بونگے شہباز گل کو ایک اور بونگی بھگتنی پڑ گئی

اپنی بونگیوں کی وجہ سے بدنام وزیراعظم عمران خان کے غیر منتخب معاون خصوصی شہباز گل سوشل میڈیا صارفین کی لعن طعن کی زد میں ہیں جس کی بنیادی وجہ ان کا، گجر پورہ میں لاہور سیالکوٹ موٹروے پر اپنے تین بچوں کے سامنے ریپ ہونے والی خاتون کے مبینہ ملزم کا ڈی این اے میچ ہونے پر وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو مبارکباد پیش کرنے کا عمل تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومتی عہدیدار معاملے کی حساسیت کا خیال کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر مناسب الفاظ استعمال کرتے لیکن شہباز گل نے اس حوالے سے ایک ایسی ٹویٹ کر ڈالی جس نے صارفین کے غم و غصے میں مزید اضافہ کر دیا۔ انھوں نے لکھا ’مبارک ہو وزیراعلی عثمان بزدار کو آئی جی پنجاب کو سی سی پی او لاہور اور پوری ٹیم کو۔ڈی این اے میچ ہو گیا۔ انشاللہ جلد گرفتاری بھی ہوگی۔ عوام کو پتہ ہو کہ رات 4 بجے تک عثمان بزدار میٹنگ میں تھے ۔ آئی جی اور سی سی پی او کے ساتھ۔وزیراعلیٰ نے پورے کیس کی خود مانیٹرنگ کی ہے۔کام بولتا ہے الفاظ نہیں۔ ویلڈن بزدار۔‘
شہباز گل کی طرف سے ’مبارک باد‘ کے الفاظ سوشل میڈیا صارفین کو سخت ناگوار گزرے اور انھوں نے نا صرف شہباز گل کو خوب آڑھے ہاتھوں لیا بلکہ اس واقعے کے حوالے سے حکومت پر بھی شدید تنقید کی۔ شہباز گل کی طرف سے مبارکباد کا پیغام جاری کرنے پر مصنف اور شاعر عاطف توقیر نے کہا کہ ’یہ کیسے لوگ ہیں؟ یہ کتنے غیر حساس لوگ ہیں؟ یہ اپنا کام نہ کرنے پر جواب دہ نہیں مگر کام کریں تو اپنی تعریف خود کرتے پھرتے ہیں؟ شرم ناک۔‘
عابد انور نامی صارف نے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ’پتہ نہیں ہمارے سیاست دانوں کو کب عقل آئے گی کہ کس موقع پر کیسے بات کرنی ہے۔ کیسے اپنی قوم کی ڈھارس بندھانی ہے۔ کیسے مرحم رکھنا ہے۔ مبارکبادیں دیتے ہیں جیسے قلعہ فتح کیا ہو۔ ساتھ ہی وہ شہباز گل صاحب کو مشورہ دیتے نظر آئے کہ ’ارطغرل ڈرامہ ہی دیکھ لیں کہ انتقام یا بدلہ لینے کے بعد کیسے وہ اپنے قبیلے والوں سے بات کرتے ہیں۔‘
مصنفہ نور الہدیٰ لکھتی ہیں ’یہ مبارک باد دینے کی بات ہے؟ پرانا ڈی این ایے میچ کرگیا اور مبارکباد وزیراعلیٰ اور ان کے سی سی پی او کو، جو متاثرہ خاتون کو الزام دیتے ہیں۔وہ مزید لکھتی ہیں ’فرات کے کنارے کُتا نہیں، عورت لوٹی گئی ہے۔ وہ عورت جو انسان ہے اور آپ مبارکبادیں ایسے دے رہے ہو جیسے کرکٹ میچ جیت کر آئے ہوں اور بزدار اور سی سی پی او نے چوکے چھکے مارے ہوں۔‘
مسلم لیگ ن کی رہنما حنا پرویز بٹ نے شہباز گل کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ’مبارک لیتے اور دیتے ہوئے تم لوگوں کو شرم آنی چاہیے۔ مجرموں کو پکڑنا تم لوگوں کا احسان نہیں فرض ہے۔ تعریف کے بھوکے لوگو! بے شرموں کی طرح مبارکبادیں دینا اور لینا بند کرو۔‘
