تاحیات نااہلی کیس کا سمیع اللہ بلوچ، آخر ہے کون؟

سپریم کورٹ میں تاحیات نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جہاں عدالت کے باہر مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اور جہانگیر ترین کو ریلیف کی فراہمی کے تذکرے زوروں پر تھے وہیں ججوں اور وکلا نے سمیع اللہ بلوچ کیس کا بار بار تذکرہ کیا، جس کے باعث عام پاکستانیوں میں تجسس پیدا ہوا کہ آخر یہ سمیع اللہ بلوچ کون ہیں اور ان کا کیس کیا ہے؟

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سماعت کرنے والے سات رکنی بینچ نے جمعے کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح اور سیاست دانوں کی تاحیات نااہلی کی مدت کے تعین سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کیا ہے۔ بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔اس مقدمے کی کارروائی میں سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیے گئے امیدواروں کی الیکشن ایکٹ 2017 میں کی گئی ترامیم کی روشنی میں الیکشن لڑنے کی اہلیت یا نااہلیت بارے حتمی فیصلہ کرنا چاہتی ہے۔

خیال رہے کہ آرٹیکل 62 ون ایف آئین کی وہی شق ہے جس کے تحت سابق وزیر اعظم نواز شریف اور استحکام پاکستان پارٹی کے چیئرمین جہانگیر ترین کو نااہل قرار دیا گیا تھا۔سپریم کورٹ اس بات کا مستقل تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیے گئے امیدوار تاحیات نااہل رہینگے یا الیکشنز ایکٹ 2017 میں کی گئی ترامیم کی روشنی میں الیکشن لڑ سکتے ہیں۔

اس مقدمے کی سماعت کے دوران ججوں اور وکلا نے سمیع اللہ بلوچ کیس کا بار بار تذکرہ ہوا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ سمیع اللہ بلوچ کون ہیں اور ان کا کیس کیا ہے؟

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران بلوچستان سے تعلق رکھنے والے قوم پرست رہنما اور بلوچ بلوچستان نیشنل پارٹی بی این پی ۔ مینگل کے رہنما ثنا اللہ بلوچ نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بتایا کہ سمیع اللہ بلوچ ان کے چھوٹے بھائی ہیں۔سمیع اللہ بلوچ بھی اپنے بڑے بھائی کی طرح بلوچستان اسمبلی کی نسشت کے لیے انتخابات میں حصہ لیتے رہے ہیں، تاہم 2008 اور 2018 کے انتخابات میں سمیع اللہ بلوچ کے کاغذات نامزدگی جعلی ڈگری کے باعث مسترد کر دیے گئے تھے۔

سمیع اللہ بلوچ نے کاغذات نامزدگی کے مسترد ہونے کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور یہ کیس مختلف مراحل سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ آف پاکستان پہنچا۔سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے 13 اپریل 2018 کو ایک تاریخی فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کو تاحیات قرار دیا تھا۔

سمیع اللہ بلوچ کیس میں سپریم کورٹ کے 2018 کے فیصلے کے پیش نظر قانونی مسئلہ پیدا ہوا، جب عدالت عظمیٰ نے فیصلہ دیا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کو ’تاحیات‘ قرار دیا تھا۔

یہ فیصلہ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس شیخ عظمت سعید، سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ نے جاری کیا۔

تاہم جون 2023 میں الیکشن ایکٹ 2017 میں ایک ترمیم لائی گئی، جس میں واضح کیا گیا کہ انتخابی نااہلی کی مدت تاحیات نہیں بلکہ پانچ سال کے لیے ہو گی۔

خیال رہے کہ آرٹیکل 62 ون ایف، جو پارلیمنٹ کے کسی رکن کے ’صادق اور امین‘ یعنی ایماندار اور صالح ہونے کی پیشگی شرط رکھتا ہے، وہی شق ہے جس کے تحت 28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو پاناما پیپرز کیس میں نااہل قرار دیا تھا۔

اسی طرح اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کو بھی اُسی سال 15 دسمبر کو سپریم کورٹ کے ایک الگ بینچ نے اسی شق کے تحت نااہل قرار دیاتھا۔فیصلے کے بعد نواز شریف اور جہانگیر ترین دونوں کو عوامی عہدہ رکھنے کے لیے نااہل قرار دیا گیا

جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے سنائے گئے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت کسی بھی رکن پارلیمنٹ یا سرکاری ملازم کی نااہلی مستقبل میں ’مستقل‘ ہو گی۔ ایسا شخص الیکشن نہیں لڑ سکتا اور نہ ہی پارلیمنٹ کا رکن بن سکتا ہے۔بینچ کی سربراہی کرنے والے اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے فیصلہ سنانے سے قبل ریمارکس دیے تھے کہ عوام ’اچھے کردار کے لیڈر‘ کے مستحق ہیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے ذریعے پارلیمنٹ کے انتخاب کے لیے امیدوار کی اہلیت پر عائد پابندی دیانت دار، راست باز، سچے، قابل اعتماد اور سمجھدار منتخب نمائندوں کی عوامی ضرورت اور عوامی مفاد کو پورا کرتی ہے۔

فیصلے میں ایک اضافی نوٹ لکھنے والے بینچ کے رکن جسٹس شیخ عظمت سعید نے لکھا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 63 کے بعض ذیلی آرٹیکلز میں نااہلی کی مدت متعین کی گئی ہے لیکن آرٹیکل 62 ون ایف میں ایسی شق نہیں ملتی کیونکہ آئین بنانے والوں نے ایسا نہ کرنے کا انتخاب کیا۔

Back to top button