بنی گالا تھانے کا عملہ وزیر اعظم کی شکایت پر برطرف

وزیر اعظم عمران خان کی شکایت پر بنی گالا تھانے کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر کے علاوہ تمام عملے کو ہٹا دیا گیا۔
اس سلسلے میں سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کے دفتر سے دو الگ الگ نوٹی فکیشن جاری کیے گئے۔ ایک درجن سے زائد ماتحت افراد (کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل)، تین سب انسپکٹرز اور تین اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کو ہٹایا گیا۔ ایک سینئر پولیس افسر نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ پولیس تھانے کے عملے کے خلاف متعدد شکایات موصول ہوئی تھیں کہ وہ زمینوں پر قبضہ کرنے والوں اور منشیات فروشوں کی سرپرستی کر رہے ہیں اور تعمیراتی سامان کی نقل و حمل کرنے والی گاڑیوں سے پیسے بھی کما رہے ہیں۔ چند روز قبل ہی نئے تعینات ہونے والے آئی جی پی قاضی جمیل الرحمٰن نے وزیر اعظم سے ملاقات کی تھی۔ پولیس اہلکار نے بتایا تھا کہ وزیر اعظم خان نے آئی جی پی کو بتایا تھا کہ پولیس اسٹیشن کے عملے نے ایک ٹرک ڈرائیور سے رقم حاصل کی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ٹرک ڈرائیور کا سراغ لگایا گیا اور پولیس اسٹیشن کے عملے کی شناخت کےلیے فون کیا گیا۔ پولیس اہلکار نے بتایا تاہم ٹرک ڈرائیور نے بہانہ کیا کہ وہ اس سے پیسے لینے والوں کی شناخت نہیں کرسکتا ہے۔ اگلے ہی روز آئی جی پی نے تھانے کے عملے کو ہٹانے کے احکامات جاری کردیے۔
ستمبر 2019 میں بنی گالہ اور تین دیگر تھانوں کو ماڈل سب ڈویژن قرار دیا گیا تھا۔
پولیس افسر نے بتایا کہ وزیر اعظم نے موثر انتظامیہ کےلیے پولیس اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر کے طور پر کام کرنے کےلیے پولیس اسٹیشن کی سطح پر اصلاحات متعارف کرانے کے بعد یہ اقدام اٹھایا تھا۔ اس بارے میں جب ڈائریکٹر میڈیا اسلام آباد پولیس کے ایس پی محمد بلال سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ بنی گالہ پولیس اسٹیشن کا عملہ ہٹا دیا گیا ہے کیوں کہ ان کے خلاف بہت سی شکایات موصول ہوئی تھیں۔جب آئی جی پی اور وزیر اعظم کے درمیان ملاقات کے بارے میں سوال کیا گیا تو ایس پی نے کہا کہ ‘مجھے اس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے، میں تفصیلات حاصل کرنے کے بعد ہی جواب دے سکوں گا’۔تاہم ایس پی نے رپورٹ فائل کیے جانے تک جواب نہیں دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button