عمران خان لندن جانے والے ہیں یا جیل کے اندر؟


معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ عمران خان نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے احسانات کو فراموش کرتے ہوئے نہ صرف اس سے بد ترین سلوک کیا بلکہ کرسی کی خاطر ریاست کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچانے پر اتر آئے۔ اس تناظر میں پی ٹی آئی کے ساتھ مستقبل قریب میں جو ہونے جارہا ہے وہ انتہائی بھیانک ہوگا۔ اس کے بعد 2000 کی دہائی کے اوائل کی طرح کے عمران ہوں گے اور ان کےفینز۔ ہاں آنے والے دن بتائیں گے کہ وہ جیل کے اندر ہوں گے، باہر یا پھر لندن میں اپنے بیٹوں کے ساتھ۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ ایسا نہیں تھا کہ ملک میں ایک سیاسی جماعت کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک شخص کو سیاست میں آنے کا شوق ہوا اور اس کے لیے پی ٹی آئی کے نام سے ایک سیاسی جماعت بنائی گئی۔ تاہم اس کی بنیاد ایک سیاسی جماعت کی طرز پر نہیں پڑی۔ عمران ایک سپر سٹار کرکٹر تھا جس طرح کہ شاہد آفریدی، شعیب اختر یا دیگر اسٹارز ہیں، لیکن خان صاحب کی خواہشات کی دنیا بہت وسیع تھی اور وہ شہرت کے ساتھ طاقت واختیار بھی چاہتے تھے۔ چنانچہ اس کے لیے انہوں نے سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا اور کرپشن سے پاک پاکستان کا نعرہ لگا کر میدانِ سیاست میں آگئے۔
بقول صافی، ایسے میں دو قسم کے لوگ ان کے ساتھ آ ملے۔ ایک ان کے پرستار اور دوسرا وہ لوگ جو واقعی پاکستان میں تبدیلی چاہتے تھے۔ مثلا ڈاکٹر محمد فاروق خان شہید، اویس احمد غنی، اکبر ایس بابر وغیرہ۔ فینز کی نفسیات الگ ہوتی ہے۔ وہ کسی فن کی وجہ سے کسی شخصیت کے سحر میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور پھر انکی ذات کودیگر حوالوں سے نہیں دیکھتے۔ مثلا میں اردو موسیقی میں نصرت فتح علی خان، جگجیت سنگھ، مہدی حسن اور غلام علی کا فین ہوں تو میں نے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی کہ ان کی ذاتی زندگی کیسی ہے، وہ دیانتدار ہیں یا نہیں وغیرہ تاہم ان کے فن کی وجہ سے ان کے خلاف بات سننا بھی مجھے گوارا نہیں۔ گویا فین ہونے کا پہلا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس شخصیت سے متعلق آپ کی تنقیدی سوچ کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ اب کچھ عرصے بعد جو لوگ تبدیلی کی خواہش لے کر آئے تھے ان پر واضح ہوگیا کہ عمران کے ذہن میں تبدیلی کا کوئی خاکہ ہی نہیں۔ چنانچہ وہ لوگ ان سے الگ ہوگئے اور صرف فینز رہ گئے یا پھر اسد قیصر جیسے وہ لوگ جن کے پاس کوئی دوسراآپشن نہیں تھا۔ چنانچہ اپنے قیام سے لے کر 2010 تک پی ٹی آئی قابل ِذکر جماعت نہ بن سکی بلکہ عمران خان کے ایک فین کلب کی حیثیت میں موجود رہی۔ دوسری طرف عمران میکاولی اور چانکیا کے پیروکار کی حیثیت میں دنیا میں بھی طاقت کے منبع کو خوش کرنے کے لیے دن رات سرگرم رہتے اور پاکستان کے اندر بھی۔ عالمی طاقتوں تک رسائی کے لیے انہوں نے گولڈ اسمتھ خاندان میں شادی کی حالانکہ ڈاکٹر اسرار احمد جیسے لوگ سمجھتے ہیں کہ شادی کروائی گئی جبکہ پاکستان میں انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساز باز کی کوشش کی۔ اسی لیے انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا کو ویلکم کیا، وار آن ٹیرر میں ان کی شمولیت کی حمایت بھی کی اور ریفرنڈم میں ان کے لیے ووٹ بھی مانگے، لیکن جب جنرل مشرف نے اقتدار ان کی بجائے گجرات کے چودھریوں کودلوایا تو وہ مشرف کے خلاف ہوگئے۔
