زرداری کے صدر بننے کے بعد بلاول کا مستقبل کیا ہے؟

10 برس کے طویل وقفے کے بعد اصف زرداری کے دوبارہ صدر پاکستان منتخب ہو جانے کے بعد اب سیاسی حلقوں میں یہ سوال زیر گردش ہے کہ ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو کا مستقبل کیا ہے جنہوں نے فروری 2024 کی الیکشن مہم میں خود کو وزارت عظمی کا امیدوار بنا کر پیش کیا تھا۔ اس سوال کا مختصر جواب تو یہ ہے کہ باپ اور بیٹے میں سے کسی ایک کو ہی وزارت عظمی یا صدر پاکستان کا عہدہ ملنا تھا لہذا اب زرداری کے صدر بن جانے کے بعد ان کے صاحبزادے کو وزیراعظم بننے کے لیے کم از کم پانچ برس انتظار کرنا ہوگا۔ تاہم مسلم لیگی حلقوں میں اب بھی یہ خدشہ موجود ہے کہ صدر زرداری کسی وقت شہباز شریف کی حکومت گرا کر اپنے بیٹے کو وزارت عظمی کے منصب پر فائض کروا سکتے ہیں کیونکہ پیپلز پارٹی کی سپورٹ کے بغیر حکومت بن ہی نہیں سکتی تھی۔ مسلم لیگی حلقوں کا خیال ہے کہ شاید اسی وجہ سے آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی جماعت نے موجودہ کابینہ میں وزارتیں نہیں لیں لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ کیا مفاہمت کے بادشاہ کہلانے والے اصف علی زرداری نواز لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کو دغا دے کر پی ٹی ائی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کا فیصلہ کرنے پر تیار ہوں گے؟
سینیئر صحافی عمار مسعود بھی اپنے سیاسی تجزیے میں پوچھتے ہیں کہ سیاست کے سارے کھلاڑی، صحافت کے زرخیز ذہن، قانون کے ماہرین اور جلالی تجزیہ کار مل کر بھی اس راز کو منکشف نہیں کر پا رہے کہ پیپلز پارٹی نے اس بار خسارے کا سودا کیوں کیا؟ انکا کہنا یے کہ سامنے کی بات ہے۔ وزارتیں پیپلزپارٹی کے قدموں میں پڑی تھیں، وزارت عظمیٰ ہاتھ باندھے کھڑی تھی، سب عہدے طشتری میں پیش کیے گئے مگر پیپلز پارٹی کی جانب سے صرف اجتناب اور احتیاط کا راگ الاپا گیا۔ سب کچھ میسر تھا مگر کچھ حاصل نہیں کیا۔ نہ جیالوں کی نوکریوں کا بندوبست ہوا، نہ کارکنوں کو عہدے ملے نہ ساتھیوں کو جھنڈے والی گاڑیاں نصیب ہوئیں، نہ ہی بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم کی شیروانی زیب تن کی تو پھر اس ساری جدوجہد، افہام و تفہیم، گفت و شنید، سیاسی شعور و فہم اور طویل میٹنگز کا کیا فائدہ ہوا؟ممکن ہے پیپلز پارٹی کے بہت سے لوگ اس بات پر ناخوش ہوں، دل ہی دل میں تاسف کا اظہار کر رہے ہوں، کف افسوس مل رہے ہوں، اپنی قیادت کی ناعاقبت اندیشی پر پچھتاوے کا اظہار کر رہے ہوں۔ گھر کی چوکھٹ پر اقتدار کی دستک کو نظر انداز کرنے کو جذباتیت قرار دے رہے ہوں لیکن یہ کیفیت عمومی اور وقتی ہو سکتی ہے طویل مدتی نہیں۔ اقتدار میں نہ آنے کے ثمرات کا اندازہ جیالوں کو ابھی نہیں، چند ماہ تک ہو گا۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ سیاست دراصل طاقت کا ایک ایسا کھیل ہے جس میں منزل اقتدار ہے، مفاد ہے۔ اگر سیاست کے سلیبس سے اقتدار کی حرص اور مفاد کی جنگ کو نکال دیا جائے تو سیاست خدمت بن جاتی ہے۔ یہ خدمت ایدھی ٹرسٹ کو تو خوش آ سکتی ہے، سیاست دانوں کو راس نہیں آتی۔ جس سماج میں وزارتوں کی خاطر بھائی بھائی سے بگڑ جاتا ہو، بیٹا باپ سے بغاوت کر دیتا ہو، وفاداری کو قدموں تلے روند دیا جاتا ہو، اس معاشرے میں ایسی دریا دلی نہ پہلے کبھی دیکھی نہ سنی۔سب کچھ شہباز شریف کی گود میں ڈال دیا۔ اسمبلی میں ن لیگ کے ہر فیصلے کو سپورٹ کرنے کی گارنٹی دے دی۔ ایسی خود سپردگی عشق میں تو سنی تھی سیاست میں یہ نیا واقعہ ہے۔ عمار کے مطابق پیپلز پارٹی کے حالیہ اقدامات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سمجھیں کہ بلاول بھٹو کیا کرنا چاہتے ہیں؟ ان کے مقاصد کیا ہیں؟ وہ کس سوچ کی پرورش کرنا چاہتے ہیں؟ کس جمہوریت کا نعرہ لگانا چاہتے ہیں؟ کون سے انسانی حقوق کا علم بلند کرنا چاہتے ہیں؟ ان کا مدعا کیا ہے؟ وہ کہنا کیا چاہتے ہیں؟ وہ کرنا کیا چاہتے ہیں؟ پیپلز پارٹی کے دامن پر جو چھینٹیں ماضی میں پڑیں انہیں کیسے دھونا چاہتے ہیں؟ انہیں جلدی کیوں نہیں ہے؟ وہ کس سورج کے طلوع ہونے کے منتظر ہیں؟
