تبلیغی جماعت نے مولانا طارق جمیل سے دوری اختیار کرلی


معلوم ہوا ہے کہ تبلیغی جماعت کی سرکردہ قیادت نے مولانا طارق جمیل کی تیزی سے متنازعہ ہوتی شخصیت اور انکی بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیوں کے پیش نظر ان سے قدرے دوری اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ تبلیغی جماعت کی ساکھ متاثر ہونے سے بچائی جا سکے۔ بتایا جاتا ہے کہ ملک بھر میں تبلیغی جماعت کی پہچان بن جانے والے مولانا طارق جمیل کے عمران خان کی جانب ضرورت سے زیادہ جھکاؤ نے تبلیغی جماعت کی کی ساکھ پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے تھے لہذا طارق جمیل سے دوری اختیار کرنے کی واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ یاد رہے کہ ماضی کے ہر حکمران کی طرح مولانا طارق جمیل کو عمران خان کے بھی کافی قریب خیال کیا جاتا تھا، اور یہ قربت اب تک برقرار ہے۔ طارق جمیل کے علاوہ ہر حکمران سے خاص تعلقات بنانے کی صلاحیت بحریہ ٹاؤن کے کھرب پتی مالک ملک ریاض میں پائی جاتی ہے۔ چنانچہ اگر مولانا طارق جمیل کو مولویوں کا ملک ریاض قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ ان کی اسی ریپوٹیشن نے تبلیغی جماعت کو ان سے دوری اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔
روزنامہ جنگ سے وابستہ معروف صحافی فاروق اقدس کہتے ہیں کہ مولانا طارق جمیل کے متاثرین اب ان کے ناقدین ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ وزیراعظم بننے کے بعد جسطرح انہوں نے عمران کی خوشامد کی اسے ان کے چاہنے والوں نے پسند نہیں کیا۔ انکا کہنا یے کہ دینی حلقوں اور مذہبی رجحان رکھنے والے طبقات میں مولانا طارق جمیل کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔لیکن اب ان کے بارے میں عوامی رائے کافی بدل چکی ہیں اور وہ لوگ جو مسلکی اختلاف کے باوجود ان کے گرویدہ تھے اب ان سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب ان کے طرز تکلم اور فکر انگیز بیان کے دوران ان کے آنسو سننے والوں پر بھی رقت طاری کر دیا کرتے تھے، لیکن اب جب وہ آنسو نکالتے ہیں تو لوگ مسکرانا اور انکا تمسخر اڑانا شروع کر دیتے ہیں۔ یعنی مولانا کے متاثرین اب ان کے ناقدین میں بدلتے جارہے ہیں جسکی بنیادی وجہ ان کی درباری شخصیت اور انے والے ہر نئے حکمران کی خوشامد کی عادت ہے۔
ماضی میں مولانا طارق جمیل کے ساتھ میچ ڈال کر ان سے معافی منگوانے والے والے سینئر صحافی حامد میر کہتے ہیں کہ بطور صحافی وہ مولانا طارق جمیل کو ایک سیاسی مولوی سمجھتے ہیں جنہیں اقتدار کے ایوانوں تک رسائی کا شوق ہے۔ اسی لیے میں نے انہیں نواز شریف، پرویز مشرف اور عمران خان تینون کے ادوار حکومت میں انکی تعریفیں کرتے دیکھا ہے۔ حامد میر کہتے ہیں کہ میری رائے میں جو علمائے دین ہوتے ہیں وہ حکمرانوں کے درباری نہیں بنتے۔ لیکن مجھے یاد نہیں کہ مولانا نے ماسوائے حاکم وقت کی شان بیان کرنے کے کسی ظالم اور طاقتور حکمران کے خلاف کچھ بولا ہو؟
