کوئٹہ کے جلسے میں انہوں نے ایک مرتبہ پھر فوجی قیادت کا نام لے کر اور بھی سخت باتیں کرڈالیں۔
سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ یہ نواز شریف کی گوجرانوالہ تقریر کا ردعمل تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نے کراچی میں مریم نواز شریف کے دروازے کمرے کا دروازہ توڑ کر ان کے شوہر کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا لیکن اس آپریشن کو جس بھونڈے انداز میں کنڈکٹ کیا گیا اس کے باعث یہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کو کوئی فائدہ دینے کی بجائے ان کے گلے پڑ گیا اور آرمی چیف کو کور کمانڈر کراچی کے ذریعے اس کی تحقیقات کا حکم جاری کرنا پڑا۔ اب تک کی تحقیقات میں بھی یہی بات سامنے آئی ہے کہ کیپٹن صفدر کی گرفتاری پر مجبور کرنے کے لیے آئی جی سندھ کو ان کے گھر سے حراست میں لیکر سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی کراچی برگیڈئیر حبیب کے احکامات پر انکے دفتر پہنچایا گیا۔ لہذا اپوزیشن حلقے اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ آرمی چیف کی جانب سے شروع کی گئی تحقیقات کے نتیجے میں اس واقعے کے اصل ذمہ داران کے خلاف کوئی سخت کاروائی ہو پائے گی۔
نواز شریف نے بھی 25 اکتوبر کو کوئٹہ میں ہونے والے جلسے کے دوران کراچی میں اپنی بیٹی اور داماد کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے حوالے سے ذمہ داری پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ پر عائد کی۔ انکا کہنا تھا کہ چند جرنیل فوج کی طاقت اپنے مفاد کے فروغ کے لیے استعمال کر رہے ہیں لہذا عوام کپتان حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلیں کیونکہ کوئی بھی فوج اپنے عوام سے نہیں لڑ سکتی. نواز شریف کا کہنا تھا کہ کراچی کے واقعے نے انکی ریاست کے اوپر ریاست ہونے کی بات کو سچ ثابت کردیا، نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ 2018 کے الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے ایک نااہل آدمی کو حکومت میں لانے کا فیصلہ بھی فوج کا نہیں بلکہ چند فوجی کرداروں کا تھا جسکا انکو حساب دینا ہو گا۔ کوئٹہ کے ایوب اسٹیڈیم میں اپوزیشن مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے تیسرے جلسے سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ آج کے جلسے سے واضح ہوگیا کہ اب کوئی ووٹ کی عزت کوئی پامال نہیں کرسکے گا اور ووٹ کی عزت کی طرف کوئی میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھے گا۔
اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار پر شدید تنقید کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ غداری کا لیبل ہر اس شخص کے ماتھے پر چسپاں کیا گیا جس نے سر اٹھا کر عوام کے حق کی اور ووٹ کی عزت کی بات کرنے کی کوشش کی، جس نے ظلم و ستم کے خلاف احتجاج کیا اور جس نے آزاد قوم کا آزادی شہری ہونے کا حوصلہ کیا، انیون نے کہ کہ وہ صرف اس لیے باغی اور غدار قرار پائے کہ انہوں نے اپنے آئینی حقوق کے لیے آواز اٹھائی، انہوں نے کہا کہ اپنا حق مانگنے والے بلوچ قوم پرستوں میں سے کئی قتل ہوئے اور کئی ہمیشہ کے لیے لاپتہ کردیے گئے، ان کے قبروں تک کا نام و نشان تک نہیں ہے، گم شدہ افراد کا مسئلہ اب بھی موجود ہے، اور ہمارے ہم وطن آج بھی اٹھائے جارہے ہیں۔
نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو میں اس لیے اچھا نہیں لگتا کیونکہ میں ڈکٹیشن نہیں لیتا۔ اسی لیے فیصلہ ہوا کہ نواز شریف کو نکالا جائے۔ پھر یہ طے ہوا کہ نواز شریف کے خلاف ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہ ہوئی تو اسے بیٹے سے تنخواہ نہ ملنے پر نااہل کردو اور مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے نکال دو۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف، ان کے بھائی شہباز شریف، بیٹی مریم نواز، حمزہ شہباز، مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو جیلوں میں ڈال کر نشان عبرت بنانے کا حکم دیا گیا اور یہ سب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے کہنے پر ہوا۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کو جیتوایا گیا اور تاریخ کی بدترین دھاندلی کرکے فوجی اسٹیبلشمینٹ نے تاریخ کے نالائق ترین آدمی کو وزیراعظم کے منصب پر بٹھایا تاکہ وہ ان پر سوال نہ اٹھائے اور ان کے اشاروں پر کرتب دکھاتا رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے عظیم الشان جلسے سے گھبرا کر مریم کا دروازہ توڑ کر یہ لوگ اسکے کمرے میں داخل ہوگے، کیا یہ اس پستی میں گر گئے ہیں کہ وہ مشرقی اقدار کا ہی خیال نہ رکھیں، یہ ایک سنگین جرم ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے حیرت ہے ان لوگوں پر جو ماؤں بہنوں اور اقدار کی بات کرتے ہیں اور اس حکومت کا حصہ ہیں۔
نواز شریف نے کہا کہ کراچی کے واقعے نے میری بات کو سچ ثابت کردیا ہے کہ یہاں ریاست کے اوپر ریاست ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں ایک حکومت ہے اور وزیراعلیٰ موجود ہیں لیکن کسی کو نہیں معلوم کہ کس نے آئی جی اور ایڈیشنل آئی کو اغوا کیا اور سیکٹر کمانڈر کون ہے کہ وہ کس کے حکم پر ایف آئی آر کاٹتا ہے اور کس کے حکم پر چادر اور چاردیواری کا خیال نہیں رکھتا۔ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم اس غیر آئینی کاموں کے خلاف اٹھی ہے، یہ تحریک کسی ادارے کے خلاف نہیں بلکہ پاک فوج کی طاقت کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے والوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کے نیچے سے اوپر تک افسران کو ان لوگوں کے عزائم کو پتہ نہیں ہوتا اور ان سے انجانے میں ایسے کام لیے جاتے ہیں کہ جن کے باعث قوم کو مشکلات کا سامنا کرتا پڑتا۔ ان کا کہنا تھا کہ برے جرنیل خود کو فائدہ پہنچانے کے لیے آئین اور قانون توڑتے ہیں اور پھر خود کو بچانے کے لیے فوج کو بدنام کرتے ہیں اس لیے میں خرابی کرنے والے جرنیلوں کے نام لے کر بات کرتا ہوں تاکہ فوج کے پورے ادارے پر دھبہ نہ لگے۔
نواز شریف نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کا نام لے کر کہا کہ ان دونوں کو 2018 کا مینڈیٹ چوری کرنے اور عمران کو وزیراعظم بنانے کا حساب دینا ہو گا۔ انہوں نے عمران خان کو مخاطب کرکے کہا کہ ہمارا تم سے مقابلہ نہیں ہے، ثاقب نثار کا این آر او تمہیں نہیں بچائے گا، تمہیں فارن فنڈنگ کیس، زمان پارک میں تعمیرات اور بنی گالہ سے متعلق حساب دینا پڑے گا اور جیل جانا پڑے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نواز شریف کا یہ سخت ترین اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ رکوانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کیا طریقہ کار اختیار کرتی ہے؟
