تحریک انصاف پر قبضے کی جنگ تیز، عمرانڈو رہنما آمنے سامنے

تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کے جیل میں ہونے کی وجہ سے پارٹی کے اندر دھڑے بازی، عوامی سطح پر ان مختلف دھڑوں کے درمیان محاذ آرائی، پاور پالیٹکس، بےانتظامی اور فیصلہ سازی کے فقدان جیسے کئی عوامل مبصرین کے خیال میں اس جماعت کو کمزور کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔جس کے بعد پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کا ٹوٹنا یقینی دکھائی دیتا ہے۔مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کے اندر اس وقت سیاست دانوں اور وکلا کے دھڑے الگ الگ ہیں جبکہ وکلا کے اندر کئی گروپ بھی ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں۔ ان دھڑوں اور گروہوں کی ایک دوسرے کے خلاف میڈیا اور سوشل میڈیا پر بیان بازی یہ تأثر دیتی ہے کہ اس جماعت کا کوئی انتظامی ڈھانچہ ہی موجود نہیں۔


اس پر مستزاد یہ کہ پارٹی کے سینیئر اراکین اور سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا کے درمیان بھی سخت بیانات کا تبادلہ ہوا ہے جس سے دونوں جماعتوں کے مابین قائم اعتماد کی فضا کو ٹھیس پہنچی ہے۔ تاہم دوسری جانب پی ٹی ائی قیادت اختلافات کو حل کرنے کی بجائے تحریک انصاف میں کسی قسم کی تقسیم یا اختلاف رائے سے ہی انکاری دکھائی دیتی ہے۔ پارٹی کے کور کمیٹی اجلاس کے بعد جاری کیے گیے اعلامیے میں جماعت کے اندر کسی بھی قسم کے اختلافات کی تردید کی گئی ہے۔ اس سے قبل پارٹی کے سینیئر رہنما اسد قیصر نے بھی اپنے بیان میں کہا تھا کہ پارٹی رہنماؤں میں کوئی بڑا اختلاف موجود نہیں ہے۔دوسری جانب پی ٹی آئی کے ترجمان رؤف حسن نے بھی ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پارٹی رہنماؤں کے مختلف بیانات کو ہوا دے کر اختلافات کا رنگ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اصل مسئلہ پارٹی رہنماؤں کو عمران خان تک رسائی نہ دینا اور ان سے ملاقات نہ کروانا ہے اور اسی وجہ سے کنفیوژن پھیل رہی ہے۔‘
رؤف حسن نے کہا کہ جو لوگ عمران خان سے ملنے جاتے بھی ہیں، ان کو بھی کاغذ، قلم لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اور ملاقات کرنے والے کو ان کے ساتھ کی گئی باتیں زبانی یاد کرنا اور باہر آ کر بیان کرنا پڑتی ہیں جس کی وجہ سے الجھن پیدا ہوتی ہے۔رؤف حسن کے مطابق پارٹی نے اس مسئلے کا جائزہ لیا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ آئندہ عمران خان یا پارٹی پالیسی بیان کرتے وقت کوئی کنفیوژن نہ ہو۔


