کیا عمران خان نااہلی کے خطرے سے دوچار ہو چکے ہیں؟


سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی جانب سے اپنے خلاف دائر کردہ ہتک عزت کے دعوے سے 33 مرتبہ راہ فرار اختیار کرنے والے وزیر اعظم عمران خان کو عدالت نے جواب جمع کروانے کا آخری موقعہ دے دیا ہے۔ اگر اگلی پیشی پر بھی کپتان نے جواب جمع نہ کروایا تو انہیں 10 ارب روپے ہرجانے کی سزا ہوسکتی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق سزا یافتہ ممبر پارلیمنٹ صادق اور امین نہیں رہتا جس وجہ سے آئین کے آرٹیکل 62 اور63 کے تحت عمران خان بطور رکن اسمبلی نا اہل ہو کر وزارت عظمی سے بھی فارغ ہو سکتے ہیں۔
12 ستمبر کے روز شہبازشریف کی جانب سے دائر کردہ ہتک عزت کے کیس کی سماعت پر لاہور کی سیشن کورٹ کے ڈیوٹی جج نے عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے کے ہتک عزت کے دعوے پر ان کے وکیل کو 3 اکتوبر تک جواب جمع کروانے کا آخری موقع دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔ دعوے کی سماعت کرنے والے جج کے دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ایڈیشنل ڈسٹرک اینڈ سیشن جج سہیل انجم نے اس کیس کی سماعت کی۔ اس دوران جب وزیراعظم کے وکیل سے سوال کیا گیا کہ کیا درکار جواب جمع کروادیا گیا ہے تو انہوں نے اسکے لیے مزید وقت طلب کر لیا جس پر ڈیوٹی جج نے وکیل کو آخری موقع فراہم کرتے ہوئے سماعت 3 اکتوبر تک ملتوی کردی۔ اب آئندہ پیشی پر کپتان کو ہر صورت جواب داخل کروانا ہوگا ورنہ ان کے خلاف یکطرفہ فیصلہ سنا دیا جائے گا۔
شہباز نے عدالت میں جواب جمع نہ کروانے پر وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ‘عمران خان کے جھوٹ پر میں نے ہتک عزت کا جو دعویٰ کیا تھا اس میں وہ 33 مرتبہ التوا حاصل کرچکے ہیں جو کہ ایک نیا ریکارڈ ہے۔ شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ‘میں نے عدالت میں اس کیس کی روزانہ سماعت کرنے کی درخواست دائر کی ہے، 3 سال گزرنے کے باوجود عمران خان عدالت میں تحریری جواب جمع کروانے میں ناکام ہیں۔ شہباز شریف نے عدالت سے یہ درخواست بھی کی ہے کہ 33 مواقع ملنے کے بعد اب عمران خان کا جواب جمع کروانے کا حق ضبط کرلیا جائے کیوں کہ وہ مقررہ مدت کے اندر جواب جمع کروانے میں ناکام رہے ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ 3 اکتوبر کو آئندہ سماعت پر کپتان کو وکلا کو ہر صورت جواب داخل کروانا ہوگا ورنہ عدالت یکطرفہ فیصلہ سنانے کی مجاز ہے جس کا واضح مطلب کپتان کی اقتدار سے بیدخلی بھی ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ عمران خان نے تحریک انصاف کے چیئرمین کی حیثیت سے اپریل 2017 میں الزام لگایا تھا کہ شہباز شریف نے پاناما لیکس کے معاملے پر چپ رہنے اور مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے انکو 10 ارب روپے رشوت دینے کی پیشکش کی۔ اس الزام پر جولائی 2017 میں ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرتے ہوئے اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب نے عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا کیس دائر کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف اور انکے بھائی نواز شریف کا تعلق انتہائی معزز گھرانے سے ہے اور عوامی خدمت و فلاح و بہبود کی بنا پر درخواست گزار کا قومی اور بین الاقوامی سطح پر با پناہ عزت و احترام کیا جاتا ہے لیکن اس طرح کے بے بنیاد الزام سے ان کی ساکھ مجروح ہوئی ہے لہذا عمران خان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 10 ارب روپے ہرجانے ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔
عمران خان کے فیس بک اکاؤنٹ پر پوسٹ کردہ اس ویڈیو میں انہیں یہ کہتے ہوئے سنا گیا تھا کہ جے آئی ٹی کے معاملے پر اگر ہم چپ کرکے بیٹھ جائیں تو نواز شریف کے پاس بہت وسائل ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ یہ جب مجھے چپ کروانے کے لیے 10 ارب روپے آفر کرسکتے ہیں تو اداروں کو کتنا آفر کرسکتے ہیں؟ اپنے دعوے میں شہباز شریف نے عدالت سے اپنی شہرت داغدار کرنے پر عمران کے خلاف 10 ارب روپے کہ ڈگری جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button