بھارت سے تجارتی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی

وفاقی وزارت تجارت نے کہا ہے کہ بھارت کیساتھ تجارتی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے،ٹریڈ منسٹر کی تعیناتی کو بھارت کے ساتھ تجارت کی بحالی سے نہ جوڑا جائے۔

وزارت تجارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہتجارت معطل ہونے کے باوجود بھارت میں ٹریڈ منسٹر تعینات کرنے کے فیصلے کی سرکاری سطح پر تصدیق کی گئی ہے،بھارت کے ساتھ تجارتی پالیسی پر کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، بھارت میں ٹریڈ اور انوسٹمنٹ منسٹر کی تعیناتی کا تجارت بحالی سے کوئی تعلق نہیں ہے،موجودہ حکومت نے نئی دہلی سمیت 15 ٹریڈ افسران کی تعیناتی کی منظوری دی اور اسی طرح بھارت میں ٹریڈ اور سرمایہ کاری منسٹر کی تعیناتی معمول کی تعیناتی ہے۔

بیان کے مطابق نئی دہلی سمیت 15 ٹریڈ افسران کی تعیناتی کا عمل گزشتہ دور حکومت میں دسمبر 2021 میں شروع ہوا تھا اور یکم اپریل 2022 کو گزشتہ حکومت نے ٹریڈ افسران کی تعیناتی کی سمری سابق وزیراعظم کو بھجوائی تھی،سابق حکومت کی طرف سے فائنل کیے گئے ٹریڈ افسران کی منظوری موجودہ حکومت نے دی۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف حکومت کے دور میں اگست 2019 میں بھارت کے ساتھ تجارت معطل کردی گئی تھی جو تاحال معطل ہے، اس سے قبل بھارتی حکومت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کردیا تھا، جس کے بعد 7 اگست کو قومی سلامتی کمیٹی کے اہم اجلاس میں بھارت سے دوطرفہ تجارت کو معطل کرنے اور سفارتی تعلقات کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھارت سے تعلقات پر نظر ثانی اور تجارت معطل کرنے سمیت 5 اہم فیصلے کیے گئے تھے۔ بعدازاں پاکستان نے سفارتی تعلقات محدود کرتے ہوئے بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو ملک چھوڑنے کا حکم بھی دیا تھا۔

Back to top button