بوٹ پالش کرنے کے فیصلے پر لیگی رہنما شرمندہ، کارکنان خفا

ووٹ کو عزت دو کے نعرے کو بوٹ کو عزت دو کے نعرے میں بدلتے ہوئے آرمی ترمیمی ایکٹ کے حق میں ووٹ دینے کے بعد مسلم لیگ نواز کے اکثر اراکین پارلیمنت شرمندہ نظر آتے ہیں اور اپنےکارکنوں سے منہ چھپاتے پھر رہے ہیں جو کہ اس فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ مسلم لیگ نواز کے اراکین پس پردہ بات چیت میں فیصلے کو پارٹی کی ساکھ کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی اس فیصلے پر کھل کر تنقید کرنے پر تیار نہیں ہے۔
لیگی کارکنان پارٹی قیادت سے سوال کر رہی ہے کہ بتایا جائے کہ کس وعدے پر ووٹ کی بجائے بوٹ کو عزت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، پارٹی کے کارکنان سوشل میڈیا پر آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی غیر مشروط حمایت پر سراپا احتجاج ہیں۔ بوٹ چاٹ مہم کے مبینہ سرخیل خواجہ آصف اب پارٹی کارکنوں کی ناراضگی سے متعلق بات کرنے کو ہی تیار نظر نہیں آتے بلکہ انہوں نے تو پارٹی کے دوسرے درجے کی لیڈرشپ کی طرف سے بوٹ پالش کرنے کے فیصلے پر شدید تنقید کے بعد نون لیگ کا واٹس ایپ گروپ ہی چھوڑ دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت کرنے پر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور پارلیمانی رہنما خواجہ آصف کے درمیان شدید کھچاؤ پیدا ہو چکا ہے۔ پارٹی کے ایک واٹس ایپ گروپ میں دونوں کے درمیان ترمیمی بل کی حمایت کے معاملے پر گرما گرمی ہوئی جس کے بعد خواجہ آصف نے واٹس ایپ گروپ بھی چھوڑ دیا۔ ذرائع کے مطابق شاہد خاقان عباسی ایک ماہ قبل لندن میں ہونے والے پارٹی اجلاس میں کیے گئے فیصلے پراعتماد میں نہ لیے جانے کی وجہ سے بھی سخت نالاں ہیں۔ اسی وجہ سے وہ ترمیم کی حمایت میں ووٹ دینے کے لیے اسمبلی میں نہیں آئے۔ ان کے علاوہ احسن اقبال نے بھی بل کی حمایت میں ووٹ نہیں دیا تھا۔ اسی طرح پرویز رشید نے بھی سینیٹ میں ترمیم کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔
دوسری طرف آرمی ایکٹ میں ترمیم کی حمایت کے بعد سوشل میڈیا پر لیگی کے کارکنان اس قدر برہم ہیں کہ خواجہ آصف کو جوابا کہنا پڑا کہ ’سوشل میڈیا پر تنقید آسان کام ہے لیکن کارکن باہر نکلنے اور مار کھانے کو تیار نہیں۔ ایک ٹی وی شو میں بات کرتے ہوئے خواجہ آصف کارکنوں پر پھٹ پڑے۔ کہنے لگے انڈیا میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر آکر مظاہرے کر رہے ہیں لیکن پاکستان میں لوگ ٹوئٹر اور فیس بک یا ووٹ کی حد تک سپورٹ کرتے ہیں ’ایک ٹویٹ کر دی اور اس کے بعد کریلے گوشت کھا کر سو گئے۔ ان کے خیال میں ہمارا فرض پورا ہو گیا۔‘
خواجہ آصف کا بیان سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر پارٹی کے کارکنان ان پر برس پڑے اور انہیں کارکنوں کی قربانیاں اور ان خی دھلائی کرتے ہوئے ان کے جلسوں میں حاضریاں یاد دلائیں۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف نے پارٹی کارکنان کی توہین کی ہے۔ ایک پارٹی کارکن نے ٹویٹر پر لکھا ’خواجہ صاحب آپ کی بہادری بھی دیکھ چکے ہیں۔ عوام، ایک سال سے زیادہ ہوگیا آپ کے منہ سے ایک لفظ ووٹ چوروں کے خلاف نہیں نکلا۔ آپ تو ڈر کے مارے یہ بھی نہیں بتا سکے کہ ووٹ چوری کس نے کیا۔ پہلے اپنے اندر جرات پیدا کریں پھر کسی کو طعنے دیں۔۔
ایک اور صارف نے لکھا کہ پارٹی قیادت ہمیں بتائے کہ کس وعدے پرووٹ کی بجائے بوٹ کو عزت دینے کا فیصلہ کیا گیا، خواجہ صاحب بتائیں کہ آپ کے حصے میں کیا آیا۔ ایک اور صارف نے لکھا کہ اگر 2 سال تک ووٹ کو عزت دینے کے نعرے لگا کر یوٹرن ہی لینا تھا تو اتنے دعوے کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ تو تھوک کر چاٹنے کے مترادف ہے۔
لیگی قیادت کے فیصلے سے کارکنان شدید بددلی کا شکار ہیں اور ہر پلیٹ فارم پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں پارٹی ساکھ کی بحالی کے حوالے سے سینئر لیگی رہنما رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ پارٹی کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل سے ثابت کرے کہ وہ ووٹ کو عزت دینے کے موقف پر قائم ہے۔ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت کے حوالے سے پارٹی قیادت کےفیصلے کو پہلے مشترکہ اپوزیشن کے اجلاس میں زیر غور لاکر رہبر کمیٹی کے حوالے کیا جاتا اور پھر آرمی ایکٹ کی حمایت کی بھی جاتی تو کسی کو اعتراض نہ ہوتا۔انھوں نے مزید کہا کہ کارکنوں کی تنقید مثبت ہے کیوںکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ووٹر اپنی عزت پہچان چکا ہے۔ پارٹی کے چند اراکین کو بھی اس بات پر اعتراض تھا کہ آرمی ایکٹ کی حمایت کرنے کا غلط طریقہ کار اختیار کیا گیا۔
دوسری طرف مسلم لیگ نواز کی ترجمان مریم اورنگزیب کاپارٹی ورکروں میں اشتعال کے سوال پر کہنا ہے کہ مسلم لیگ نواز جمہوری جماعت ہے، ہم کارکنان کے جذبات کا احترام کرتے ہیں اور ان سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ معاملے کی نزاکت کو سمجھیں۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button