بنوں میں یرغمال اہلکاروں کی بازیابی کیلئے آپریشن شروع

سیکیورٹی فورسز نے بنوں کے علاقے کینٹ میں اے ٹی سی مرکز میں یرغمال بنائے گئے پولیس اہلکاروں کی بازیابی کیلئے ریسکیو آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ایک سینیئر پولیس اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’انسداد دہشت گردی کے مرکز میں آپریشن شروع کردیا گیا ہے، تاہم آپریشن کی نوعیت کے بارے میں ابھی تفصیلات نہیں دی جا سکتیں۔ریسکیو 1122 کے ایک اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 15 ایمبولینسیں سکیورٹی فوسرز کے حوالے کی گئی ہیں جو کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں استعمال ہوں گی۔
دوسری جانب ضلعی ہسپتال بنوں کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ضلعے کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور تمام سٹاف کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔وائس آف امریکہ کے نمائندے شمیم شاہد کے مطابق سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ سے گولیوں اور دھماکے کی آوازیں دور دور تک سنائی دے رہی ہیں اور کمپاؤنڈ سے فضا میں بلند ہوتے دھواں بھی دکھائی دے رہا ہے۔
شہر میں کشیدہ صورتِ حال کے باعث تمام تعلیمی ادارے بند ہیں۔ فوجی چھاؤنی کے علاقے میں ہر قسم کی سرکاری، تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں بھی معطل ہیں۔مقبوضہ تھانے کے ارد گرد فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی بھاری نفری موجود ہے اور تمام تر انتظامات فوج نے سنبھال لیے ہیں۔
بنوں سے تعلق رکھنے والے صحافی محمد وسیم خان نے رابطہ کرنے پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ایک مقامی مذہبی شخصیت کے ذریعے عسکریت پسندوں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے پیر کو ختم ہو گئے تھے۔اس سے قبل صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ حکومت دہشت گردوں کا کوئی مطالبہ پورا نہیں کرے گی اور ان سے کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔امریکہ نے بنوں میں سی ڈی ٹی کے کمپاؤنڈ پر حملہ کرنے والوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر قبضہ ختم کر دیں۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے پیر کو میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکہ بنوں میں پیدا ہونے والی صورتِ حال سے آگاہ ہے۔شدت پسندوں کےخلاف کارروائی کے لیے پاکستان کی مدد کو تیار ہیں، حکام ابھی بنوں میں سی ٹی ڈی کے کمپاؤنڈ پر دہشت گردوں کا قبضہ چھڑانے کی کوششوں میں ہی مصروف تھے کہ عسکریت پسندوں نے جنوبی وزیرستان کے مرکزی انتظامی شہر وانا میں پیر اور منگل کی درمیانی شب ایک پولیس تھانے اور ایک چوکی پر حملہ کر کے اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا۔
وائس آف امریکہ کے نمائندے شمیم شاہد کے مطابق عسکریت پسندوں نے وانا کے سٹی تھانہ اور باغیچہ چیک پوسٹ پر حملہ کر کے اہلکاروں کو یرغمال بنایا جس کے بعد وہ سرکاری اسلحہ اور دیگر سامان چھین کر فرار ہو گئے۔عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد سٹی تھانے کا کنٹرول فرنٹیئر کور ایف سی نے سنبھال لیا ہے۔
