8 فروری کو الیکشن ہوئےتو بربادی نہ ہوئے تو خانہ خرابی؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ اللّہ خان نیازی نے کہا ھے کہ پاکستان کو درپیش انتہائی سنجیدہ اور پیچیدہ بحران چند مہینوں کا شاخسانہ نہیں اس کی فصل دس بارہ سال پہلے بوئی گئی ، اب یہ فصل تیار ہے ، کٹائی کا وقت آن پہنچا ہے ۔ صورتحال کچھ یوں ہے کہ عمران خان کی سیاست کے علاوہ تمام سیاسی جماعتیں بے دست و پااور بے اثر ہو چکی ہیں ۔جنرل باجوہ کا پلان مملکت کو ایک گہری دلدل میں دھکیل گیا ہے ۔ 8 فروری کو الیکشن ہو گئے تو بربادی اور اگر نہ ہوپائے تو خانہ خرابی ھوگی ۔ اپنے ایک کالم میں حفیظ اللّہ خان نیازی لکھتے ہیں کہ پچھلے 10/12سال کی جانچ پڑتال کئے بغیر آج کے بحران کو سمجھنا اور اس سے نبٹنا ناممکن ھے ۔ اس میں دو رائے نہیں کہ عمران خان کیخلاف 8مارچ 2022ء کی تحریک عدم اعتماد کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل تھی ۔ اس سے پہلے 17 اگست 2018ء کو عمران خان وزیراعظم منتخب ہوئے تو 176ووٹ بھی اسٹیبلشمنٹ کی محنت شاقہ کا نتیجہ تھے۔ اکتوبر 2019ء میں فضل الرحمٰن کا مارچ بھی جنرل باجوہ کی توسیع کیلئے تھا۔ توسیع مل گئی تو عمران خان کی افادیت بھی ختم ہو گئی۔ بلاشبہ اکتوبر 2020ءمیں اپوزیشن پارٹیوں کی ’’عمران خان ہٹاؤ تحریک‘‘ کا آغاز اسٹیبلشمنٹ کی ایما پر تھا۔ مقصد عمران خان حکومت کو متزلزل رکھنا اور داؤ لگے تو اس سے جان چھڑانا تھا۔ جیسے اپریل2014ء میں نواز شریف کیخلاف عمران / قادری جوڑے کو آزمایا گیا۔ 2021ء کے آخر تک، یہ بات زباں زدعام تھی کہ اسٹیبلشمنٹ کا عمران خان سے جی بھر چکا ھے ۔اسٹیبلشمنٹ کا اپنی لڑائی دوسروں کے ذریعے لڑنا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے۔ یہ خوش قسمت بھی ہے کہ اسے، ہمہ وقت ایسی سہولت باآسانی دستیاب رہتی ہے۔
حفیظ اللّہ نیازی بتاتے ہیں کہ جنرل فیض حمید جو جنرل باجوہ کے انتہائی قریب اور عمران خان کے بھر پور اعتماد سے سر شار تھا ، ایک بد مست ہاتھی بن کر دندنا رہا تھا ۔ یہی وہ وقت جب جنرل باجوہ شعوری طور پراپنے ہی ادارے سے کھلواڑ شروع کر چکے تھے ۔
اکتوبر 2021ء میں باقاعدہ ایک منصوبہ بندی کیساتھ جنرل فیض کی جگہ جب جنرل ندیم انجم کو تعینات کیا تو تاثر عام تھا کہ عمران خان کو بے وُقعت کیا گیاہے ۔ جنرل فیض حمید سبکدوش تو ہوئے مگر ادارے میں سازشوں کو جگہ دینے کے بعد۔۔۔۔ عمران خان نے بھی بغیر الفاظ چبائے، جنرل فیض حمید پر اپنے اعتماد کے تاثر کو تقویت دی۔ وہ جنرل فیض کو اپنی حکومت کی گارنٹی سمجھتے تھے۔ یعنی کہ عمران خان عملاً اسٹیبلشمنٹ ٹریپ میں آ چکے تھے ۔ دوسری طرف اسی پیرائے میں اپوزیشن بھی اسٹیبلشمنٹ کے جال میں بخوشی پھنسنے پر آمادہ نظر آئی، چشم تصور میں وہ جنرل فیض کی موجودگی کو اپنے مستقبل کیلئےخطرہ سمجھ چکے تھے۔ ان کا یہ خیال راسخ ھو چکا تھا کہ عمران خان جنرل فیض کے ذریعے انکی سیاست کو دفنا دینگے۔
حفیظ اللّہ خان نیازی کے مطابق جنرل باجوہ ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتے تھے چنانچہ دسمبر 2021ء میں مریم نواز کو مشورہ دیا گیا کہ تحریک عدم اعتماد آپ کے لیے ایک جال ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کی ٹھن چکی ہے ۔ فروری مارچ 2022ء میں گھمسان کا رَن پڑنا ہے، تاریخ میں پہلی بار یہ لڑائی اسٹیبلشمنٹ کو خود لڑنے دیں۔نہیں تو نواز شریف کی سیاست کو اسکا ناقابل تلافی نقصان پہنچنے گا ۔ مریم بی بی کا جواب تھا کہ ، ’’جنرل فیض اگر آرمی چیف بن گئے تو پھر اگلے 10 سال عمران خان نے جان نہیں چھوڑنی‘‘ ۔ جواباً انہیں بتایا گیا کہ جو سودا اسٹیبلشمنٹ آپ کو بیچ رہی ہے اور آپ نا سمجھی میں یا کچھ مفادات پرستوں کے مفاد میں اسکو خرید رہے ہیں ۔ یہ فقط تباہی و بربادی کا راستہ ہے ” ۔اکتوبر 2021ء میں ہی اسٹیبلشمنٹ، اپوزیشن جماعتوں سے معاملات طے کر چکی تھی۔ عمران خان کا مکو ٹھپنا اداراتی فیصلہ تھا ، بالفرض محال جنرل فیض کو چیف بنا دیا جاتا یا کوئی اور فوج کا سربراہ بنتا ، نئے چیف کا پہلا کام ایک ہی ھونا تھا کہ عمران خان قصہ پارینہ بنے ۔ افسوس ! اپوزیشن جماعتیں اس وقت تک خودکش جیکٹ پہن چکی تھیں اور کسی طور اسے اتارنے پر آمادہ نہ تھیں۔
حفیظ اللّہ نیازی لکھتے ہیں کہ 8 مارچ کو