مولانا طارق جمیل کی سحر انگیز شخصیت کا احاطہ کرتے ہوئے سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ان کی خاص بات ہر حکمران وقت کی محبت میں گرفتار ہونا اور اسکا قرب حاصل کرنا ہے۔ اعزاز ہو تو ایسا، مقبولیت ہو تو ایسی، وہ جہاں جاتے ہیں دروازے کھل جاتے ہیں، ہر جگہ انہیں خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ وہ نواز شریف کے ہاں جائیں تو وہ صدقے واری جاتے ہیں، عمران خان سے ملنے جائیں تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ سب ان کو مانتے ہیں اور سبھی ان کی مانتے ہیں۔ گجرات کے چودھری ہوں، جاتی امرا کے شریف ہوں، بنی گالہ کے نیازی ہوں یا پھر طاقتور حلقے، سب گھروں میں نہ صرف ان کا آنا جانا ہے بلکہ وہاں ان کی مانی بھی جاتی ہے۔ پورے پاکستان میں ان جیسا متفق علیہ کوئی اور نہیں جس کی عزت فوج والے بھی کرتے ہیں، پولیس والے بھی، فنکار بھی اور کرکٹر بھی۔ نواز شریف اور عمران خان ایک دوسرے کو ایک آنکھ نہیں بھاتے مگر حضرت مولانا کے لئے دونوں آنکھیں بچھاتے ہیں۔ ملا حضرات اور شعبے سٹارز کے طرزِ زندگی اور اندازِ فکر میں زمین آسمان کا فرق ہے مگر طارق جمیل کے لئے دونوں زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے ہیں، پنجگانہ نماز پڑھنے والے باریش و باحیا بزرگ ہوں یا اسٹیج و تھیٹر پر جلوہ گر ہونے والی حسینائیں، سب ان کے دست پر بیعت کو سعادت سمجھتی ہیں۔
معروف مصنف اور لکھاری محمد حنیف کا کہنا ہے کہ مولانا طارق جمیل گنہگاروں اور دنیا داروں کے مولانا ہیں کیونکہ جو صالح ہیں انھیں تبلیغ کی کیا ضرورت ہے۔ انکے بقول سیاسی نفرتوں میں بٹے اس معاشرے میں شاید طارق جمیل واحد عالم دین ہیں جو عمران خان کے ڈرائنگ روم میں افطاری کرنے کے بعد نماز کی امامت بھی کر لیتے ہیں اور مرحومہ کلثوم نواز کی نماز جنازہ بھی پڑھا لیتے ہیں۔ معاشرے کو یقیناً ایسی ہی پہنچی ہوئی شخصیتوں کی ضرورت ہے جو فروعی اختلافات سے بالاتر ہو کر ہر جانب برکتیں بانٹ سکیں۔ حنیف کے بقول ریاست کو بھی اس بات کا احساس ہے کہ طارق جمیل ہمارا قومی اثاثہ ہیں۔ اسی لیے وقتاً فوقتاً دفاعی اور سویلین اداروں میں ان کا خطاب کروایا جاتا ہے۔ چند سال پہلے ایف بی آر کے سارے بڑے دفاتر میں ان کا بیان براہ راست نشر کیا گیا۔ لیکن اس خطاب کے بعد ایف بی آر کے افسران کی کارکردگی یا ان کے کمیشن پر کوئی فرق پڑا یا نہیں اس سے مولانا طارق جمیل کا کوئی تعلق نہیں۔ حنیف کہتے ہیں کہ مولانا کا کام تھا پیغام دینا، آگے انکی برکاتہ سے فیض اٹھانا یا نہ اٹھانا بندوں پر منحصر ہے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تبلیغی جماعت نے بھی مولانا طارق جمیل کی بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے ان سے قدرے دوری اختیار کرلی ہے، حالانکہ مولانا پاکستان میں تبلیغی جماعت کی پہچان بن چکے تھے۔ زمانہ طالب علمی میں مولانا کافی جدت پسند ہوتے تھے اور انہیں میوزک سمیت کئی چیزوں سے لگاؤ تھا۔ انہیں سینما جا کر فلمیں دیکھنے کا بھی کافی شوق تھا لیکن پھر انکے ایک دوست نے انہیں تبلیغی بنا دیا۔ طارق جمیل کے کاروباری، عسکری اور سیاسی حلقوں سے کافی گہرے قریبی مراسم رہے ہیں لیکن اب آہستہ آہستہ ان کی شخصیت کا بھرم کھلتا جارہا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ان کی پر تاثیر دعا کا انداز ان کے عقیدت مندوں پر رقت طاری کر دیا کرتا تھا لیکن اب مولانا خود پر رقت طاری کرتے ہیں تو سامنے بیٹھے لوگ مسکرانا شروع کر دیتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں مولانا سابق وزیر اعظم عمران خان کی حمایت پر خوب تنیقد کا نشانہ بنے۔ یہ تنقید نہ صرف سیاسی اور سماجی حلقوں سے آئی بلکہ مذہبی تنظیموں نے بھی ان پر نشترکے تیر چلائے، خصوصاً جب مولانا نے عمران خان کی حکومت برخاست ہونے سے پہلے اور بعد میں بنی گالا جا کر خصوصی دعائیں کروانا شروع کیں۔

Back to top button