بنی گالا کا وزیراعظم ہاؤس روحانی درگاہ بن گیا


بشری بی بی سے شادی کرنے اور پھر وزیر اعظم بن جانے کے بعد سے عمران خان نے مادہ پرستی سے دوری اختیار کر لی ہے اور مکمل روحانی ہوتے جا ریے ہیں جس کا واضح اثر ان کی بنی گالہ رہائش گاہ اور اس کے مکینوں پر بھی پڑا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بنی گالہ کا ماحول اب مکمل طور پر روحانی ہو چکا ہے۔ بابا فریدؒ کی تعلیمات اور ان کے فرمودات کے عکس جگہ جگہ نظر آتے ہیں اور حالات یہ ہیں کہ بنی گالہ کسی سربراہ حکومت کی رہائش گاہ سے زیادہ ایک روحانی درگاہ کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس تبدیلی کے اثرات وزیراعظم کی شخصیت اور انکی پالیسیوں پر بھی منعکس ہو رہے ہیں۔
  اس بات کا انکشاف سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان ایک نئے روحانی سفر کا آغاز کر چکا ہے اور قدرت اللہ شہاب نے بالکل درست فرمایا تھا کہ مادی دنیا سے خفیہ ایک روحانی قوت معاملات چلا رہی ہوتی ہے۔ قطب، ولی اور فقیر اس روحانی دنیا کے وارث ہیں۔ روحانی دنیا کے بہت سے لوگ عرصہ سے پیش گوئیاں کررہے تھے کہ پاکستان کی تقدیر بدلنے والی ہے، پاکستان دنیا کی بڑی طاقت بننے والا ہے اور پھر دنیا بھر کے فیصلے پاکستان میں ہوا کرینگے۔ روحانی دنیا کے بے شمار سہیل وڑائچ اب لوگوں کا کہنا یے کہ وہ وقت آچکا جب دنیا بھر کے لوگ پاکستان نوکری لینے کیلئے آیا کریں گے اور پاکستان دنیا بھر کے فیصلے کیا کرے گا۔ کوئی مانے نہ مانے مگر سیاسی تبدیلی آنے سے پاکستان نئے روحانی دور میں داخل ہوگیا ہے۔روحانی دنیا کے وابستگان کا یہ پختہ یقین ہے کہ قیام پاکستان کی مادی، سیاسی یا بین الاقوامی وجوہات ضرور ہونگی مگر دراصل پاکستان کا قیام ایک روحانی معجزہ تھا۔
سہیل وڑائچ کے مطابق وزیراعظم عمران خان دل و جان سے روحانی دنیا اور اسکے اثرات پر یقین رکھتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ روحانیت کے بغیر مذہب کو سمجھنا مشکل ہے وہ روحانیت کی راہوں کے مسافر ہو چکے ہیں ایک سالک کی حیثیت سے وہ سنت نبویؐ کے اتباع کی کوشش کرتے ہیں۔ قدرت اللہ شہاب ایک خط میں روحانیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’عرف عام میں روحانیت اس کیفیت کا نام ہے جو ایمان، تقویٰ اور توکل پر عمل پیرا ہونے سے پیدا ہوتی ہے، اس کیفیت کا مادیت سے کوئی تعلق نہیں۔ مادیت پرست تو نہیں مانتے، نہ مانیں۔ روحانیت پر یقین رکھنے والے البتہ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کا نظام روحانی طور پر چل رہا ہے اس خطے کے روحانی سربراہ خواجہ فرید الدین گنج شکرؒ آف پاک پتن ہیں۔ پاکستان میں عروج و زوال، تخت یا تختہ یا فتح و شکست انہی کے دستخطوں سے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی صدیوں سے اس خطے کے تمام روحانی خانوادے محرم کے دنوں میں پاک پتن آتے اور قیام کرتے ہیں۔ بہشتی دروازہ کھلنے اور عرس کے ایام میں اس دربار کے فیوض و برکات سے استفادہ کرتے ہیں، روحانی دنیا کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بابا فریدؒ نہ صرف اس خطے کے روحانی فیصلے کرتے ہیں بلکہ مادی دنیا کے فیصلے بھی ان کے دربار ہی میں ہوتے ہیں۔ اسی لئے کہا جارہا ہے کہ عمران خان کو وزیراعظم بنانے پر مہر تصدیق اسی دربار سے ثبت ہوئی ہے۔
