بنگالی پاکستان سے علیحدگی پر کیوں مجبور ہوئے؟

بنگلہ دیش بنانے کی بنیاد 25 فروری 1948 کو تب ہی رکھ دی گئی تھی جب متحدہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کی کارروائی میں اردو زبان کے ساتھ بنگالی زبان استعمال کرنے کے لیے قواعد میں ترمیم کی تحریک مسترد کر دی گئی۔ بعد ازاں آنے والے ماہ و سال میں مشرقی اور مغربی پاکستان میں مزید ایسے تضادات اور اختلافات نے جنم لیا جن کے نتیجے میں 16 دسمبر 1971 میں بنگلہ دیش ایک آزاد ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا۔ اس باہمی اختلاف کی ایک اور بڑی وجہ مشرقی بنگال کا نام تبدیل کر کے مشرقی پاکستان رکھنا بھی تھی۔
16 دسمبر 2021 کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے 50 برس مکمل ہو گے۔ یاد رہے کہ پاکستان کے نام سے 14 اگست 1947 کو جو ملک وجود میں آیا وہ جغرافیائی طور پر مشرقی و مغربی حصوں میں تقسیم تھا۔ ان دونوں حصوں میں 15 سو کلو میٹر کا فاصلہ تھا۔ اگرچہ پاکستان کے قیام کا مطالبہ کرنے والی مسلم لیگ کی بنیاد مشرقی بنگال میں رکھی گئی تھی لیکن پاکستان کا یہ حصہ تاریخی اسباب کی وجہ سے سیاسی و سماجی اور ثقافتی سطح پر مغربی حصے سے مختلف تھا جو بعد میں اختلافات کا باعث بنا اور بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ ابتدا میں پاکستان کے مشرقی صوبے کا نام مشرقی بنگال ہی تھا جو ون یونٹ کے قیام کے وقت مشرقی پاکستان کر دیا گیا تھا۔
25 فروری 1948 کو مشرقی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک ہندو رکن دھریندر ناتھ دتا نے متحدہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کی کارروائی میں اردو کے ساتھ بنگالی زبان کے استعمال کے لیے قواعد میں ترمیم کی تحریک پیش کی جس کے جواب میں اردو سپیکنگ وزیرِ اعظم لیاقت علی خان نے کہا کہ پاکستان کے لیے جدوجہد برصغیر کے 10 کروڑ مسلمانوں نے کی تھی جن کی زبان ان کے بقول اردو تھی اور یوں ایوان نے یہ تحریک مسترد کردی۔ بنگالی زبان کی تحریک مسترد ہونے کی خبر جب ڈھاکہ پہنچی تو شدید ردِ عمل سامنے آیا۔ اس کے بعد جب مشرقی بنگال کے وزیرِ اعلیٰ خواجہ ناظم الدین نے بھی اردو کو قومی زبان بنانے کے حق میں بیان دیا تو صوبے میں احتجاج شروع ہو گیا۔ اس سے پہلے بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی اردو کو پاکستان کی سرکاری زبان قرار دیا تھا جس پر مشرقی پاکستان کے باسیوں نے کڑی تنقید کی تھی۔ 1948 میں محمد علی جناح کے انتقال کے بعد مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگی رہنما خواجہ ناظم الدین ملک کے دوسرے گورنر جنرل بنے۔ 26 جنوری، 1952 کو خواجہ ناظم الدین نے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کے قتل کے بعد غلام محمد کو گورنر جنرل بنا دیا اور خود وزیرِ اعظم کا منصب اختیار کرلیا۔
وزیرِ اعظم بننے کے بعد انہوں نے ایک بار پھر اردو کو قومی زبان قرار دینے کا اعلان کیا۔ 21 فروری 1952 کو خواجہ ناظم الدین کے بیان کے خلاف مشرقی بنگال میں ہڑتال ہوئی۔ ڈھاکہ یونیورسٹی میں طلبہ کے ایک جلوس کا پولیس سے تصادم ہوا جس میں آٹھ طلبہ ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس تصادم میں ہلاک ہونے والے طلبہ کی یاد میں ڈھاکہ یونیورسٹی میں ’شہید مینار‘ تعمیر کیا گیا۔ بعد میں اقوامِ متحدہ نے 21 فروری کو مادری زبانوں کا عالمی دن قرار دے دیا۔
