گلگت بلتستان الیکشن: آزاد امیدوار’کنگ میکر‘کیسے بنے؟

گلگت بلتستان کے عام انتخابات 2026 نے نہ صرف خطے کی سیاست میں نئی صف بندیاں پیدا کی ہیں بلکہ اسلام آباد کے اقتدار کے ایوانوں میں بھی سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) دوسرے نمبر پر رہی۔ تاہم اس انتخابی معرکے کا سب سے دلچسپ اور فیصلہ کن پہلو آزاد امیدواروں کا غیر معمولی ابھار ہے، جو حکومت سازی کے عمل میں "کنگ میکر” کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کے مطابق تمام 24 حلقوں میں مجموعی طور پر 5 لاکھ 34 ہزار 978 درست ووٹ کاسٹ ہوئے۔ غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کو تقریباً 28 فیصد جبکہ مسلم لیگ (ن) کو 22 فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔ اس کے علاوہ 8 ہزار 446 ووٹ مسترد قرار دیے گئے۔ بعض حلقوں میں اعتراضات اور انتخابی تنازعات کے باعث الیکشن کمیشن کی سماعتیں جاری ہیں، جس کی وجہ سے حتمی گزٹ میں معمولی ردوبدل کا امکان موجود ہے۔
دوسری جانب انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان الزامات اور جوابی بیانات کی ایک نئی جنگ شروع ہو گئی ہے۔ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بعض حلقوں میں نتائج روکنے اور انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کے سنگین الزامات عائد کیے، جبکہ مسلم لیگ (ن) نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑی جماعت ہونے کے ناطے پی پی پی کو حکومت سازی کی پیشکش بھی کی گئی تھی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق گلگت بلتستان کے یہ انتخابات کئی حوالوں سے منفرد رہے۔ ایک جانب غذر سمیت مختلف حلقوں میں آزاد امیدواروں نے بڑی جماعتوں کو حیران کن شکست دی، تو دوسری جانب برادری، مذہبی وابستگی اور مقامی اثر و رسوخ نے ووٹرز کے فیصلوں پر گہرا اثر ڈالا۔ کئی حلقوں میں انتخابی نتائج نے اس عمومی تاثر کو بھی چیلنج کیا کہ گلگت بلتستان میں ہمیشہ مرکز کی حکمران جماعت ہی کامیاب ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ خطے کی آئینی حیثیت بھی ان انتخابات کو خصوصی اہمیت دیتی ہے۔ گلگت بلتستان ایک عبوری انتظامی ڈھانچے کے تحت چلنے والا علاقہ ہے، جہاں ہر انتخاب نہ صرف مقامی قیادت بلکہ وفاقی سیاسی قوتوں کے درمیان اثر و رسوخ کی جنگ بھی تصور کیا جاتا ہے۔اس مرتبہ خواتین کی انتخابی شمولیت بھی توجہ کا مرکز بنی۔ بعض مبصرین نے اسے مثبت تبدیلی قرار دیا، جبکہ دیگر نے چند علاقوں میں خواتین کے ووٹوں کے استعمال کے طریقہ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھائے۔ اسی طرح بعض حلقوں میں دوبارہ پولنگ کے فیصلوں نے انتخابی شفافیت سے متعلق بحث کو مزید تقویت دی۔
مبصرین کے بقول موجودہ صورتحال میں کسی بھی جماعت کے پاس واضح اکثریت موجود نہیں، جس کے باعث آزاد امیدوار حکومت سازی کے عمل میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان کی سیاست اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں عدالتوں کے فیصلے، الیکشن کمیشن کی کارروائیاں اور پس پردہ سیاسی مذاکرات خطے کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات 2026 نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس خطے کی سیاست محض نشستوں کی جنگ نہیں بلکہ مقامی سماجی حقائق، علاقائی شناخت، مذہبی رجحانات اور قومی سیاسی مفادات کا ایک پیچیدہ امتزاج ہے۔ اب نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آزاد امیدوار کس جماعت کا ساتھ دیتے ہیں اور اقتدار کا تاج کس کے سر سجتا ہے۔
