بے حس جیمز بانڈ پیار کرنے والا جذباتی مرد کیسے بن گیا؟

ماضی میں ایک دل پھینک، جذبات سے عاری اور عورت سے صرف جسمانی تعلقات پر یقین رکھنے والا جیمز بانڈ 007 اب بدلے ہوئے روپ میں ایک محبت کرنے والے شوہر اور شفقت کرنے والے باپ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ جیمز بانڈ نے یہ مختلف کردار اپنی حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم ’نو ٹائم ٹو ڈائی‘ میں ادا کیا ہے۔ جیمز بانڈ سیریز کی یہ واحد فلم ہے جس میں جیمز کو ایک سفاک قاتل، عیاش مرد اور دل پھینک شخص کی بجائے ایک جذباتی انسان کے روپ میں دکھایا گیا ہے۔

‘نو ٹائم ٹو ڈائی جیمز بانڈ سیریز کی 25ویں فلم ہے جو ڈینئیل کریگ کی بطور جیمز بانڈ پانچویں اور آخری فلم ہے۔ امریکی سینیماؤں میں اس فلم کی نمائش جاری ہے۔ دو گھنٹے دورانیے کی فلم نے اب تک باکس آفس پر 21 کروڑ ڈالر سے زیادہ کمائے ہیں، جب کہ اس پر کُل 31 کروڑ ڈالر کی لاگت آئی ہے۔ میٹرو گولڈن مئیر کی جانب سے پیش کی جانے والی ’نو ٹائم ٹو ڈائی‘ ایک مکمل ایکشن فلم ہے، جو فلم بینوں کو شروع سے آخر تک مگن رکھتی ہے۔ فلم میں جاندار ڈائیلاگ کے علاوہ بھرپور طنز و مزاح بھی شامل ہے جس نے سینیما ہالوں میں فلم بینوں کو کافی ہنسایا ہے۔

فلم میں میڈیلین سوان سے جیمز بانڈ کی محبت، اور بیٹی کے ساتھ مشفقانہ تعلق کے علاوہ مختلف مواقع پر اس کے غمی وخوشی کے مناظر بھی دکھائے گے ہیں جو اسکے ایک بدلے ہوئے جذباتی انسان کی چند مثالیں ہیں۔ فلم کی کہانی کچھ یوں ہے کہ جیمز بانڈ ’ڈبل او سیون‘ کی نوکری چھوڑ کر یورپ کے ایک پر تعیش علاقے میں پرسکون زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔ تاہم اس کے پرانے دشمن ایک بار پھر اس کو ڈھونڈ لیتے ہیں۔ اسی موقع پر بانڈ کا ایک پرانا دوست فیلیکس لائٹر جس کا تعلق سی آئی اے سے ہوتا ہے اور جس کے ساتھ اسکی پرانی دوستی تھی، جیمز کو ایک مشن پر جانے کے لیے آمادہ کرتا ہے۔

یاد رہے کہ فلم میں جیمز بانڈ کو برطانوی جاسوسی ادارے ایم آئی سیکس کا ایجنٹ دکھایا گیا ہے جو کہ ڈبل او سیون کی ملازمت چھوڑ چکا ہوتا ہے، فلم کی اصل کہانی تب شروع ہوتی جب بانڈ مشن پر جاتا ہے۔ ایکشن سے بھرپور اس فلم کی کہانی بانڈ کی گزشتہ پانچ فلموں کے گرد گھومتی ہے لہذا جن لوگوں نے ڈینئیل کریگ کے بطور جیمز بانڈ پچھلی فلمیں نہیں دیکھیں انہیں نئی فلم کی با آسانی سمجھ نہیں آ سکتی۔

فیلیکس، منڈیلین، ایم آئی سیکس کے سربراہ، جیمز کے معاون خصوصی ’کیو‘ اور منی پینی وہ کردار ہیں جو اس فلم کی پچھلی اقساط میں بھی ڈینئیل کریگ کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ ’نوٹائم ٹو ڈائی‘ کا اختتام گزشتہ فلموں سے کافی مختلف ہے جس نے جیمزبانڈ سیریز کو پسند کرنے والوں کو الجھن میں ڈال دیا ہے اور وہ اس سیریز کے آئندہ آنے والی قسط کے بارے میں وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ اس کی کہانی کیسی ہوگی اور آیا ڈینئیل کریگ دوبارہ بطور جیمز بانڈ ظاہر ہوں گے یا نہیں۔

فلم میں ’نو ٹائم ٹو ڈائی‘ کا مرکزی ولن ایک موقع پر جیمز بانڈ کو کہتا ہے کہ ’ہم دونوں کو ضرورت نے قاتل بنایا ہے۔ تمہارے پاس کسی کو مارنے کا لائسنس ہے، جبکہ میرے پاس ایسی وجوہات ہیں جنکی وجہ سے کسی کا قتل ضروری بن جاتا ہے۔ یعنی ہم دونوں کا مقصد ایک ہی ہے کہ دنیا کو رہنے کے لیے ایک اچھی جگہ بنایا جا سکے۔‘ تاہم فلم کی کہانی ولن کو منطقی انجام تک پہنچا کر یہ دکھانے میں کامیاب ہوتی ہے کہ دراصل بدی ہر روپ میں بدی ہی ہوتی ہے۔ 

یاد رہے کہ ڈینئیل کریگ کی بطور جیمز بانڈ پہلی فلم 2006 میں کسینو رائل کے نام سے جاری ہوئی تھی جس کے بعد 2008 میں ’کوانٹم آف سولیس‘، 2012 میں ’سکائی فال‘ اور 2015 میں ’سپیکٹر‘ ریلیز ہوئی تھیں، جن کو عوام میں کافی پذیرائی ملی تھی.

Back to top button