بھارت نے اقوام متحدہ کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش مسترد کردی

بھارت نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘مسئلہ کشمیر بارے تیسرے فریق کی ثالثی کی کوئی گنجائش نہیں ہے’۔
انتونیو گوتریس نے یہ پیشکش ایک روز قبل اسلام آباد میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کی تھی اور اقوام متحدہ کے سربراہ نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کا احترام کرتے ہوئے تنازع کشمیر کے حل کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے ثالث کی حیثیت سے اپنے کردار کی پیش کش کی اور کہا تھا کہ اس مقصد کے لیے ان کے ‘اچھے دفاتر’ استعمال کیے جاسکتے ہیں، پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے انہوں نے فوجی و زبانی کشیدگی کو کم کرنے کی ضرورت پر زور بھی دیا تھا۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی ثالثی کی پیشکش پر بھارت کی وزارت امورخارجہ کے ترجمان رویش کمار نے دعوٰی کیا ہے کہ ‘جموں و کشمیر کے مسئلے پر جس کو توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ غیر قانونی اور زبردستی پاکستان کے زیر قبضہ علاقوں کو چھڑانے کا ہے، مزید امور اگر کوئی ہے تو دو طرفہ بحث کی جائے گی، تیسرے فریق کے ثالثی کا کوئی کردار یا گنجائش نہیں ہے’۔ رویش کمار کا مزید کہنا تھا کہ ‘بھارت کو امید ہے کہ انتونیو گوتریش بھارت کے خلاف سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قابل اعتبار مستقل اور ناقابل واپسی اقدام اٹھانے پر زور دیں گے’۔
واضح رہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے الزام لگایا تھا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں عسکریت پسندوں کی پشت پناہی کرکے بھارت کے خلاف ‘پراکسی وار’ میں ملوث ہے جبکہ پاکستان نے اس الزام کی بار بار تردید کی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب بھارت نے تنازع کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کو مسترد کردیا ہے۔ جولائی 2019 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 70 سالہ پرانے تنازع کو حل کرنے کے لیے بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی اور اس پیش کش کو امریکا نے دہرایا بھی تھا تاہم بھارت نے اسے مسترد کردیا تھا۔
گزشتہ ہفتے بھارت نے ترک صدر رجب طیب اردگان کی بھارتی مقبوضہ کشمیر کے عوام کی غیر متزلزل حمایت کے بیان پر رد عمل دیتے ہوے ترکی سے کہا تھا کہ وہ ‘بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں’۔
گزشتہ روز اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘ہم سلامتی کونسل کی قراردادوں کو موثر طور پر کشیدگی کم کرنے کی ضرورت کے بارے میں موقف اختیار کر چکے ہیں’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘جموں و کشمیر میں انسانی حقوق اور آزادی کے مکمل احترام کی ضرورت کے لیے ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ لوگوں کو آزادانہ تحریک چلانی چاہیے جیسا کہ پاکستان میں ہے، مجھے امید ہے کہ یہ کام دوسری طرف (بھارت) میں بھی حاصل ہوگا، میں نے اس صورتحال پر اپنے اچھے دفاتر کی پیش کش کی ہے اور ہمارا موقف یہ ہے کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کیا جائے’۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین گروپ (یو این ایم او جی آئی پی) کو پوری رسائی دی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ پاکستان میں پہلے ہی موجود ہے اور اسے دوسری طرف بھی ہونا چاہیے’۔ اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا ‘سفارت کاری اور بات چیت ہی وہ واحد وسیلہ ہے جو اقوام متحدہ کے میثاق کے مطابق اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل اور امن کے استحکام کی ضمانت دیتا ہے’۔ نتونیو گوتریس نے مقبوضہ جموں و کشمیر اور لائن آف کنٹرول پر جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں دونوں ملکوں سے مستقل تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر زور دے رہا ہوں’۔
