بینک اکائونٹس سے نکالی جانیوالی زکواۃ کہاں جاتی ہے؟

بینکوں کی جانب سے ہر سال ماہ رمضان کے دوران صاحب نصاب صارفین کے اکائونٹس میں سے زکواۃ کاٹ لی جاتی ہے، یکم رمضان کو اس اکاؤنٹ سے کل رقم کی 2.5 فیصد زکوٰۃ کی مد میں منہا کر لی جاتی ہے۔ایڈمنسٹریٹر جنرل زکوٰۃ نے گزشتہ سال ایک لاکھ 3 ہزار 159 روپے زکوٰۃ کے نصاب کا اعلان کیا تھا، جبکہ رواں سال اس میں 31 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے اور اس بار ہر اس سیونگ، فکسڈ یا پرافٹ اکاؤنٹ سے جس اکاؤنٹ کا بیلنس 1 لاکھ 35 ہزار 179 روپے سے زیادہ ہو، یکم رمضان کو 2.5 فیصد زکوٰۃ منہا کی گئی ہے۔بینکوں کے ذریعے کتنی زکوٰۃ جمع ہوئی؟ذرائع نے ’’وی نیوز‘‘ کو بتایا کہ سال 2022-23 میں ملک بھر سے 7 ارب 39 کروڑ 34 لاکھ روپے سے زائد رقم زکوٰۃ کی مد میں جمع ہوئی تھی۔ پنجاب سے 4 ارب 19 کروڑ ، اسلام آباد سے ایک ارب 85 کروڑ، سندھ سے 76 کروڑ، خیبرپختونخوا سے 50 کروڑ، بلوچستان سے 7 کروڑ، گلگت بلتستان سے 60 لاکھ جبکہ فاٹا سے 21 لاکھ روپے زکوٰۃ کی مد میں جمع ہوئے تھے۔’’وی نیوز‘‘ کو اسٹیٹ بینک، وزارت خزانہ اور نجی بینکوں سے معلومات حاصل کرنے پر معلوم ہوا کہ بینک اکاؤنٹ سے زکوٰۃ کی مد میں منہا کی گئی رقم اسٹیٹ بینک کے پاس قائم سینٹرل زکوٰۃ فنڈ کو منتقل ہوتی ہے، جہاں سے یہ رقم مستحق لوگوں میں ماہانہ گزارا الاؤنس، مدارس اور دیگر طلبا، ہسپتالوں میں مستحق لوگوں کے علاج پر خرچ کے لیے صوبائی زکوٰۃ فنڈ اور پھر ضلعی زکوٰۃ فنڈ میں منتقل کر دی جاتی ہے۔محکمہ زکوٰۃ پنجاب کو سینٹرل زکوٰۃ فنڈ سے 2023-24 کے لیے 3 ارب 94 کروڑ سے زائد رقم منتقل کی گئی ہے، جبکہ صوبائی زکوٰۃ فنڈ سے 25 کروڑ 29 لاکھ روپے منتقل کیے گئے ہیں۔ پنجاب میں ہر مستحق غریب کو زکوٰۃ فنڈ میں سے ماہانہ 1500 روپے بطور گزارا الاؤنس دیے جاتے ہیں، اس کے لیے 2 ارب 61 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ نابینا افراد کو 16 کروڑ 80 لاکھ روپے، 13 کروڑ روپے صوبائی ہسپتالوں کو، 16 کروڑ ضلعی صحت مراکز ، 11 کروڑ عام طلبہ کو معاوضہ، جبکہ 11 کروڑ دینی مدارس کے طلبہ، 54 کروڑ روپے ٹیکنیکل تعلیم حاصل کرنے والوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں، شادیوں کے لیے 18 کروڑ روپے جبکہ 44 کروڑ 80 لاکھ روپے انتظامی امور پر خرچ کیے جائیں گے۔صوبہ سندھ میں 2023-24 کے لیے زکوٰۃ کی مجموعی طور پر 3 ارب 39 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، اس میں سے ایک ارب 32 کروڑ روپے مستحق افراد کو ماہانہ 1500 روپے بطور گزارا الاؤنس دیے جائیں گے، دینی مدارس کے طلبہ کے لیے 5 کروڑ روپے، صحت کے شعبے کے لیے 6 کروڑ، سوشل ویلفیئر کے کاموں کے لیے 4 کروڑ مختص کیے گئے ہیں۔ فیملی ایجوکیشنل سروسز فاؤنڈیشن کراچی کے لیے 50 لاکھ، جبکہ غیر شادی شدہ لڑکیوں کی شادی کے لیے 7 کروڑ 20 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔صوبہ خیبرپختونخوا میں مستحق افراد کو ایک ہزار روپے ماہانہ گزارا الاؤنس دیا جاتا ہے، جبکہ غریب لڑکیوں کی شادی پر فی شادی 30 ہزار روپے خرچ کیے جاتے ہیں، لوکل زکوٰۃ کمیٹی کے تعین کے بعد ہی رقم جاری ہوتی ہے۔ضلعی سطح پر مستحق مریضوں کو ہسپتالوں میں 10 ہزار، جبکہ صوبائی سطح پر 50 ہزار روپے کا فری علاج کیا جاتا ہے، صوبہ خیبرپختونخواہ کے دینی مدارس میں زکوٰۃ فنڈ میں سے رہائشی طلبہ پر 1500 ماہانہ جبکہ روزانہ گھر سے آنے والوں پر 1000 روپے ماہانہ خرچ کیے جاتے ہیں۔

Back to top button