بیانیے کا اختلاف: چچا اور بھتیجی کی آپسی جنگ تیز

نیب کی قید سے رہائی کے بعد سے شہباز شریف اور مریم نواز کے مابین بیانیے کی جنگ میں شدت آگئی ہے اور چچا اور بھتیجی کے اختلافات کھل کر عیاں ہو گئے۔ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب شہباز شریف چاہتے ہیں کہ نواز شریف فیصلہ کریں کہ پارٹی کون لیڈ کون کرے گا اور اس کا بیانیہ کیا ہوگا؟ تاہم اگر بیانیے کا اختلاف برقرار رہا اور نواز شریف نے مزاحمتی موقف لے کر چلنے پر ہی اصرار کیا تو شہباز شریف ہمیشہ کے لیے سیاست کو خیرباد کہنے کا فیصلہ بھی کر سکتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مریم نواز اور ان کے ہمنوا مزاحمتی بیانیہ لے کر چلنے والے لیگی رہنماؤں نے شہباز شریف کی جانب سے پیپلز پارٹی کو پی ڈی ایم میں واپس لانے کی کوششوں پر اپنے سخت ترین بیانات کے ذریعے پانی پھیر دیا ہے جس کے بعد شہباز شریف بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں اور اپنے مفاہمتی بیانیے پر ڈٹ گے ہیں۔سینئر صحافی کامران خان کے ساتھ ایک انٹرویو میں شہباز نے یہ دعوی کیا ہے کہ نواز شریف جنرل باجوہ کی دل سے عزت کرتے ہیں اور وہ قومی مفاد میں اسٹیبلشمینٹ سے معاملات بہتر کرنے کے لئے اپنے بڑے بھائی کے پاؤں بھی پکڑ لیں گے۔ شہباز شریف کے مطابق جنرل باجوہ مانتے ہیں کہ نواز شریف نے ان کو بہت عزت دی اس لیے اب ہم ماضی کے قیدی بن کر نہیں رہ سکتے۔ انکا کہنا تھا ملک اس طرح آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ہم سب کو مل جل کر مشاورت کے ساتھ چلنا ہوگا اور اجتماعی بصیرت اور کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ قومی مفاد میں مصالحت کے لیے اگر مجھے نواز شریف کے پاؤں بھی پکڑ نا پڑے تو ایسا ضرور کروں گا کیونکہ یہ میرا قومی فریضہ ہے۔
دوسری جانب مریم نواز نواز اور ان کے والد نواز شریف کا شہباز شریف سے بالکل مختلف بیانیہ ہے اور وہ ابھی تک اصولی اینٹی اسٹیبلشمنٹ موقف اپنائے ہوئے ہیں۔ لیکن سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اب ٹکراؤ کی سیاست کا وقت گزر گیا اور شہباز شریف نے اس حقیقت کو ایک مرتبہ پھر کھلی آنکھوں سے تسلیم کر لیا ہے کہ مزاحمت سے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جنگ جیتنا ناممکن ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سیاسی طوفان گزرچکا اور بیانیہ تبدیل ہوچکا۔ اب واپس معمول کی سیاست شروع ہوچکی ہے اور آئندہ انتخابات کو ہدف بنالیا گیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ مفاہمتی چچا کی واپسی کے بعد مزاحمتی بھتیجی کو پیچھے ہٹنے ہو گا، چونکہ مزاحمت اور مفاہمت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ اب ایک بیانیہ اپنانا ہوگا۔۔ لہازا بدلتے ہوئے حالات میں مسلم لیگ (ن) کی سیاست میں ایک خاطر خواہ تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے۔ نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی جانب سے فوجی قیادت کے حوالے سے سخت بیانات اور اس پورے نظام کو گرا دینے کی باتوں کے بعد اب مفاہمت کی سیاست بحال کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اگرچہ تحریک انصاف کی حکومت پر حملے تو اب بھی جاری ہیں لیکن نظام گرانے کے حوالے سے مزید کوئی بات نہیں کی جارہی۔ شہباز شریف کے آنے کے بعد حکمتِ عملی میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے۔