4 دسمبر 1954کو مشرقی بنگال کے انتخابات سے قبل حسین شہید سہروردی، مولانا بھاشانی اور شیخ مجیب کی عوامی لیگ، فضل الحق کی کرشک سرامک پارٹی، بائیں بازوں کی جماعت گناتنتری دل اور نظامِ اسلام پارٹی نے متحدہ محاذ یا ‘جگتو فرنٹ’ کے نام سے چار جماعتی انتخابی اتحاد بنایا جس نے 21 نکاتی پروگرام پر اتفاق کیا تھا جس میں بنگالی کو سرکاری زبان بنانے اور 1940 کی قراردادِ لاہور کے مطابق صوبائی خود مختاری جیسے مطالبات شامل تھے۔ جگتو فرنٹ کو کامیابی کے بعد اپریل، 1954میں شیرِ بنگال اے کے فضل حق جگتو فرنٹ کی حکومت کے وزیرِ اعلیٰ بنے۔ عوامی لیگ کے رہنما شیخ مجیب الرحمٰن جگتو فرنٹ کی حکومت کی کابینہ میں بطور وزیر شامل ہوئے۔ صوبائی انتخابات کے بعد سے مشرقی بنگال میں بنگالی اور غیر بنگالی آبادی کے درمیان تلخیاں بڑھنا شروع ہوگئی تھیں۔ غیر بنگالیوں کے قتلِ عام کے واقعات تواتر سے پیش آنے لگے۔
بالآخر 29 مئی، 1954 کو گورنر جنرل غلام محمد کی مرکزی حکومت نے مشرقی بنگال کی صوبائی حکومت برطرف کر کے گورنر راج نافذ کردیا۔ 14 اکتوبر 1955 کو ون یونٹ کا قیام عمل میں آیا جس کے بعد بلوچستان، سرحد، پنجاب اور سندھ کو ملا کر ‘مغربی پاکستان’ کے نام سے ایک نیا صوبہ بنا دیا گیا اور مشرقی بنگال کا نام تبدیل کر کے ‘مشرقی پاکستان’ کر دیا گیا۔ اس اقدام کی ملک کے دونوں حصوں میں مخالفت کی گئی تھی۔ 29 فروری 1956 کو پاکستان کا پہلا آئین منظور ہوا جس کا نفاذ 23 مارچ 1956 کو ہوا۔ جس کے بعد سکندر مرزا صدر بن گئے اور چوہدری محمد علی وزیرِ اعظم رہے۔ نو مارچ، 1956 کو اے کے فضل حق کو مشرقی بنگال کا گورنر بنا دیا گیا۔ بارہ ستمبر، 1956 کو بنگال کے مقبول رہنما حسین شہید سہروردی پاکستان کے وزیرِ اعظم بنے جن سے 11 اکتوبر، 1957 کو صدر اسکندر مرزا نے استعفیٰ لے لیا۔ آئین سازی کے بعد 1957 میں انتخابات منعقد ہونا تھے جنہیں اسکندر مرزا نے صدر بننے کے بعد 1959 تک ٹال دیا اور سات اکتوبر 1958 کو ملک میں مارشل لا کے نفاذ کا اعلان کر دیا۔ تاہم 20 روز بعد ہی فوج کے دباؤ پر اسکندر مرزا صدارت سے مستعفی ہوگئے اور اقتدار مکمل طور پر ایوب خان کے ہاتھ میں چلا گیا۔ مارشل لا میں سیاسی سرگرمیوں اور طلبہ تنظیموں پر پابندی عائد کردی گئی۔ مشرقی پاکستان میں مولانا بھاشانی اور شیخ مجیب الرحمٰن سمیت سیاسی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا۔ جنوری 1960 میں ایوب خان نے ’بیسک ڈیموکریٹس‘ سے اعتماد کا ووٹ لیا اور صدر منتخب ہوگئے۔ ایوب خان نے اس سے قبل بنیادی جمہوریت کا نظام متعارف کرایا تھا۔ ایوبی مارشل لا کے نفاذ کے بعد مشرقی و مغربی پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ شروع کر دیا۔ 30 جنوری 1962 کو حسین شہید سہروردی کو ’ریاست مخالف‘ سرگرمیوں کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔ شیخ مجیب اور عوامی لیگ کے دیگر رہنماؤں کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ 8 جون 1962 کو صدر ایوب کی حکومت نے پاکستان میں ایک اور آئین کا نفاذ کیا۔ ماضی کے مقابلے میں یہ آئین صدارتی نظامِ حکومت پر مبنی تھا اور اس میں صدر کو اختیارات کا محور بنایا گیا تھا۔ جنوری 1964 کو شیخ مجیب کی کوششوں سے مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ بحال ہو گئی اور وہ اس کے جنرل سیکریٹری بن گئے۔ اس پارٹی نے مشرقی پاکستان کے لیے مکمل صوبائی خود مختاری کا مطالبہ کر دیا جس میں مرکزی حکومت کے لیے صرف دفاع، وزارتِ خارجہ اور کرنسی کے شعبے رکھنے کی تجویز دی گئی تھی۔ عوامی لیگ نے 11 نکاتی منشور پیش کیا اور اس کے حق میں مشرقی پاکستان میں بھرپور مہم چلائی۔ بعد ازاں 1966 میں شیخ مجیب کے چھ نکاتی پروگرام میں ان مطالبات کو شامل کرلیا گیا۔
