امریکہ سے امن معاہدہ ایران کی’سٹریٹیجک فتح‘ کیوں؟

امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے امن معاہدے کے بعد تہران نے سفارتی محتاط رویے کے بجائے ایک جارحانہ بیانیہ اختیار کر لیا ہے۔ ایرانی قیادت اس معاہدے کو محض جنگ بندی کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنی عسکری برتری، سیاسی استقامت اور سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرنے میں مصروف ہے۔ سرکاری میڈیا سے لے کر اعلیٰ حکومتی شخصیات تک، سب ایک ہی پیغام دے رہے ہیں کہ ایران نے دباؤ کے باوجود اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے ہٹے بغیر مخالفین کو مذاکرات کی میزپر آنے پر مجبور کیا۔جس کے نتیجے میں جنگ بندی ممکن ہوئی۔ پیر کو معاہدے کے اعلان کے بعد ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ اور حکومتی شخصیات نے مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اسلامی جمہوریہ اپنے تمام بنیادی مقاصد کے حصول میں کامیاب رہی ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس دشمن نے اپنے مذموم مقاصد کے تحت حملہ کیا تھا، وہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا، جبکہ ایران نے جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا ہے اور پیر سے تمام فوجی کارروائیاں روک دی جائیں گی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حتمی معاہدے تک مذاکرات آئندہ 60 روز تک جاری رہیں گے اور اگر دوسری جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو ایران بھی مناسب ردعمل دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اس معاہدے کو تہران کی جانب سے ڈالے گئے فوجی دباؤ کا براہِ راست نتیجہ قرار دیا۔ نشریات میں کہا گیا کہ ایرانی افواج نے "خدا کی آہنی مرضی” ان قوتوں پر مسلط کر دی جنہیں "امریکی اور صہیونی دشمن” قرار دیا گیا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ایران نے ثابت کر دیا کہ اس کے مخالفین کے پاس شکست تسلیم کرنے اور ہتھیار ڈالنے کے علاوہ کوئی اور راستہ باقی نہیں بچا تھا۔ اسی بیانیے کے تحت ایرانی جنگجوؤں اور عام شہریوں کی قربانیوں کو بھی نمایاں طور پر اجاگر کیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے "فتح” کے بیانیے کو فروغ دینے کا مقصد صرف بیرونی دنیا کو پیغام دینا نہیں بلکہ داخلی سیاسی دباؤ کا مقابلہ کرنا بھی ہے۔ ایران کے سخت گیر حلقے طویل عرصے سے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کی مخالفت کرتے رہے ہیں، لہٰذا حکومت کے لیے ضروری تھا کہ وہ اس معاہدے کو پسپائی کے بجائے کامیابی کے طور پر پیش کرے تاکہ عوام اور قدامت پسند حلقوں کی حمایت برقرار رکھی جا سکے۔

خیال رہے کہ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اطلاعات مل رہی ہیں کہ سخت گیر شخصیات نے ایران کی مذاکراتی حکمت عملی پر گہرا اثر ڈالا۔ وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب کے سربراہ احمد وحیدی امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران ایک اہم اور بااثر شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ رپورٹ میں ایرانی اور عرب حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ انہوں نے مذاکرات میں سخت مؤقف اختیار کرنے کی حمایت کی اور واشنگٹن کو کسی بھی قسم کی رعایت دینے کی مخالفت کی۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ احمد وحیدی نے گزشتہ ہفتے اسرائیل کے خلاف ایران کے بیلسٹک حملوں کی حمایت کی تھی، جو بیروت میں حزب اللہ کے ہیڈکوارٹرز پر حملے کے ردعمل میں کیے گئے تھے۔ دوسری جانب ایران کے اعتدال پسند حلقے اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے رہے کہ براہِ راست فوجی کارروائیاں امریکہ کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور کسی بڑے تصادم کا سبب بن سکتی ہیں۔

اگرچہ جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے، تاہم ایران کی فوجی قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ دفاعی تیاریوں میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ نیوز ایجنسی فارس کے مطابق پاسداران انقلاب کے نائب کمانڈر جنرل یداللہ جیوانی نے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی ممکنہ فوجی حملے کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ملک کی دفاعی صلاحیتوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو بھی دوبارہ کھول دیا جائے گا، جسے عالمی تجارت اور خصوصاً تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ تصور کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے عالمی منڈیوں میں استحکام آنے اور توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات میں کمی واقع ہونے کی توقع ہے۔

مبصرین کے مطابق اگرچہ جنگ بندی کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اصل امتحان آئندہ 60 روز کے دوران ہونے والے مذاکرات ہوں گے۔ ایک طرف ایران اس معاہدے کو اپنی سٹریٹیجک اور عسکری کامیابی کے طور پر پیش کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی اسے سفارت کاری کی فتح قرار دے رہے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ معاہدہ خطے میں مستقل امن کی بنیاد بنے گا یا محض ایک عارضی وقفہ ثابت ہوگا۔ فی الحال اتنا ضرور واضح ہے کہ تہران داخلی سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے "فتح” کے بیانیے کو مضبوط بنا رہا ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد ایرانی عوام کو یہ یقین دلانا ہے کہ جنگ کے دوران دی گئی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں اور ملک نے دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف اور مفادات کا کامیابی سے دفاع کیا ہے۔

Back to top button