سہیل وڑائچ مزید کہتے ہیں کہ روحانیت کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے عمران خان پر روحانی نظر کرم تو ورلڈ کپ کی فتح سے پہلے ہی شروع ہوگئی تھی۔ ان کے توکل، فقر اور روحانیت کی کھوج نے انہیں اس راہ پر چلنے کے لئے مقبول بنا دیا اور بالآخر ان کی قبولیت بھی ہوگئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ عمران کی روحانی خوبیوں نے اس کی دنیاوی آلائشوں کی صفائی شروع کردی۔ خدا سے لو لگانے کی خواہش رکھنے والوں کی غیبی امداد ہوتی ہے اور اس امداد کا براہ راست آغاز بشریٰ بی بی سے ان کے روحانی تعلق پر ہوا۔ بشریٰ بی بی بابا فریدؒ کی تعلیمات کی سالک و مرید ہیں۔ جب بشریٰ بی بی کا دل خود پھرا تو ان کی روح میں ایمان کی روشنی سرایت کرگئی، ان کا باطن روشن ہوگیا۔ دنیا انہیں کاٹ کھانے کو دوڑنے لگی تو وہ جوتے اتار کر ننگے پائوں لاہور سے پیدل ہی پاک پتن روانہ ہوگئیں۔ وارفتگی کے اس ایک ہی سفر نے روحانیت کے دروازے ان پر وا کردیئے، ان کی دعا میں تاثیر پیدا ہوگئی اور ان کی ہدایت میں روحانیت در آئی۔ ایسے ہی قبولیت کے لمحوں میں عمران خان کی وزارت عظمیٰ کی دعا بھی درجہ قبولیت اختیار کرگئی۔ بشریٰ بی بی نے روحانیت کی سچائی کا ثبوت یوں بھی دیا کہ انتخابات سے پہلے ہی کہہ دیا کہ میں خوشخبری بن کر عمران کے پاس آئی ہوں، یہی اگلا وزیراعظم بنے گا اور ساتھ ہی ساتھ بتا دیا کہ پی ٹی آئی 116 نشستیں حاصل کرے گی۔ خدا کی کرنی دیکھئے۔ جو بشریٰ عمران نے کہا تھا وہ ہوبہو پورا ہوا۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ بشریٰ عمران خان کو بابا فریدؒ کے وسیلے سے روحانی دنیا میں وہ درجہ حاصل ہوگیا ہے کہ وہ مستجاب الدعوات بن گئی ہیں۔
سہیل واڑائچ کہتے ہیں کہ بشری بی بی کی سب سے پکی سہیلی فرح شہزادی کے شوہر احسن جمیل گجر کے نانا بھی ولی اللہ تھے۔ احسن جمیل کو جگر کی بیماری ہوئی تو جگر کی تبدیلی کے لئے امریکہ میں پورا ایک سال مقیم رہے، مگر ویٹنگ لسٹ بہت لمبی تھی۔ ایک روز بشریٰ بی بی سے بات ہوئی تو احسن جمیل نے بتایا کہ فہرست بہت لمبی ہے دعا کریں۔ بی بی بشریٰ نے دوسرے ہی دن جوابی فون کیا اور کہا کہ حضرت فاطمہؓ سے درخواست کی ہے اور انہوں نے آپ کے لئے دعا قبول کرلی ہے۔ احسن جمیل اقبال کے بقول دوسرے ہی دن انہیں فاطمہ نامی خاتون نے فون کر کے کہا فوراً اسپتال پہنچیں آپ کا جگر ٹرانسپلانٹ کرنا ہے۔ احسن جمیل اقبال اسے حسن اتفاق سمجھنے کو تیار نہیں اور نہ ہی روحانی دنیا کا کوئی اور شخص۔ اسے ہی تو کرامت کہتے ہیں۔ لہازا کوئی مانے نہ مانے، مادیت پرست یقین کریں نہ کریں۔ پاکستان نشاۃ ثانیہ کے دور میں داخل ہو چکا ہے اب روحانیت پاکستان کے حالات بدل دے گی…

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button