عمران کے برعکس مودی نے توشہ خانہ کے تحائف کا کیا کیا؟

سابق وزیراعظم عمران خان کا توشہ خانہ سکینڈل سامنے آنے اور ‘میرا تحفہ میری مرضی’ کا بیانیہ اپنانے کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا صارفین انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کا ایک پرانا ویڈیو کلپ شیئر کر کے اُن کی تعریفیں کر رہے ہیں جس میں اُنھوں نے بتایا کہ وہ خود کو ملنے والے تحفے پاس رکھنے کی بجائے ان کو آکشن کروا کر پیسے قومی خزانے میں جمع کرواتے ہیں جن سے نادار لوگوں کی مدد کی جاتی ہے۔ مودی کی ویڈیو کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے والے پاکستانیوں نے عمران کو یا دلایا کہ باعزت حکمران سٹیٹس مین کا کردار ادا کرتے ہیں اور توشہ خانہ کے تحائف کو سستے داموں خرید کر مہنگے داموں بیچنے کا کاروبار نہیں کرتے۔ یاد رہے کہ عمران خان نے اپنے اس عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب میرا تحفہ میرا یے تو مرضی بھی میری چلی گی، میں اسے پاس رکھوں یا آگے بیچ دوں۔
پاکستانی سوشل میڈیا صارفین جو ویڈیو شیئر کر رہے ہیں وہ 2018 کی ہے جب وزیرِ اعظم مودی لندن میں ایک پروگرام میں انڈین شہریوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ سابق وزیرِ اعظم عمران خان پر الزام ہے کہ اُنھوں نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوران ملنے والے تحائف، بشمول ایک گھڑی کو بیچ کر، پندرہ کروڑ روپے کے لگ بھگ مال بنایا تھا۔ واضح رہے کہ توشہ خانے کے قوانین کے مطابق کسی بھی غیر ملکی تحفے کو اس کی قیمت کا کچھ حصہ ادا کر کے اپنے لیے حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن اسے منافع کمانے کی بجائے آگے نہیں بیچا جاتا جیسا کہ عمران خان نے کیا۔ اس تنقید کے جواب میں سابق وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ ‘اپنے خود کے اثاثے فروخت کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔’ اُن کا کہنا تھا کہ جب عمران نے جب تحفے خرید لیے تو پھر ان پر انکی مرضی ہے کہ وہ انہیں پاس رکھیں یا آگے بیچ دیں۔
عمران خان نے بھی پہلے یہی موقف اپنایا تھا لیکن شدید عوامی تنقید کے بعد انہوں نے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے توشہ خانے کے تحائف کی فروخت سے ملنے والی رقم سے اپنے گھر کے باہر سڑک بنوائی، نہ کہ سرکاری پیسے کا استعمال کیا۔ لیکن بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ ان کے گھر کے باہر والی سڑک تو کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اسلام اباد نے بنوائی تھی اور عمران خان نے صرف تیس لاکھ روپیہ ادا کیا تھا جب کہ سڑک کی تعمیر پر کئی کروڑ لگے تھے۔ واضح رہے کہ عمران خان نے توشہ خانے کے تحائف کے خریدنے سے پہلے تنقید کی زد میں آنے سے پہلے تین سابق حکمرانوں بشمول نواز شریف، یوسف رضا گیلانی اور آصف زرداری کے خلاف توشہ خانے سے ‘غیر قانونی’ طور پر تحائف حاصل کرنے کے الزامات پر نیب سے کیسز بنائے تھے جو اب تک زیر سماعت ہیں۔
دوسری جانب مودی نے لندن میں ایک پروگرام کے سوال و جواب کے سیشن میں بتایا تھا کہ جب وہ گجرات کے وزیرِ اعلیٰ تھے تو اُنھیں عوامی تقریبات میں کئی قیمتی تحائف ملا کرتے تھے۔
مودی نے کہا تھا کہ وہ ان تمام تحائف کو سرکاری خزانے میں جمع کروا دیتے اور پھر بعد میں اُنھوں نے ان کی نیلامی کرنی شروع کی۔ مودی نے کہا کہ اُنھوں نے اس سے حاصل ہونے والے تقریباً ایک ارب روپے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے عطیہ کر دیے۔
یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے صحافی نائلہ عنایت نے لکھا کہ مودی عمران کی طرح یہ کیوں نہیں کہہ رہے کہ ‘میرا تحفہ میری مرضی’۔ انڈین وزیرِ اعظم بتا رہے ہیں کہ کیسے اُنھوں نے توشہ خانے کے سرکاری تحائف کی نیلامی کر کے حاصل ہونے والی رقم نادسر لڑکیوں کی تعلیم کے لیے عطیہ کر دی۔ ایک اور صحافی نصراللہ ملک نے بھی یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے عمران خان کو اُن کا ریاستِ مدینہ کا وعدہ یاد دلایا۔یاد رہے کہ عمران خان بارہا اپنی تقاریر میں ریاستِ مدینہ کو ایک مثالی نظام قرار دیتے ہوئے مثال دیتے رہے ہیں کہ وہاں پر خلیفہ وقت کا بھی ایک عام شخص احتساب کر سکتا تھا۔ نصراللہ ملک نے لکھا کہ مودی کے اس کلپ نے سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ ایک اور صحافی امیر جاوید نے لکھا کہ ’عمران خان کو یہ ویڈیو ضرور دیکھنی چاہیے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ اُنھیں جب تحفے ملے تو وہ اپنے پاس نہیں رکھے بلکہ نیلامی کر کے پیسے کو لڑکیوں کی تعلیم کے لیے عطیہ کر دیا۔‘
معروف وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن طارق افغان نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے ٹوئیٹر پر لکھا کہ ’نریندر مودی نے انڈیا کے توشہ خانے کے ساتھ جو کیا، مجھے یقین ہے کہ عمران خان بھی ایسا کرتے تو لوگ ان کی تعریف کرتے لیکن ایسا کرنے کے لئے اسٹیٹس میں ہونا ضروری ہے۔
