بھکر کے آدم خور بھائی انسانی گوشت کھانے کے لئے دوبارہ تیار


مردہ انسانوں کا گوشت کھانے والے بھکر کے دو بھائیوں کو سزا مکمل ہونے پر رہائی تو مل گئی لیکن انہیں دوبارہ انسان خوری سے روکنے کے لیے حکام نے بھکر کی بجائے اب لاہور میں ان کے رشتہ داروں کے گھر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان پر نظر رکھی جا سکے۔
یاد رہے کہ بھکر کے نواحی علاقہ کہاوڑ کلاں کے رہائشی دو بھائی عارف عرف اپھل اور فرمان عرف پھاما کو 2 سالہ بچے کی لاش کو قبر سے نکال کر اس کا قورمہ بنا کر کھانے کے جرم میں سرگودھا کی خصوصی عدالت نے 12 سال قید کی سزا کا حکم سنا دیا تھا۔ دونوں بھائیوں کی سزا تین ماہ قبل مکمل ہو چکی تھی لیکن امن و امان کے پیش نظر انہیں تین ماہ کے لیے نظر بند کر دیا گیا تھا۔ اب ان دونوں کو ڈسٹرکٹ جیل بھکر سے رہائی کے بعد ان کے بھائی انتظار اور بھتیجے کامران کے حوالے کر دیا گیا ہے جو انہیں لاہور لے گئے ہیں جہاں وہ انڈر آبزرویشن رہیں گے۔
بتایا گیا ہے کہ ان انسان خور بھائیوں کی رہائی کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں کی جانب سے منفی رد عمل سامنے آیا تھا، جس وجہ سے انتظامیہ نے دونوں کو بھائیوں کو بھکر کی بجائے لاہور منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں آدم خور بھائیوں کو سینٹرل جیل میانوالی میں 12 سال کی قید مکمل کرنے کے بعد 25 مارچ کے روز رہائی ملی تھی لیکن شدید عوامی رد عمل کے بعد دونوں بھائیوں کو مزید تین ماہ کیلئے نظر بند کر دیا گیا تھا اور 22 جون کے روز ان کی رہائی عمل میں آئی ہے.
محمد عارف اور محمد فرمان کا تعلق بھکر کے گاؤں کہاوڑ تحصیل دریا خان سے ہے اور یہ علاقہ ضلع بھکر میں دریائے سندھ کے قریب واقع ہے۔
ان آدم خوروں کا خاندانی پیشہ زمینداری ہے اور دریائے سندھ کے ساتھ کچے کے علاقے میں زرعی زمین کا معقول رقبہ انکی ملکیت ہے۔ دونوں کے والد اور خاندان کے دیگر افراد علاقے میں اچھی حیثیت رکھتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں بھائی اپنے گھر میں تنہا رہتے تھے اور والدین اور بیوی بچے انھیں پہلے ہی چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ان دونوں کا گزر بسر بھی والد کی جانب سے فراہم کیے جانے والے اناج پر ہی تھا۔ یہ دونوں بھائی کوئی کام یا ملازمت نہیں کرتے تھے۔ گرفتاری کے وقت دونوں کی عمریں 35 سے 40 سال کے درمیان تھیں لیکن گذشتہ روز جب انھیں رہا کیا گیا تو ان کے چہرے پر جھریاں پڑ چکی تھیں، کمر میں بڑھاپے کے خم آ چکے تھے اور اٹھنے بیٹھنے میں دقت محسوس کر رہے تھے۔ یہ بات ہے اپریل سال 2011 کی جب مقامی تحصیل دریا خان میں مقامی لوگوں کی شکایات پر پولیس نے عارف اور فرمان کے گھر پر چھاپہ مارا اور وہاں سے انسانی گوشت برآمد ہوا۔
New Project 41
اس روز ملزمان نے ایک لڑکی کی میت قبر سے نکالی تھی اور اسے کھانے کی غرض سے گھر لے آئے تھے۔ پولیس نے دونوں بھائیوں کو گرفتار کر لیا اور ان پر قبروں کی بے حرمتی کے قانون کے تحت ایک سال قید اور دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ جرمانہ ادا نہ کرنے پر چھ مہینے مزید قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ مقامی سطح پر ان کے اس عمل پر سخت رد عمل کا اظہار کیا گیا تھا۔
تاہم سال 2013 میں انھیں رہا کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد اپریل 2014 میں علاقے کے لوگوں نے پھر شکایت کی کہ انھیں گوشت کی بو آ رہی ہے اور پولیس کو بلایا گیا۔ پولیس کے چھاپے میں ایک مرتبہ پھر ان دونوں بھائیوں کے گھر سے انسانی گوشت برآمد ہوا اور ایک بچے کا سر بھی ملا جس پر پولیس نے ایک مرتبہ پھر دونوں بھائیوں کو گرفتار کرلیا تھا۔ دوسری مرتبہ گرفتاری کے بعد دونوں بھائیوں پر انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا جس میں 4 مختلف دفعات درج کی گئی تھیں۔ تھانہ صدر، دریا خان نے بتایا تھا کہ دونوں بھائیوں کے خلاف 295 اے، 297، 201، 16 ایم پی او اور 7 اے ٹی اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت سرگودھا میں انھیں جون 2014 میں بارہ سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی اور وکلا کے مطابق انھوں جیل کے اندر کل چھ سال گزارنے تھے۔ پاکستان میں انسانی گوشت کھانے کے بارے میں کوئی قانون نہیں ہے اس لیے جب پہلی مرتبہ جب دونوں بھائیوں کو گرفتار کیا گیا تھا اس وقت انھیں قبروں کی بے حرمتی کے جرم میں سزا دی گئی تھی۔ اس قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ تین سال تک قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ جب یہ مسئلہ ابھر کر سامنے آیا تھا تو اس وقت قانون سازی کے لیے آواز اٹھائی گئی تھی اور اراکین اسمبلی نے اس وقت ایک بل بھی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔ یہ بل اطلاعات کے مطابق قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا تھا جس کے بعد بل سرد خانے کی نذر ہو گیا تھا۔
جیل ذرائع کے مطابق دوران قید ان کا رویہ انتہائی مناسب رہا اور ان کے چال چلن سے کوئی ایسا تاثر نہیں ملا کہ یہ لوگ نفسیاتی مریض ہیں۔ انھیں جسمانی بیماریوں کے علاج کی خاطر کچھ عرصہ پہلے ہسپتال بھیجا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا دماغی علاج کروایا گیا لیکن جیل ذرائع نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button