شیخ مجیب الرحمٰن کے چھ نکات میں ملک کے لیے 1940 کی قراردادِ لاہور کے مطابق متفقہ آئین کی منظوری اور بالغ حقِ رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات کرانے کا مطالبہ سرِفہرست تھا۔وفاق کو صرف دفاع اور خارجہ امور دینے کی بات کی گئی تھی۔ مشرقی و مغربی پاکستان کے لیے علیحدہ فوج یا نیم فوجی فورس کے قیام اور پاکستان بحریہ کا ہیڈکوارٹر مشرقی پاکستان منتقل کرنے کے مطالبات بھی چھ نکات میں شامل تھے۔ دوسری جانب فوجی آمر جنرل محمد ایوب خان نے شیخ مجیب کے پیش کردہ چھ نکات کو خود مختار بنگال کے حصول کا خواب قرار دے دیا۔ 2 جنوری 1965 کو ملک میں صدارتی انتخابات ہوئے اور ایوب خان کے مقابلے میں اپوزیشن نے فاطمہ جناح کی حمایت کی۔ ایوب خان صدارتی انتخاب میں کامیاب ہوئے۔ البتہ مشرقی پاکستان میں فاطمہ جناح کو 47 فی صد ووٹ ملے۔ چھ ستمبر، 1965 کو پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ میں مشرقی پاکستان کو اعتماد میں لیے بغیر جنگ کے آغاز پر بھی تنقید سامنے آئی۔ اس کے بعد دس جنوری، 1966 کو پاکستان اور بھارت کے درمیان معاہدۂ تاشقند ہوا۔ جون 1966 میں ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کی کابینہ سے مستعفی ہو گئے، وہ ایوب خان کی کابینہ میں وزیرِ خارجہ رہے تھے۔ تیس نومبر، 1967 کو ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کے نام سے نئی سیاسی جماعت قائم کی۔ جنوری 1968 میں شیخ مجیب اور 35 دیگر سول اور عسکری اہل کاروں پر بھارت کے ساتھ مل کر مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی سازش کرنے کا الزام لگا۔ اسے اگرتلہ سازش کے نام سے جانا جاتا ہے تاہم چار ماہ بعد اگرتلہ سازش کیس میں گرفتار شیخ مجیب اور دیگر ملزمان کو عارضی طور پر رہا کر دیا گیا۔
ادھر مغربی پاکستان میں صدر ایوب خان کے خلاف تحریک شدت اختیار کر گئی جس کے بعد حکومت نے ذوالفقار علی بھٹو، عبدالولی خان اور دیگر سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا۔ ایوب خان کے خلاف احتجاج میں ہلاکتیں ہوتی ہیں اور ملک کے دونوں حصوں میں حالات کنٹرول سے باہر ہونے لگتے ہیں۔ مارچ 1969 میں ایوب خان اور سیاسی قیادت کے درمیان مذاکرات کے لیے گول میز کانفرنس کا سلسلہ شروع ہوا جو نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکا۔ نتیجتاً ایوب خان کی درخواست پر پاکستان آرمی کے کمانڈر ان چیف جنرل آغا محمد یحییٰ خان نے 25 مارچ 1969 کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ سنبھال لیا اور 1962 کا آئین منسوخ کردیا گیا۔
اگلے مہینے یحییٰ خان نے مشرقی و مغربی پاکستان کے درمیان سیاسی ڈیڈ لاک دور کرنے کے لیے سیاسی قیادت سے بات چیت کا آغاز کیا۔ یحییٰ خان نے 5 اکتوبر 1970 کو بالغ رائے دہی کی بنیاد پر پاکستان کی تاریخ کے پہلے عام انتخابات کرانے کا اعلان کر دیا۔ شیخ مجیب نے 1970 کے عام انتخابات کی مہم کے لیے اپنے چھ نکات کو بنیاد بنایا۔ بالآخر سات دسمبر، 1970 کو پاکستان کے پہلے عام انتخابات کا انعقاد ہوا جس میں عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان کی 162 میں سے 160 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ مغربی پاکستان کی 138 میں سے 81 نشستیں پیپلز پارٹی نے جیتیں۔ انتخابی نتائج آنے کے بعد عوامی لیگ کو دستور ساز اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل ہو گئی۔ فتح کے بعد شیخ مجیب نے ڈھاکہ کے ریس کورس میدان میں تقریر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہمیں اب کوئی چھ نکات کی بنیاد پر آئین بنانے سے نہیں روک سکتا۔انتخابی نتائج کے بعد شیخ مجیب اور بھٹو میں سیاسی اختلافات بڑھنے لگے۔ ذوالفقار علی بھٹو ایک وفاقی نظامِ حکومت کے قیام کا مطالبہ کر رہے تھے اور واضح کر چکے تھے کہ پیپلز پارٹی کے بغیر مرکز میں بننے والی کوئی حکومت کام نہیں کر سکے گی۔شیخ مجیب کا مؤقف تھا کہ وہ مرکز اور صوبے میں تنہا حکومت بنائیں گے اور آئین سازی کی بنیاد ان کے پیش کردہ چھ نکات ہی ہوں گے۔جنوری 1971کو صدر یحییٰ خان نے شیخ مجیب کو مذاکرات کی دعوت دی لیکن متعدد کوششوں کے باوجود شیخ مجیب نے بات چیت کے لیے مغربی پاکستان آنے سے انکار کر دیا۔ جنوری 1971 کے دوسرے ہفتے میں یحییٰ خان نے خود ڈھاکہ پہنچ کر شیخ مجیب سے ملاقاتیں کیں۔ ڈھاکہ سے واپسی پر یحییٰ خان نے شیخ مجیب کو مستقبل کا وزیرِ اعظم قرار دیا۔ 27 جنوری 1971 کو ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی کے وفد نے ڈھاکہ میں شیخ مجیب سے تین روزہ مذاکرات کیے۔ 11 فروری 1971 کو ذوالفقار علی بھٹو نے صدر یحییٰ خان سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ عوامی لیگ آئین کا مسودہ تیار کر چکی ہے جسے وہ بہ آسانی قومی اسمبلی سے منظور کرا سکتی ہے۔ بھٹو نے اس ملاقات میں صدر یحییٰ خان کو قومی اسمبلی کا اجلاس مارچ کے آخر تک نہ بلانے کا مشورہ دیا لیکن اس کے برعکس صدر یحییٰ خان نے تین مارچ کو قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد کرنے کا اعلان کر دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پشاور میں اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گی۔ مغربی پاکستان میں سوائے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے سبھی جماعتوں نے اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا۔ سنگین سیاسی بحران کی اس صورتحال میں 28 فروری 1971کو صدر یحییٰ خان نے قومی اسمبلی کا طلب کیا گیا اجلاس ملتوی کر دیا جس پر مشرقی پاکستان میں شدید ردِعمل سامنے آنے کے بعد صدر یحییٰ خان نے 10 مارچ کو آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا۔
مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی کے سوا دیگر جماعتوں نے کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا۔ 7 مارچ 1971 کو شیخ مجیب نے جلسۂ عام میں فی الفور مارشل لا ختم کرنے اور اقتدار منتخب نمائندوں کو منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مطالبات پورے نہ ہونے تک کاروبارِ حکومت بند کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد مشرقی پاکستان میں حکومتی رٹ عملاً ختم ہو گئی۔ مشرقی پاکستان میں حالات کشیدہ ہونے کے بعد بڑی تعداد میں مقامی آبادی کی نقل مکانی کا آغاز ہوا اور بھارت نے اپنی سرحد پناہ گزینوں کے لیے کھول دی۔ اس دوران شیخ مجیب یحییٰ خان سے مارشل لا اٹھانے کا مطالبہ دہراتے رہے تاہم صدر یحییٰ کے مشیروں نے دلیل دی کہ اگر 25 مارچ 1969 کو جاری کردہ مارشل لا کے نفاذ کا حکم نامہ منسوخ کیا جاتا ہے تو مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے قیام کے لیے فراہم کردہ قانونی بنیاد ختم ہو جائے گی۔۔س سلسلے میں عوامی لیگ اور صدر یحییٰ کے قانونی مشیروں میں مذاکرات کے کئی دور ہوئے جو بے نتیجہ رہے۔ لیکن