رؤف حسن اور ان کی پارٹی کی وضاحتیں اپنی جگہ مگر پی ٹی آئی کا اندرونی لڑائیوں کے حوالے سے ریکارڈ کافی خراب رہا ہے۔خود چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور شیر افضل مروت متعدد مرتبہ آپس میں صلح کرنے کے باوجود بار بار آمنے سامنے آئے ہیں۔ شیر افضل مروت نہ صرف بیرسٹر گوہر بلکہ پارٹی کے کئی دیگر افراد کے متعلق کھل کر میڈیا میں بیان بازی کر چکے ہیں۔بیرسٹر گوہر علی خان نے منگل کو ایک مرتبہ پھر شیر افضل مروت کے سنی اتحاد کونسل سے اتحاد پر تنقیدی بیان کے جواب میں کہا ہے کہ ان سے اتحاد کا فیصلہ بالکل ٹھیک ہے۔مبصرین کا خیال ہے کہ جب تک عمران خان جیل سے واپس آ کر پارٹی کا مکمل کنٹرول واپس حاصل نہیں کرتے تب تک ایسی چپقلشیں چلتی رہیں گی۔سینیئر تجزیہ کار ضیغم خان سمجھتے ہیں کہ اس وقت پی ٹی آئی کے اندر پاور پالیٹکس ہو رہی ہے اور یہ مستقبل میں بھی چلتی رہے گی کیونکہ پارٹی کے اندر موجود وکلا اور سیاست دانوں میں گروہ بندی ہے اور سب کی عمران خان تک رسائی نہیں ہے جس کی وجہ سے اختلافات میں شدت آئی ہے۔ ’عمران خان سے صرف وکیل مل سکتے ہیں اور بہت کم سیاست دانوں کو ان سے ملاقات کا موقع ملا ہے۔ اس وجہ سے سیاست دانوں کی دل شکنی ہوتی ہے اور یہ خدشہ بھی لاحق ہوتا ہے کہ وکیل قیادت کے زیادہ قریب ہو رہے ہیں۔‘ضیغم خان کے مطابق ’پھر ہر کوئی پارٹی میں اپنی جگہ بنانے کے لیے لڑائی بھی لڑ رہا ہے اور اس لیے بھی بڑھ چڑھ کر بیانات دیے جا رہے ہیں۔


اگرچہ پی ٹی آئی کے کچھ ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ عمران خان ذاتی مقبولیت قائم رکھنے کے لیے خود بھی مختلف پارٹی رہنماؤں کو متضاد ٹاسک دے کر ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں تاہم ضیغم خان کہتے ہیں کہ انہیں اس کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ پارٹی کا ووٹر ان کے ساتھ ہے نہ کہ دوسرے رہنماوں کے ساتھ۔ان کے مطابق ایسی چپقلش جنوبی ایشیائی سیاست کی روایت ہے اور ماضی میں دیگر سیاسی جماعتوں کے اندر بھی شدید لڑائیاں رہی ہیں لیکن اس کے باوجود پی ٹی آئی کی فیصلہ سازی پر اس کا اثر ہو رہا ہے۔ ’ماضی میں پیپلز پارٹی میں بھی دھڑے رہے ہیں اور وہ لوگ تو ایک دوسرے کو ڈنڈوں سے مارپیٹ کرتے تھے۔ پی ٹی آئی میں ایسا نہیں ہو رہا لیکن اس کے باوجود ان کے باہمی اختلافات پارٹی کی فیصلہ سازی اور عمومی تاثر پر اثر انداز ہو رہے ہیں جو کہ ایک منفی عمل بہرحال ہے۔‘

دوسری جانب بعض دیگر مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں کے اختلافات عوامی طور پر ظاہر ہونے اور ان کی باقاعدہ چپقلش کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس جماعت کی تیسرے یا اس سے بھی نچلے درجے کی قیادت اچانک سے ابھر کر سامنے آ گئی ہے اور وہ سیاسی معاملات میں ناتجربہ کار ہے۔’عمران خان اور ان کے ساتھ دوسرے درجے کی قیادت کے جیل جانے یا پارٹی چھوڑ جانے کے بعد تیسرے یا اس سے بھی نچلے درجے کی قیادت اوپر آ گئی ہے۔ پھر 8 فروری کے انتخابات میں بہت سارے نئے لوگ پہلی دفعہ منتخب ہو کر اسمبلی میں پہنچے ہیں، جن کو منظم کرنے کے لیے پارٹی میں اعلٰی قیادت موجود نہیں ہے، جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ مختلف خیالات کے لوگوں کی سوچوں کا فرق شدید اختلافات میں ڈھل رہا ہے۔‘ مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ ایک سوچ منسلک ہے کہ عمران خان کے بعد پارٹی نہیں رہے گی یا پھر اس کی قیادت کس کے ہاتھ میں آئے گی۔ اس وجہ سے بھی اس کے دوسرے اور تیسرے درجے کے رہنما ایک دوسرے سے آگے جانے کی تگ و دو میں ہوتے ہیں اور پھر ان کے اختلافات سامنے آ جاتے ہیں۔‘

Back to top button