قیدی نمبر804سے ملاقاتوں پر پابندی کی اصل وجہ کیا ہے؟

اڈیالہ جیل کو دہشتگردوں کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کے خدشات کے پیش نظر بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت تمام قیدیوں سے ملاقاتوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، بادی النظر میں یہ فیصلہ گزشتہ دنوں بعض افغان مشکوک افراد کی گرفتاری عمل میں لانے کے بعد کیا گیا تاہم اسلام آباد میں موجود ایک باخبر ذریعے کے مطابق جیل میں قید عمران خان کی جانب سے یوتھیوں کے ذریعے ملک کو داخلی انتشار کا شکار کرنے کے حوالے سے سازشیں تیار کرنے کی اطلاعات کے بعد حکومت کی جانب سے ملاقاتوں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
درحقیقت اس فیصلے کے عوامل میں پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین کی اپنے ملاقاتیوں کے ساتھ پیغام رسانی کے بارے میں شواہد موجود ہیں جس کے ذریعے حکومتی امور اور قومی سطح کے فیصلوں میں کی جانے والی پیشرفت کمزور کرنے، قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی، رکاوٹیں ڈالنے اور کارروائی کی راہ میں مزاحم ہونے کیلئے منصوبہ بندی کی جارہی تھی۔ پھر پی ٹی آئی نے تنظیمی سطح کے وہ اہم فیصلے جسے کرنے کا مجاز صرف پارٹی چیئرمین ہی ہوتا ہے وہ بھی اڈیالہ جیل سے ہی ہوریے تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ نہ صرف صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی تقرری کا فیصلہ بھی اڈیالہ جیل سے ہوا، بلکہ کابینہ کی تشکیل کیلئے بھی وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور تمام فائلیں اور دستاویز لیکر اڈیالہ جیل پہنچے تھے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد انتقال اقتدار کے تمام مراحل بالخصوص وہ پارلیمانی امور جن میں صدر مملکت، وزیراعظم، قومی اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر اور اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کیلئے ووٹنگ کے دوران کی جانے والی ہنگامہ آرائی، وزیراعظم شہباز شریف، نواز شریف، خواجہ آصف کے سامنے آکر تضحیک آمیز ریمارکس اور اشتعال انگیز نعرے، یہ سب کچھ یہ ارکان بغیر قیادت کی ہدایت اور آشیرباد کے بغیر ہرگز نہیں کرسکتے تھے اور ظاہر ہے کہ یہ ہدایات اڈیالہ جیل سے ہونے والی ملاقاتوں میں دی جاتی تھیں۔ جن پر عملدرآمد کیلئے بعد میں مشترکہ حکمت عملی کیلئے مشاورت ہوتی تھی۔
بالفاظ دیگر اپوزیشن کی تمام سرگرمیاں، کے پی کے کی حکومت قومی اسمبلی میں ہونے والی پی ٹی آئی کے ارکان کی منفی حکمت عملی اڈیالہ جیل سے آنے والی ہدایات کے مطابق ہی ہو رہی تھیں۔ اب حال ہی میں آئی ایم ایف کو حکومت کی امداد روکنے کے حوالے سے لکھے جانے والا خط بھی موضوع بحث بنا رہا ہے۔ جسے تمام سیاسی قیادت نے ریاست دشمنی قرار دیا تھا۔ آئی ایم ایف کو خط لکھنے کی ہدایات بھی عمرانڈو قیادت کو جیل سے ہی ملی تھیں۔ اسلئے پنجاب حکومت کی جانب سے اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندی کے فیصلے کو اس تناظر میں بھی دیکھا جارہا ہے۔
تاہم دوسری جانب حکومتی ذمہ داران کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے سکیورٹی تھریٹس موصول ہونے کے بعد اڈیالہ جیل سمیت صوبے کی 5 جیلوں میں ملاقاتوں پرعارضی پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے، اڈیالہ کے علاوہ دیگر صوبوں سے ملحقہ سرحدی اضلاع اٹک ، میانوالی، ڈیرہ غازی خان اور بھکر کی جیلیں شامل ہیں، اڈیالہ جیل میں قیدیوں سے ملاقات پر 2ہفتے کی پابندی عائد کی گئی ہے،اڈیالہ جیل میں پابندی کا اطلاق بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت تمام اسیران پر ہوگاجن میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی،سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری سمیت سابق وفاقی وزراء اور ہائی پروفائل قیدی موجود ہیں،پنجاب حکومت نےوزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کوسکیورٹی تھریٹ کے باعث بانی پی ٹی آئی کیساتھ ملاقات سے بھی روک دیا ہے، محکمہ داخلہ پنجاب نے خیبرپختونخوا حکومت کے ڈپٹی سیکرٹری جوڈیشل کو خط میں لکھا ہے کہ موجودہ صورتحال میں وزیراعلیٰ کے پی کا دورہ اڈیالہ جیل ممکن نہیں ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے رپورٹس کی روشنی میں آگاہ کیا ہے کہ ریاست مخالف دہشت گروپ جنہیں ملک دشمنوں کی حمایت حاصل ہے ملک بھر میں افراتفری پھیلانے کیلئے سینٹرل جیل اڈیالہ کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں،کسی بھی ایسے سانحہ سے بچنے کیلئے ضروری اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ محکمہ داخلہ کی طرف سے آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو بھجوائے گئے احکامات میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ جیلوں کا سیکورٹی آڈٹ ، بم ڈسپوزل سکواڈ سے خصوصی چیکنگ، جیل میں آنے جانے والے اہلکاروں کی خصوصی چیکنگ، جیلوں میں مزید خاردار تاریں لگانے ، مذکورہ جیلوں میں ملاقاتوں پر عارضی پابندی کے علاوہ پولیس اور رینجرز کے دستوں کی فرضی مشقیں کروائی جائیں
خیال رہے کہ پنجاب کی جیلوں کےحوالے سے سیکورٹی تھریٹس کے بعد ملاقاتوں پر پابندی کی وجہ سے عمران خان سمیت 11ہزار 500 قیدی اور حوالاتی اپنے عزیز و اقارب سے نہیں مل سکیں گے۔تاہم آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر کے مطابق جیلوں میں 11ہزار 500قیدی اور حوالاتیوں کی جان و مال کی ذمہ داری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ ملاقاتوں سے زیادہ قیدیوں کی سیکورٹی اہم ہے۔ دو ہفتوں میں سیکورٹی آڈٹ مکمل کر کے ملاقاتیں دوبارہ کھول دیں گے۔
