تاخیر کے بغیر پنجاب اور کے پی کے میں الیکشن میں جائیں گے

تحریک انصاف کے رہنما  فواد چوہدری نےپارٹی چیئرمین عمران خان کی جانب سے قبل از وقت انتخابات کے لیے حکومت کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش واپس لینے کے ایک روز بعدکہا ہے کہ سابق وزیراعظم نے اراکین صوبائی اسمبلیوں کو اپنے حلقوں میں جانے اور انتخابات کی تیاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک بیان میں فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان نے ممبران اسمبلی کو ہدایت کی ہے کہ وہ حلقوں میں واپس پہنچیں اور انتخابات کی تیاری کریں،پی ڈی ایم اگر انتخابات سے ایسے ہی بھاگتی رہی جیسی اب بھاگ رہی ہے تو ہم مزید وقت ضائع کیے بغیر پنجاب اور پختونخوا کےصوبائی انتخابات کے لیے جائیں گے اور قومی اسمبلی کے انتخابات بعد میں ہوں گے۔

خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ عمران خان کے حکم پر خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی،ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ بھان متی کا کنبہ گہرے بھنور میں پھنس چکا اور ان کے پاس نئے انتخابات کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچا، خیبرپختونخوا کے ایم پی ایز وزیراعلیٰ محمود خان کی قیادت میں متحد ہیں، عمران خان کے حکم پر خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی۔

گزشتہ روز وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے ایک ٹوئٹ میں ایک بار پھر عمران خان کی حمایت کا اعادہ کیا،ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک بیان میں وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔ پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے عمران خان کے اشارے کے منتظر ہیں۔جس کا ساتھ دیتے ہیں اس کا ساتھ نبھاتے ہیں۔

علاوہ ازیں پی ٹی آئی کے اتحادی عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے ٹوئٹرپر کہا عمران خان 30دسمبرتک الیکشن کی تاریخ لے گا یا اسمبلیاں توڑدےگا، گیند حکومت کےکورٹ میں ہے، سیاست آباد کریں یابربادکریں، حکومت کا اپنا سابق وزیر مفتاح اسمٰعیل ان کی معیشت کا پوسٹ مارٹم کر رہا ہے، چار چار وزرا مل کربھی بیانات دیں توکوئی ان کی بات نہیں سنتا، حکومت عوام میں جانےکے قابل نہیں ہے، الیکشن سےفرار کے بجائے الیکشن کی تیاری کریں۔

جمعے کے روز کے پی اسمبلی اراکین اسمبلی سے اپنی زمان پارک رہائش گاہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ وہ رواں ماہ پنجاب اور کے پی اسمبلیاں تحلیل کرنے اور پاکستان کے 66 فیصد انتخابات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں،سابق وزیر اعظم نے حکومت کو بیٹھ کر بات کرنے اور عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کی پیشکش کی تھی اور کہا تھا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے جہاں ان کی پارٹی کی حکومت ہے۔

گزشتہ روز سابق وزیراعظم کے اس بیان پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر عمران خان مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو سیاسی طریقہ کار اپنائیں ورنہ دھمکی آمیز اور مشروط مذاکرات نہیں ہوں گے۔

دوسری جانب عمران خان کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے بھی جواب میں ٹوئٹ کیا تھا، انہوں نے ’اکتوبر 2023‘ لکھا اور اس کے ساتھ نیوز چینل پر چلنے والے نیوز ٹکر کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا۔

Back to top button