تاہم ابھی تک مزاحمتی اور مفاہمتی بیانیہ لے کر چلنے والے نون لیگی رہنماؤں کا ایک بیانیہ اپنانے پر اتفاق نہیں ہو سکا اور نوازلیگ میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں۔ نون لیگ اب بھی واضح طور پر دو گروپس میں تقسیم ہے، ایک مریم کا گروپ ہے جو نواز شریف کا بیانیہ لے کر چلنے کا حامی ہے۔ دوسرا شہباز گروپ ہے جو چاہتا ہے کہ ٹکراؤ سے پرہیز کیا جائے اور مفاہمت سے کام لیتے ہوئے 2023ء کا الیکشن جیتنے پر فوکس کیا جائے۔ شہباز شریف چاہتے ہیں کہ نواز شریف اس حوالے سے واضح فیصلہ لیں اور وہ اسی مقصد کی خاطر لندن جا کر اپنے بڑے بھائی کے پاؤں پکڑنا چاہتے ہیں تاکہ ان کے مزاحمتی بیانیے کو مفاہمتی بیانیے میں تبدیل کروایا جا سکے۔
یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر نواز شریف نے پارٹی قیادت اور بیانیہ کے حوالے سے جلد فیصلہ نہ کیا تو پارٹی میں تقسیم مذید گہری ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا یے کہ نواز شریف کے بیانیہ کی وجہ سے ہی نون لیگ ضمنی الیکشن جیتی اس لیے یہی بیانیہ اگلے الیکشن میں کامیابی کی ضمانت ہے۔ انکا کہنا یے کہ میں اداروں سے بات چیت کی مخالف نہیں ہوں، اور بہ ہی شہباز شریف سے کوئی اختلاف ہے۔ لیکن شواہد مریم نواز کے اس موقف کے برعکس ہیں اور صاف پتا چلتا ہے کہ وہ اپنے چچا کے مخالف بیانیہ اپنائے ہوئے چل رہی ہیں۔ یاد رہے کہ حال ہی میں شہباز شریف کی جانب سے پیپلز پارٹی کو پی ڈی ایم میں واپس لانے کی کوششوں کو مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی نے اپنے مخالفانہ بیانات کے ذریعے سبوتاج کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ یہ افواہیں گرم ہیں کہ شہباز شریف وزارت عظمی حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کے دراصل مریم نواز اس وقت نواز شریف کا بیانیہ لے کر چل رہی ہیں لیکن چچا کے جیل سے باہر آنے کے بعد سے صورت حال بدلتی دکھائی دیتی ہے اور شہباز شریف کا مفاہمتی بیانیہ پارٹی پر غالب آتا جا رہا ہے۔ شہباز شریف کے قریبی ذرائع کے مطابق ن لیگ کے تقریباً تمام سینئر رہنماؤں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ شہباز کو فری ہینڈ دیا جائے، عمران خان کی حکومت کو ہدف بنایا جائے، اداروں سے محاذ آرائی نہ کی جائے، اور اداروں سے ڈائیلاگ کر کے معاہدہ کیا جائے جس میں حدود کا تعین کیا جائے۔
لہذا شہباز شریف بڑے بھائی نواز شریف سے آمنے سامنے بات کرنے کیلئے لندن جانا چاہتے تھے، تا کہ فیصلہ ہو سکے کہ پارٹی کا بیانیہ کیا ہوگا اور اسے کون لیڈ کرے گا، مریم نواز لیڈ کریں گی یا وہ خود لیڈ کریں گے۔ اسی طرح یہ بھی فیصلہ کرنا ہو گا کہ آئندہ کا وزیراعظم کون ہوگا؟ شہباز شریف چاہتے ہیں کہ نواز شریف اور مریم نواز اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ بند کریں، خاموشی اختیار کرلیں اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لیں، شہباز سمجھتے ہیں کہ اگر نواز شریف انہیں پارٹی کا مکمل کنٹرول دے دیتے ہیں تو پھر وہ اپوزیشن کی دوسری جماعتوں اور اداروں کے ساتھ ڈائیلاگ کریں گے، لیکن اگر نواز شریف اس پر نہیں مانتے تو وہ ہمیشہ کے لیے سیاست چھوڑ دیں گے۔