تاہم بقول سلیم صافی، عمران چالاک ایسے ہیں کہ پھر بھی پاکستانی اور عالمی ڈیپ سٹیٹ کے ساتھ برطانیہ، امریکہ اور پاکستان کے اندر مقیم لوگوں کے ذریعے رابطے میں رہے۔ بالآخر انہیں 2010 میں کامیابی ملی جب عالمی اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کی لائن سیٹ ہوگئی۔ تب عالمی اسٹیبلشمنٹ کو ضرورت تھی کہ پاکستان میں طالبانائزیشن کے مقابلے کے لیے ایسی تنظیم کھڑی کرے جو لبرل لیڈر کے پاس ہو لیکن بظاہر اینٹی امریکہ نعرے لگا کر اور اسلام کا نام استعمال کرکے نوجوان نسل کو اپنی طرف متوجہ کرلے جبکہ ملکی اسٹیبلشمنٹ کوپیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کو آئوٹ رکھنے کے لیے ایک تیسری سیاسی جماعت کی ضرورت تھی۔ چنانچہ ایک ایک کرکے الیکٹ ایبلز کو ان کی جماعت میں شامل کروایا گیا۔ میڈیا میں اسٹیبلشمنٹ کے مہروں کو اس کام پر لگادیا گیا کہ وہ فرینڈلی انٹرویوز کرکے عمران خان کو ہیرو بنا دیں۔ اس کے علاوہ قومی جماعتوں کی قیادت کو کرپٹ، مذہبی جماعتوں کی قیادت کو انتہاپسند اور قوم پرست جماعتوں کی قیادت کو غدار ثابت کرنے کی مہم شروع ہوئی۔ بالآخر عالمی اور ملکی اسٹیبلشمنٹ اور خود عمران خان کی دلی خواہش پوری ہوئی اور وہ وزیراعظم کی کرسی پر براجمان ہوئے۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ کی توقعات پر تو وہ بھرپور طریقے سے پورا اترے۔ چین کے ساتھ سی پیک پر کام عملاً روک کر انہوں نے امریکہ کی خوب خدمت کی۔ پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر جو امریکی ایجنڈا تھا، اس میں انہوں نے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی اور اسی لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایسے لاڈلے بن گئے کہ وہ اپنے داماد کرشنر اور زلفی بخاری کے واٹس ایپ رابطوں کے ذریعے دل کی باتیں ایک دوسرے تک پہنچاتے رہے۔ لیکن پاکستانی عوام اور ملکی اسٹیبلشمنٹ کو انہوں نے بری طرح مایوس کیا۔ معیشت تباہ کرکے رکھ دی۔ دوسری طرف اس کی مہار آئی ایم ایف کے ذریعے امریکہ کے ہاتھ میں دے دی۔ اپنی ٹیم اور حرکتوں سے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو بدنام کرنے لگے۔
سلیم صافی بتاتے ہیں کہ عالمی طاقتوں کی خواہش تھی کہ پاکستانی فوج متنازعہ بن جائے لہذا عمران نے اپنے اقتدار کے دوران اسٹیبلشمنٹ کو اپوزیشن سے لڑانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ چنانچہ تنگ آکر اسٹیبلشمنٹ کے سرخیلوں نے ان کے اقتدار کی عمارت سے ان بیساکھیوں کو ہٹانا شروع کیا جو اسٹیبلشمنٹ نے غیرآئینی طور پر انہیں فراہم کی تھیں۔ چنانچہ بیساکھیاں ہٹتے ہی انکی حکومت دھڑام سے گر گئی۔ اب خان صاحب کی کارکردگی تو تھی نہیں کہ وہ قوم کو دکھاتے چنانچہ انہوں نے امریکی سازش کا فسانہ گھڑلیا لیکن چونکہ وہ خود جانتے ہیں کہ امریکی سازش ڈرامہ ہے، اس لیے وہ درون خانہ اسٹیبلشمنٹ پر حملہ آور ہوگئے۔
صافی کے بقول، میکاولی کے سچے پیروکار کی طرح عمران خان نے امریکی سازش کا ایسا پتہ کھیلا کہ انکی زمین بوس ہوتی سیاست کو ایک نئی زندگی مل گئی اور وہ دوبارہ وزیراعظم بننے کے خواب دیکھنے لگے۔ پاکستان میں کل کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ عمران خان نے ان کے احسانات کا بدلہ نہایت بدتر طریقے سے دیا بلکہ اب اقتدار کیلئے پاکستانی ریاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہےہیں۔
اس تناظر مین پی ٹی آئی کے ساتھ مستقبل قریب میں جو ہونے جارہا ہے وہ انتہائی بھیانک ہوگا۔ اس کے بعد 2000 کی دہائی کے اوائل کی طرح کے عمران خان ہوں گے اور ان کےفینز۔ ہاں آنے والے دن بتائیں گے کہ وہ جیل کے اندر ہوں گے، باہر یا پھر لندن میں اپنے بیٹوں کے ساتھ۔

Back to top button