صورت حال تب خراب تر ہوگئی جب 25 مارچ 1971 کو مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن ‘سرچ لائٹ’ کا آغاز ہو گیا۔ شیخ مجیب اور عوامی لیگ کے دیگر رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتاری کے بعد شیخ مجیب کو مغربی پاکستان منتقل کر دیا گیا تھا۔ مشرقی پاکستان میں فوج کے مختلف یونٹس کے بنگالی افسران، فوجیوں اور ایسٹ پاکستان رائفلز کی بغاوت شروع ہو گئی۔ اس کے بعد یحییٰ خان نے ریڈیو پر قوم سے خطاب میں عوامی لیگ پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا اور شیخ مجیب پر بغاوت کے الزامات لگائےتاہم عوامی لیگ نے ان الزامات کی تردید کی اور دس اپریل، 1971 کو عوامی لیگ کے منتخب ارکان نے بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان کر دیا۔ بھارت نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشرقی پاکستان کی سرحد پر آٹھ ڈویژن فوج تعینات کر دی اور ساتھ ہی بارڈر سیکیورٹی فورس کی نفری بھی بڑھا دی۔ اگست میں بنگالیوں کی علیحدگی پسند مسلح فورس مکتی باہنی کی کارروائیوں میں تیزی آ گئی۔ دوسری جانب بھارت کی فوج اور علیحدگی پسندوں نے مشرقی پاکستان کی سرحد پر گولہ باری اور کارروائیاں شروع کرکےچٹا گانگ کے علاقے میں پیش قدمی شروع کر دی۔ تین دسمبر، 1971 کو پاکستان نے مغربی محاذ کھول دیا اور فضائیہ نے سری نگر، پٹھان کوٹ، ہلواڑہ سمیت بھارتی فضائیہ کے اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بھارت کی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی نے اس حملے کو جنگ کا آغاز قرار دیا۔
یہ جنگ شروع ہونے کے بعد بھارت کی برّی فوج نے ڈھاکہ کی جانب تیزی سے پیش قدمی کی۔ انہیں پاکستان کے مقابلے میں بنگال کے علیحدگی پسند حلقوں کا تعاون بھی حاصل تھا۔ سولہ دسمبر، 1971کو بھارت کی فوج نے ڈھاکہ کا گھیراؤ کر لیا اور پاکستانی فوج کو لڑائی سے دست بردار ہونے کا کہا۔ کمانڈر ایسٹرن کمانڈ جنرل اے کے نیازی کی ہدایت پر پاکستانی فوج نے ہتھیار ڈال دیے۔ یہ دن بنگلہ دیش کا یوم آزادی قرار پایا۔ شیخ مجیب الرحمٰن 25 مارچ 1971 کو فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد سے مغربی پاکستان میں زیرِ حراست تھے۔ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد انہیں 8 جنوری 1972 کو رہا کیا گیا۔ پاکستان کو بنگلہ دیش کے قیام کے بعد وہاں 1971 میں مرکزی حکومت کا ساتھ دینے والے شہریوں اور اہل کاروں کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات کا خدشہ تھا۔ اسی لیے پاکستان بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے میں پس و پیش کا شکار تھا۔ 1974 میں سعودی عرب، اردن، مصر اور انڈونیشیا نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کے لیے پاکستان سے رابطے شروع کر دیے۔ بالآخر 22 فروری 1974 کو وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔ جس کے بعد بنگلہ دیش نے پاکستان میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کی۔اس سے قبل دو جولائی 1972 کو ذوالفقار علی بھٹو اور اندرا گاندھی نے شملہ معاہدے پر دستخط کیے جس کے بعد 1971 کی جنگ میں قیدی بننے والے پاکستانی فوجی اور سویلینز کی رہائی کی راہ ہموار ہوئی اور دونوں ممالک کے درمیان تنازع کشمیر سمیت دو طرفہ تعلقات سمیت دیگر امور پر بھی نکات طے کیے گئے۔
