بی ایل اے نے بلوچستان کے سابق چیف جج کی جان کیوں لی؟

بلوچستان ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس محمد نور مسکانزئی کے قتل کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کرتے ہوئے توتک کمیشن کی رپورٹ کو قتل کی وجہ قرار دیا ہے جو کہ مقتول جج نے 2014 میں تیار کی تھی۔ نور مسکانزئی کو جمعے کی شب عشاء کی نماز کے دوران حملہ آوروں نے مسجد کی کھڑکی سے گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔
محمد نور مسکانزئی کے قتل کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے دو میں سے ایک دھڑے نے قبول کی ہے۔ بی ایل اے چند سال قبل اسلم اچھو گروپ اور آزاد گروپ میں تقسیم ہو گئی تھی۔ بی ایل اے (آزاد گروپ ) کے ترجمان آزاد بلوچ نے ابتدائی بیان میں مسکانزئی کو ’ہائی پروفائل ہدف‘ قرار دیا تھا۔ حملے کے ایک دن بعد ٹیلی گرام پر جاری کیے گئے تفصیلی بیان میں کالعدم تنظیم کے ترجمان نے محمد نور مسکانزئی کے قتل کی وجہ توتک کمیشن کے فیصلے کو قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے 2015ء میں بھی سابق چیف جسٹس کو نوشکی میں ایک بم حملے میں نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی تاہم وہ محفوظ رہے۔
اب سوال یہ ہے کہ توتک کا واقعہ اور کمیشن کی رپورٹ کیا تھی؟ دراصل جنوری 2014ء میں بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے توتک میں اجتماعی قبر دریافت ہوئی تھی جس میں سے مجموعی طور پر 17 افراد کی تشدد زدہ لاشیں ملی تھیں۔ لاپتہ افراد کے لواحقین اور بلوچ سیاسی تنظیموں کا کہنا تھا کہ یہ لاشیں لاپتہ افراد کی ہیں لہذا تحقیقات کی جائیں۔ تب کے وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ نے معاملے کی تحقیقات کے لیے بلوچستان ہائی کورٹ کے جج محمد نور مسکانزئی پر مشتمل یک رکنی عدالتی کمیشن بنایا تھا۔ کمیشن نے مئی 2014ء کو اپنی رپورٹ بلوچستان حکومت کو جمع کرائی تھی جسے حکومت نے خفیہ رکھا۔ اگست 2014ء میں تین صفحوں کی ایک پریس ریلیز میں کمیشن کی رپورٹ کے کچھ مندرجات اور سفارشات کو منظر عام پر لایا گیا۔
توتک کمیشن کی رپورٹ میں حکومت، مسلح فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اجتماعی قبروں کے معاملے میں ملوث ہونے کے امکان کو مسترد کیا گیا تھا اور یہ کہا گیا تھا کہ ایک گواہ کے سوا کسی نے حکومت اور اداروں کے خلاف بیان ریکارڈ نہیں کرایا۔ تاہم عدالتی کمیشن نے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے آئینی فرض کی انجام دہی میں حکومت کو غفلت کا مرتکب قرار دیا تھا۔
توتک کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ’انگلیاں اس وقوعہ کی مناسبت سے سابق نگراں وزیراعلیٰ کے بیٹے میر شفیق الرحمان اور اس کے ساتھیوں کی طرف ہی اُٹھتی ہیں۔ جسٹس محمد نور مسکانزئی کے اہلخانہ نے کالعدم تنظیم کے بیان پرکوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے تاہم مقتول کے بیٹے گل خان مسکانزئی نے بتایا کہ ’ہمارے والد مطمئن زندگی گزار رہے تھے، انہیں اور نہ ہی خاندان میں کسی کو کسی خطرے کا ادارک تھا۔ والد خاران میں امن وامان کی خراب صورتحال کے پیش نظر معمول کی سکیورٹی پاس رکھتے تھے۔
یاد رہے کہ جسٹس محمد نور مسکانزئی یکم ستمبر1956 کو خاران کے علاقے کنری میں پیدا ہوئے۔ مسکانزئی نے 1980ء میں یونیورسٹی لاء کالج کوئٹہ سے وکالت کی ڈگری لی اور 1981ء میں باقاعدہ وکالت کا آغاز کیا۔بحیثیت وکیل جسٹس محمد نور مسکانزئی نے بطور سپیشل پراسیکیوٹر کام کیا اور کئی محکموں کے قانونی مشیر رہے۔ انہوں نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان اور بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین اور چیئرمین ایگزیکٹیو کمیٹی کی حیثیت سے فرائض انجام دیے۔
محمد نور مسکانزئی اپنے قتل سے چند ماہ قبل مئی 2022ء میں فیڈرل شریعت کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے۔ وہ اس عہدے پر تین سالوں تک فائز رہے۔ چیف جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ کی حیثیت سے وہ سود کے خلاف تاریخی فیصلہ دینے والے تین رکنی بنچ کے سربراہ تھے۔اس بنچ نے رواں سال اپریل میں ملک میں رائج سودی نظام کے خلاف درخواستوں پر 19 سالوں بعد فیصلہ دیا۔ بنچ نے سود کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے حکومت کو پانچ سالوں کے اندر معاشی نظام کو سود سے پاک کرنے کی ہدایت کی تھی۔ نور مسکانزئی دسمبر 2014ء سے اگست 2018ء تک بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی رہے۔ وہ ستمبر 2009ء میں بلوچستان ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج اورمئی 2011ء میں مستقل جج مقرر ہوئے تھے۔
