بلوچستان میں الیکشن کے بعد حکومت کون بنائے گا؟

پاکستان کے دیگر علاقوں کی طرح بلوچستان میں بھی آٹھ فروری کو شیڈول انتخابات کے لیے سرگرمیوں کا آغاز ہو گیا ہے۔ رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں سیکیورٹی خدشات کے سائے میں سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہم شروع کرنے کے لیے پر تول رہی ہیں۔صوبے بھر میں قومی اسمبلی کی 16 جبکہ صوبائی اسمبلی کی 51 نشستوں پر مجموعی طور پر دو ہزار 465 کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں۔

بلوچستان میں 2024 کے عام انتخابات میں صوبائی سطح کی سیاسی جماعتوں میں بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل)، نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی باپ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی، جمہوری وطن پارٹی اور ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی میدان میں ہےقومی سطح کی جماعتوں میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز، پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی)، جمعیت علمائے اسلام (ف)، جماعتِ اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر شامل ہیں۔

تاہم بلوچستان میں قوم پرست سیاسی جماعت بی این پی مینگل کے سربراہ اختر مینگل اور ان کی جماعت سمیت پاکستان تحریک انصاف، پی کے میپ اور بعض آزاد امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے۔ تاہم بلوچستان ہائی کورٹ نے کوئٹہ کے حلقہ این اے 246 سے اُنہیں الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی ہے۔

بڑے پیمانے پر امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی مستردہونے بارے سیاسی جماعتوں کے تحفظات کے حوالے سے بلوچستان کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار سمجھتے ہیں کہ الیکشن کے ماحول میں ایسا ضرور ہوتا ہے کہ لوگ پہلے ہی یہ الزامات عائد کرتے ہیں کہ دھاندلی ہو رہی ہے۔اُن کے بقول ”اب تک ایک نئے لفظ کا اضافہ ہوا ہے کہ ہمیں ”لیول پلیئنگ فیلڈ“ نہیں دی جارہی اس سے قبل ہم شفافیت اور فری اینڈ فیئر الیکشن سنتے تھے۔”

شہزادہ ذوالفقار سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں حکومت سازی اور سیاسی اتحاد کے لیے ہوا کا رُخ دیکھ کر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ان کے بقول بلوچستان میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کی پوزیشن بہتر ہے کیونکہ اگر مرکز میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہو یا پاکستان پیپلز پارٹی کی وہ ان کے ساتھ اتحاد کر سکتے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) بلوچستان میں صوبائی سطح کی جماعتوں بی این پی اور پی کے میپ کی بھی اتحادی ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ نیشنل پارٹی کے ساتھ بھی اتحاد کر لیں۔

شہزادہ ذوالفقار نے بتایا کہ مرکز میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار کی دوڑ میں شامل ہیں۔ دونوں ہی جماعتوں نے حال ہی میں بلوچستان کے الیکٹ ایبلز کو ساتھ ملا لیا ہے۔ ایسے میں انہیں بلوچستان میں حکومت سازی کے لیے صرف جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ساتھ ہی اتحاد کی ضرورت پیش آ سکتی ہے جو ایک مضبوط اتحاد بن کر ابھرے گی۔

بلوچستان کے سینئر صحافی رشید بلوچ کے خیال میں بی اے پی یعنی باپ 2018 میں جلد بازی میں بنایا گیا ایک ایسا پروجیکٹ تھا جو 2024 کے انتخابات کے آتے ہی اپنا وجود کھو چکا ہے۔ جو سیاسی رہنما باپ میں تھے وہ پارٹی چھوڑ کر مختلف جماعتوں مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی میں جا چکے ہیں۔ اب اگر ہم باپ پارٹی کو دیکھتے ہیں تو اس میں سوائے ایک یا دو الیکٹ ایبلز کےکوئی نظر نہیں آتا۔

رشید بلوچ کے مطابق بلوچستان میں قوم پرست جماعتوں میں سے نیشنل پارٹی عام انتخابات میں بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب ہو سکتی ہے اور دوسری قوم پرست جماعت بی این پی کے لیے بہت سی مشکلات موجود ہیں۔ماہرین کے مطابق بلوچستان کی عوام یہاں کی قوم پرست سیاسی جماعتوں کو ووٹ دینے کے حق میں ہیں لیکن لگتا یہ ہے کہ یہاں قومی سطح کی سیاسی جماعتوں کو بھی پذیرائی مل سکتی ہے۔

شہزادہ ذوالفقار کہتے ہیں کہ جس طرح 2013 اور 2018 کے عام انتخابات کے دوران بلوچستان میں حالات خراب تھے اس بار ایسا نہیں لگتا کہ بلوچستان میں انتخابات کے دوران سیکیورٹی کے زیادہ مسائل ہوں گے۔اُن کے بقول سن 2013 کے عام انتخابات ہم نے دیکھا کہ سیکیورٹی کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے ٹرن آؤٹ بہت کم رہا اور پولنگ کے دن بہت کم تعداد میں لوگ ووٹ ڈالنے نکلے تھے۔اُن کے بقول الیکشن میں انہی سیاسی جماعتوں کو کامیابی ملی جو تمام مشکلات کے باوجود اپنے ووٹرز کو گھروں سے پولنگ اسٹیشن تک لانے میں کامیاب ہوئے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں آئندہ انتخابات کے انعقاد کے بعد حکومت سازی اور وزارت اعلیٰ کی دوڑ میں سابق وزرائے اعلیٰ جام کمال خان، نواب محمد اسلم رئیسانی، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور سابق وزیرِ اعلیٰ قدوس بزنجو شامل ہیں۔اس کے علاوہ نوابزادہ گزین مری، سابق نگراں وفاقی وزیرِ داخلہ سرفراز بگٹی سابق صوبائی وزیرِ ظہور بلیدی اور دیگر شخصیات بھی اس دوڑ میں شامل ہو سکتے ہیں۔

Back to top button