مقدس فاروق لکھتی ہیں ’سراس میں مبارک دینے والی کوئی بات نہیں ہے، کوئی تیر نہیں مارا، مبارک آپ تب دیتے جب یہ واردات ناکام بنائی جاتی۔ حسین نامی صارف نے شہباز گل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ’کیا آپ کو شرم نہیں آتی؟ ایک عورت کی اُس کے بچوں کے سامنے عزت لوٹی گئی اور آپ مبارک باد دے رہے ہیں۔‘
جاوید طارق نامی صارف لکھتے ہیں ‘شہباز صاحب! یہ کوئی مبارک دینے والی خبر یا موقعہ ہے؟ عابد خان سواتی لکھتے ہیں ’آپ لوگ داد کے مستحق اس وقت ہوں گے جب مجرم کو سرعام پھانسی دی جائے گی۔ یہ سارے ڈرامے عوامی ردعمل و غصہ ختم کرنے کے لیے ہیں ۔ ساہیوال دہشتگردی کے واقعے میں بھی یہی اچھل کود ہوئی تھی۔‘
کرن شہزادی نے کہا کہ ’شرم آنی چاہیے آپ کو جو مبارک دے رہے ہیں ایک دوسرے کو اور ایک دوسرے کو کریڈیٹ دے رہے ہیں، جب اس بیچاری کی عزت پامال ہوئی اس کا کریڈیٹ بھی پھر آپ لوگوں کو ہی جاتا ہے۔ اس وقت کوئی ذمہ داری نہیں لے رہا تھا، کسی نے استعفیٰ نہیں دیا اور اب بےشرمی سے مبارکبادیں دی جا رہی ہیں۔‘
سلمان نامی صارف لکھتے ہیں ’سر مبارک کس بات کی، اتنا بڑا سانحہ ہوا ہے اور آپ پھولے نہیں سما رہے، کیسا باعثِ شرم رویہ ہے آپ کا۔زاہد بیگ کہتے ہیں ’وزیر اعلیٰ کو مبارک دینے کا نہیں، پورے سسٹم کو غیرت دلانے کا وقت ہے۔‘
شہباز گل کے ٹویٹ کے کچھ ہی دیر بعد پنجاب کے وزیرِاعلیٰ عثمان بزدار نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ملزمان کا ڈی این اے ضرور میچ کیا ہے لیکن وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اسی جانب اشارہ کرتے ایک صارف کہتے ہیں ’شاید ملزمان نے شہباز گل کا ٹویٹ پڑھ لیا تھا، اسی لیے بھا گ گئے۔
قبل ازیں موٹروے واقعہ میں ملوث ملزمان کو بدقسمت درندے کہنے پر بھی شہباز گل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹرپر موٹروے ریپ کیس کے ملزمان کی تصویر شئیر کرتے ہوئے شہباز گل نے کہا تھا کہ یہ وہ "بدقسمت درندے” ہیں جو اس واقعہ میں ملوث تھے۔ پنجاب پولیس جلد ہی انہیں گرفتار کرکے سزا دلوائے گی۔ ملزمان کیلئے بدقسمت درندے کا لفظ استعمال کرنے پر بھی عوامی کی طرف سے ان کی مذمت کی گئی تھی۔ ٹوئٹر صارف افتخار حسین کا کہنا تھا کہ اسکا مطلب ہوا کہ اگر انکا ڈی این اے نہ ملتا تو بد قسمت نہ ہوتے۔ میرے خیال سے یہ سب کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ایک اورٹوئٹرصارف نے مشیر وزیراعظم شہبازگل کی اصلاح کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمت نہیں بدبخت کہتے ہیں عمرشیخ جیسے درندے تم لوگوں کی صفوں میں موجود ہیں صفاٸی اپنے گھر سے شروع کروں۔