ج

یسے

ہی تحریک عدم اعتماد آئی، چند ماہ کی حکومت کے حصول میں نواز شریف کی 40 سالہ سیاست دفن ھو گئی۔ عمران خان کا ” اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ ” ہونا مسلم لیگ ن کو منتقل ہو گیا جبکہ نواز شریف کا مقبول ” اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ ” عمران خان نے آناً فاناً اُچک لیا اور اپنے سارے گناہ معاف کروا لئے۔ جب نئی مقبولیت ملی تو ان کا آپے سے باہر ہونا بنتا تھا ، اس تگ و دو میں اصول و ضوابط ، اخلاق ، قانون سب کچھ روند ڈالا ۔باجوہ پلان تھا کیا ؟ عمران خان کو ہٹا کر نگران حکومت کا قیام ، نہ کہ شہباز شریف کو حکومت دینا ۔ جنرل باجوہ 2021 سے یکسو تھے کہ عمران خان کو ہٹا کر کسی طور نگران حکومت لائی جائے تا کہ انہیں نومبر 2022 کو تاحیات توسیع مل سکے ۔ اس دُھن میں اپنے ادارے کو اپنے ہی ادارے کیخلاف استعمال کیا۔ مگر ناکامی نے منہ چڑایا کہ اللہ کی اسکیم نے غالب آ نا تھا ۔ جنرل باجوہ اس طرح بے آبرو ہو کر رخصت ہوئے کہ آج کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ۔ اس اکھاڑ پچھاڑ نے پاکستان کا سیاسی عدم استحکام ایسے مقام پر پہنچ چکا جیسے 1971 میں مشرقی پاکستان کا بحران تھا ۔ آج ملکی سیاست عمران خان کے قبضہ میں جبکہ کُلی ریاستی طاقت اسٹیبلشمنٹ کے کنٹرول میں ہے ۔ جب سے موجودہ نئی اسٹیبلشمنٹ وجود میں آئی ہے اسکی ترجیح نہ تو شہباز حکومت گرانا تھی نہ توسیع مدت ملازمت اور نہ ہی کسی جرنیل کا راستہ روکنا ہے۔انکی پہلی ترجیح عمران خان کا سیاسی مکو ٹھپنا بن گئی ھے ۔ اس سارے عرصہ میں ملکی سیاسی بحران توجہ کا مرکز بن پایا نہ پہلی ترجیح بن سکا ۔ اس وقت راستہ ایک ہی ھے ۔ اگر مملکت کو بچانا ہے توموثر سیاستدانوں کو ایک کمرے میں بند کر کے اس وقت تک بٹھانا ہوگا جب تک اتفاق رائے پیدا نہ کر لیں ۔ سب کو مل کرریاست کو بچانے کا فارمولا دینا ہو گا ، وگرنہ مملکت کی داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں۔

Back to top button