تاریخی شاہی قلعے کو شادی گھر بنانے کا ذمہ دار کون؟

لاہور کے تاریخی شاہی قلعے میں ایک کاروباری خاندان کی طرف سے مہندی کی تقریب منعقد ہونے کی خبریں سوشل میڈیا پر آنے کے بعد انتظامیہ کو سخت تنقید اور سوالات کا سامنا ہے کہ کس طرح کسی بھی مہذب ملک میں چند پیسوں کی خاطر ثقافتی ورثے کو شادی کی تقریب کیلئے استعمال کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے اور وہ بھی حکومتی سطح پر۔
رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد شاہی قلعے کی انتظامیہ نے وضاحتی مؤقف میں کہا کہ ان سے جھوٹ بول کر کارپوریٹ ایونٹ کے نام پر مہندی کی تقریب کی منعقد گئی جس پر ذمہ داروں کیخلاف فوری کارروائی کی گئی۔ تاہم ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ موقف جھوٹ پر مبنی ہے اور انتظامیہ اس سے پہلے بھی یہاں شادی بیاہ کی درجنوں تقاریب کی اجازت دے چکی ہےاور مقصد صرف ایک تھا کہ پیسے بنائے جائیں۔ ناقدین نے اس بات پر بھی شدید ردعمل دیا ہے کہ ثقافتی ورثے کی حامل تاریخی عمارات میں کیا کارپوریٹ ایونٹس منعقد کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دراصل تاریخی عمارات کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا سلسلہ تب شروع ہوا جب بادشاہی مسجد کی انتظامیہ نے نئے شادی شدہ جوڑوں سے اپنے فوٹوشوٹ کے لئے پیسے چارج کرنا شروع کیے۔ تاہم فوٹو شوٹ سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ اب مہندی اور نکاح کی تقاریب کے انعقاد تک پھیل چکا تھا۔
یاد رہے کہ 9 جنوری کے روز لاہور کے تاریخی ورثے شاہی قلعہ میں ایک مہندی کی تقریب کے حوالے سے خبر اس وقت منظر عام پر آئی جب ٹوئٹر کے ایک صارف نے ٹویٹ کی کہ ’لاہور کے شاہی قلعہ میں واقع شیش محل میں اہم کاروباری خاندان کی طرف سے مہندی کی تقریب رکھنے کی خبر تباہ کن ہے۔ یہ عمارت تاریخی ورثہ کے لحاظ سے انتہائی اہم ہے جس کی دیواریں نازک ہیں۔ ایسی تقریب کی اجازت کس نے دی ؟
اس ٹویٹ کے بعد ٹوئٹر پر ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا اور شاہی قلعے میں ہونے والی مہندی کی اس تقریب کے حوالے سے کئی سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے بھی سخت تنقید دیکھنے میں آئی اور انتظامیہ کو خوب آڑے ہاتھوں لیا گیا۔
ٹوئٹر پر جہان داد خان نے لکھا کہ ’ایسی جگہ پر مہندی کی تقریب ہونا انتہائی خوفناک ہے، جو ہمارا ورثہ ہے’۔اظہر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے لکھا کہ ‘کمال کی بات ہے کوئی ایسا کیسے کر سکتا ہے۔ کیا کوئی دیکھنے پوچھنے والا نہیں ہے’۔
ایسی ہی تنقید کئی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے سامنے آئی جن میں یہ بھی لکھا گیا کہ ’اس مہندی کی تصاویر یونیسکو والوں کے ہیریٹیج ڈیپارٹمنٹ کو بھیجی جائیں‘۔
یاد رہے کہ لاہور کے شاہی قلعے کو یونیسکو کے ورلڈ ہیریٹج لسٹ میں شامل کیا گیا ہے جس میں قلعے کا شیش محل بھی شامل ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر شدید رد عمل آنے کے بعد شاہی قلعے کے انتظامی امور دیکھنے والا محکمہ والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی حرکت میں آیا اور ایک وضاحتی بیان جاری کیا۔جس میں محکمہ کی طرف سے مؤقف دیا گیا کہ شاہی قلعے میں مہندی کی تقریب کے لیے باقاعدہ اجازت نہیں لی گئی تھی بلکہ درخواست میں ایک کارپوریٹ عشائیے کے لیے اجازت طلب کی گئی تھی۔
والڈ سٹی اتھارٹی کے مطابق اجازت نامے میں صرف لاہور شاہی قلعے کے شاہی کچن کے احاطے میں یہ ڈنر کرنے کی اجازت دی گئی اور ساتھ ہی ممنوعہ چیزوں اور سرگرمیوں کی لسٹ بھی دی گئی تھی۔ جبکہ ممنوعہ چیزوں کی فہرست میں یہ شق بھی شامل تھی کہ اس جگہ پر کسی قسم کی شادی کی تقریب کی اجازت نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوا تو درخواست گزار کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے گی اور تقریب کو اسی وقت روک دیا جائے گا۔
حکام کے مطابق پاکستان کی نامور کھاد بنانے والی کمپنی فاطمہ فرٹیلائز نے لاہور والڈ سٹی اتھارٹی کو اپنی کمپنی کے نام سے ایک درخواست دی تھی جس کے مطابق انھوں نے کمپنی کے ایک کارپوریٹ عشائیے کے لیے اجازت طلب کی تھی۔درخواست کے مطابق اس ڈنر میں سو لوگوں کی شرکت کا بتایا گیا اور لکھا گیا کہ شام سات بجے سے لے کر رات دس بجے تک اس کھانے کی دعوت کے لیے اجازت دی جائے۔ جس کے بعد لاہور والڈ سٹی کی جانب سے 5 لاکھ روپے فیس اور ایک لاکھ روپے سکیورٹی لے کر کھاد بنانے والی کمپنی کو اجازت دے دی گئی۔ کمپنی کے نام پر لاہور قلعے میں تقریب کی اجازت ملنے کے بعد فاطمہ فرٹیلائزز نے 9جنوری کی شب ڈنر کے بجائے وہاں مہندی کی تقریب منعقد کرلی۔
مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر شدید رد عمل کے بعد والڈ سٹی اتھارٹی لاہورکے انچارج بلال طاہر کو فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹانے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں. البتہ اس وضاحتی بیان میں اس بات سے انکار نہیں کیا گیا ہے کہ جس فنکشن کا لوگ ذکر کر رہے ہیں وہ سرے سے وقوع پذیر ہی نہیں ہوا۔ بلکہ یہ بتایا گیا کہ کمرشل بنیادوں پر حضوری باغ اور شاہی کچن میں کارپوریٹ ایونٹس منعقد کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔دوسرے لفظوں میں شاہی کچن ایسی تقاریب کے لیے کرائے پر دستیاب ہے جو کہ کاروباری نوعیت کی ہیں۔ یعنی ہزاروں سال پرانی یہ عمارات چند لاکھ روپوں کی خاطر بیشک تباہ ہو جائیں، کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔
اس حوالے سے ڈی جی والڈ سٹی کامران لاشاری کا کہنا تھا کہ ہم کبھی کبھار کارپوریٹ تقریبات کے انعقاد کی اجازت دیتے ہیں جبکہ وہ بھی صرف ایک مخصوص احاطے کی حد تک دی جاتی ہے۔ کامران لاشاری نے وضاحت کی کہ شیش محل میں کسی قسم کی تقریب کی اجازت نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شاہی کچن عرصہ دراز سے مٹی کا ڈھیر بنا ہوا تھا، ہم نے اس جگہ کو صاف کیا اور اس کے تعمیر سمیت تزئین و آرائش کا کام مکمل کر کے اسے دوبارہ کھڑا کیا۔ اس کے بعد یہاں کارپوریٹ تقریبات کرنے کی اجازت دی۔ اب بھلا ان سے کوئی پوچھے کہ کیا مملکت پاکستان کے پاس پیسے کمانے کا اور کوئی ذریعہ نہیں اور کیا ہزاروں سال پرانی تاریخی عمارات کو چند ٹکوں کے حصول کے لیے استعمال کرنا جائز ہے؟
