احمد محمود کی بجائے بلیغ الرحمان گورنر پنجاب کیوں؟

پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے مابین پنجاب میں پاور شیئرنگ فارمولہ طے ہونے کے بعد اب گورنرشپ نون لیگ کے پاس جائے گی جبکہ سینئر وزیر کا عہدہ پیپلز پارٹی کو ملے گا جس کی حیثیت ڈپٹی وزیراعلیٰ کی ہو گی۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب میں سینئر وزیر کا عہدہ پیپلز پارٹی کے حسن مرتضیٰ کو ملے گا جبکہ گورنر کا عہدہ بہاولپور سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر تعلیم بلیغ الرحمان کو دیا جائے گا جن کا تعلق نواز لیگ سے ہے۔ بلیغ الرحمان کو گورنر بنانے کا بنیادی مقصد جنوبی پنجاب کو نمائندگی دینا ہے۔
دونوں جماعتوں کے مابین پاور شیئرنگ فارمولا حمزہ شہباز اور پیپلز پارٹی کے ایک اعلی سطحی وفد کی ملاقات میں طے پایا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سے ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی پنجاب کے آئینی عہدوں سے دستبردار ہو گئی ہے اور اس نے گورنر کا عہدہ نہ لینے پر اتفاق کر کیا ہے، یوں مخدوم احمد محمود اب گورنر پنجاب کی دوڑ سے باہر ہو گے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی سے پنجاب میں تین وزارتیں، تین معاون خصوصی اور قائمہ کمیٹی کی چیئرمین شپ دینے کا وعدہ بھی کرلیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پیپلزپارٹی کو پنجاب میں دو پارلیمانی سیکرٹری کے عہدے بھی دیے جا رہے ہیں۔ دونوں جماعتوں کے قائدین نے مل کر چلنے پر اتفاق کیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے پیپلز پارٹی کی قیادت نے پنجاب کے نئے گورنر کے لیے مخدوم احمد محمود کو نامزد کیا تھا اور وہ مبارکبادیں بھی وصول کر چکے تھے۔ تاہم اس معاملے پر دونوں جماعتوں میں اختلاف پیدا ہو گیا تھا، نواز لیگ کا موقف تھا کہ پاور شیئرنگ فارمولے کے تحت پیپلز پارٹی کو اسپیکر قومی اسمبلی یا گورنر پنجاب میں سے کوئی ایک عہدہ لینا تھا، اس لیے راجہ پرویز اشرف کے سپیکر قومی اسمبلی بننے کے بعد اب گورنر پنجاب کے عہدے پر نون لیگ کا بندہ تعینات ہو گا۔ بتایا جاتا ہے کہ نواز لیگ کے بلیغ الرحمان کا نام گورنر کے لیے فائنل کرکے وزیراعظم کو حتمی منظوری کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔ ولی الرحمان کو شریف خاندان کے قریب تصور کیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2019 میں ٹوبہ ٹیک سنگھ کے پاس گوجرہ انٹر چینج کے قریب کار حادثے کے نتیجے میں بلیغ الرحمٰن کی اہلیہ اور بیٹا ولی الرحمٰن جاں بحق ہو گے تھے۔
بلیغ الرحمان کو گورنر کا عہدہ دینے کا بنیادی مقصد جنوبی پنجاب کو نمائندگی دینا ہے۔ انکا تعلق بہاولپور سے ہے۔
دوسری جانب حکومتی ذرائع کے مطابق نواز لیگ نے پیپلز پارٹی کو پنجاب میں سینئر وزیر اور دو صوبائی وزرا بنوانے کا فارمولا پیش کیا جس کو قبول کر لیا گیا۔ پیپلز پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاور شئیرنگ فارمولے پر اتفاق ہو جانے کے بعد اب پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے اپوزیشن لیڈر حسن مرتضیٰ کو سینئر وزیر بنایا جائے گا جبکہ مخدوم احمد محمود کے بھتیجے عثمان محمود اور یوسف رضا گیلانی کے بیٹے حیدر گیلانی کو صوبائی وزیر بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے باقی اراکین پنجاب اسمبلی میں سے تین کو معاون خصوصی اور تین کو پارلیمانی سیکرٹری یا وزیر اعلیٰ کا مشیر بنایا جائے گا، یوں پنجاب اسمبلی میں موجود پیپلز پارٹی کے تمام اراکین کو عہدے مل جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کو ان کے عہدے پر برقرار رکھا جائے گا جبکہ سپیکر کا عہدہ جہانگیر ترین گروپ کے سعید نوانی یا نعمان لنگڑیال میں سے کسی ایک کو دیا جائے گا۔ حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ن لیگ کی جانب سے مخدوم احمد محمود کو نواز لیگ کے کھاتے میں گورنر پنجاب بنانے کی پیشکش کی گئی تھی لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ ان کا تعلق بھی جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یار خاں سے ہے۔ یاد رہے کہ پیپلزپارٹی کے پچھلے دور حکومت میں مخدوم احمد محمود گورنر پنجاب کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔
