بیرون ممالک پاکستانی بھیکاریوں کی تعداد کم کیوں نہ ہوسکی؟

پاکستانی بھیکاریوں کا عمرے اور زیارت کی آڑ میں سعودی عرب اور عراق جانے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے، جبکہ ان ممالک میں حکومتی سختیوں کے بعد بھیکاریوں کی بڑٰی تعداد نے دیگر ممالک کا رخ کر لیا ہے جن میں جاپان، ملائیشیا سمیت افریقی ممالک شامل ہیں۔یاد رہے کہ رواں برس اکتوبر کے آغاز میں ’’امت‘‘ میں اس ضمن میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی گئی تھی تاہم گزشتہ روز ایف آئی اے کی جانب سے ملتان ایئرپورٹ سے مزید 8 بھکاریوں کے پکڑے جانے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔’’امت‘‘ کو معلوم ہوا ہے کہ پاکستان سے سعودی عرب اور عراق وغیرہ جانے والے گداگروں کا سلسلہ 1990ء کی دہائی میں تیز ہوا، اس سے قبل سرائیکی علاقوں سے خصوصی طور پر بچوں کو خلیجی ممالک بھیجا جاتا تھا جہاں انہیں اونٹوں کی ریس میں استعمال کیا جاتا تاہم اس پر عالمی سطح پر مہم چلنے کے بعد یہ سلسلہ کم ہوا تو انہی علاقوں سے گداگروں کے پورے پورے خاندانوں کو خلیجی ممالک لے جانے کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا۔تازہ کارروائی کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ دو روز قبل ایف آئی اے امیگریشن کی جانب سے ملتان ایئرپورٹ پر بڑی کاروائی کی گئی۔ جس میں بیرون ممالک بھیک مانگنے کی غرض سے جانے والے 9 مسافروں کو آف لوڈ کر دیا گیا۔واضح رہے کہ اس معاملے میں رواں برس ستمبر کے آخر میں اس وقت حکومت نے ایف آئی اے کو ملک بھر کے ایئرپورٹس پر کریک ڈائون کی ہدایات جاری کی تھیں۔ جب سعودی عرب اور عراق سے درجنوں گداگروں کو حراست میں لے کر پاکستان ڈی پورٹ کیا گیا تھا۔کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری اوور سیز ذوالفقار حیدر نے بتایا تھا کہ حرم کے اندر سے جتنے جیب کترے پکڑے جاتے ہیں۔ ان کی اکثریت کا تعلق پاکستان سے ہوتا ہے اور یہ بڑی بدنامی کی بات ہے، ایف آئی اے امیگریشن حکام کی جانب سے ملتان، لاہور وغیرہ کے ایئرپورٹس پر اب تک 5 مختلف کارروائیوں میں 50 کے قریب ایسے شہریوں کو جہازوں میں بیٹھنے سے روک کر اس وقت آف لوڈ کر دیا گیا جب وہ عمرے کیلئے سعودی عرب جا رہے تھے۔’’امت‘‘ کو ایک سینئر ایف آئی اے افسر نے بتایا کہ اس وقت کم سے کم ایجنٹوں کے 50 سے زائد گروپوں نے مقامی گداگروں کے ذریعے سعودی عرب اور عراق میں بھیک منگوانے کا دھندا شروع کر رکھا ہے۔ عمرہ، زیارت اور تعلیم کی آڑ میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث یہ ایجنٹ ان گداگروں اور ان کے خاندانوں پر سرمایہ کاری کرتے ہیں اور ان کی کمائی سے ماہانہ وصولیاں کرتے ہیں تاہم ذرائع کے مطابق اس مافیا پر کنٹرول کرنے میں سب سے بڑی کوتاہی حکومت اور ایف آئی اے کی اپنی ہے کیونکہ جب بھی بیرون ملک سے بدنامی کی وجہ سے دبائو آتا ہے تو وقتی طور پر ایف آئی اے کو سرگرم کردیا جاتا ہے اور پھر معاملہ دبنے پر معمول کے مطابق خاموشی ہوجاتی ہے۔ 100 گدا گر اگر بیرون ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں تو کارکردگی دکھانے کیلئے 10 یا 15کو روک لیا جاتا ہے اور باقی نکل جاتے ہیں۔ کیونکہ ان پر ویزوں، پاسپورٹ اور ٹکٹ کی مد میں ایجنٹوں اور ان کے سرپرستوں نے لاکھوں روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہوتی ہے جن کے ضائع ہونے کے خدشات پر ایف آئی اے کے بعض افسران اور اہلکاروں کو سیٹنگ میں لے لیا جاتا ہے۔