بلاول جس نانا کے نواسے ہیں اس نے پاکستان کا آئین دیا، نوے ہزار فوجیوں کو بھارت سے باعزت رہا کروایا، اسلامی سربراہی کانفرنس کروائی، سٹیل مل لگوائی، ایٹمی پلانٹ کی بنیاد رکھی۔ مزدوروں اور طلبا کو جمہوری حقوق دیے۔ ’قائد عوام‘ کا لقب ان کے حصے میں آیا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ کا ایک دردناک باب ہے۔عمار مسعود کہتے ہیں کہ بلاول جس ماں کے بیٹے ہیں، وہ پہلی مسلمان خاتون وزیراعظم بنیں۔ جس نے اپنے جمہوری شعور اور جدوجہد سے ضیاالحق جیسے آمر کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔ جس نے اس ملک میں لبرل سوچ کو پروان چڑھایا، جو دو دفعہ وزیر اعظم رہیں۔ جس کی سوچ جیالوں کے خون میں رچی بسی ہے۔ وہ بےنظیر جس طرح ختم کی گئی اس پر آج تک زمانہ ماتم کناں ہے۔
بلاول جس باپ کے بیٹے ہیں، اس باپ نے پاکستان میں سیاسی قیدی کے طور سب سے زیادہ جیل کاٹی ہے۔ گیارہ سال جیل میں رہنے کے بعد بھی ایک پائی کی کرپشن بھی ثابت نہیں ہوئی۔ وہ باپ پہلے وزیر بنا، پھر صدر پاکستان بنا اور اب ایک دفعہ پھر وہ صدر کی کرسی پر براجمان ہے۔ اب اس کے قویٰ مضمحل ہو رہے ہیں، آواز میں نقاہت ہے اور جسم جواب دے رہا ہے لیکن اس کے باوجود وہ پاکستان کے ایک طاقتور ترین عہدے پر براجمان ہے۔بھٹو خاندان کا ماضی صرف درخشندہ روایات کا منظر پیش نہیں کرتا بلکہ اس میں بہت سے غلط سیاسی فیصلے بھی پنہاں ہیں۔ بھٹو صاحب فہیم اور عاقل لیڈر ضرور تھے مگر ان کی نیشنلائزیشن کی پالیسی نے معیشت کی ایسی کمر توڑی کہ پھر یہاں بڑے کاروبار کرنے والے مفقود ہوگئے۔ اداروں کے قومیائے جانے کی پالیسی نہ ہوتی تو آج ہمارے ہاں بھی بہت سے مکیش امبانی جنم لے چکے ہوتے اور دنیا کی معیشتوں کو روز افزوں کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہوتے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی دو حکومتوں میں سیاسی مخاصمت اتنی بڑھی کہ مخالف جماعتوں کے خلاف مقدمات بنائے گئے، فائلیں کھلوائی گئیں، دونوں طرف سے نفرت کا بازار گرم کیا گیا۔ اس کا شاخسانہ ہم نے جنرل مشرف دور کی صورت بھگتا۔ محترمہ کو جب اس ملک کی سیاست کی سمجھ آئی تو پھر انہیں سیاست کا موقع نہیں دیا گیا۔ مفاہمت کا نعرہ لگانے والی دلیرعورت کا گلا ایک نامعلوم گولی نے چیر دیا۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے سیاسی مخالفین خصوصا نواز شریف نے آصف زرداری کا نام مسٹر ٹین پرسنٹ ڈالا لیکن پھر دونوں جماعتوں نے میثاق جمہوریت قائم سائن کرنے کے بعد 2008 میں مشترکہ حکومت بھی بنائی۔ لیکن نواز شریف نے چند ہی ہفتوں بعد پیپلز پارٹی کی وفاقی کابینہ سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ لہذا اب اگر مسلم لیگی قیادت بلاول اور زرداری کی جانب سے کسی ایسے ہی فیصلے کے خدشے میں مبتلا ہے تو یہ خدشہ جائز ہے۔
عمار کے مطابق بلاول بھٹو نے اب جو شراکت اقتدار سے انکار کیا وہ درست ترین فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اب معاشی حالات درست کرنے کے لیے کوئی معجزہ درکار ہے اور بلاول جانتے ہیں کہ اس دور میں معجزے نہیں ہوتے۔ موجودہ حکومت کے ساتھ جو کچھ چند ماہ بعد ہونا ہے بلاول اس کا الزام اپنے سر نہیں لینا چاہتے۔ اپنا دامن اس عوامی عتاب سے بچا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ بلاول بھٹو کو اس کے علاوہ ماضی کے بہت سے قرض بھی اتارنے ہیں۔ اپنے نانا کی نیشنلائزیشن کی پالیسی کا قرض اتارنا ہے۔ اپنی والدہ کے سیاسی مخاصمت پر مبنی فیصلوں کا قرض بھی اتارنا ہے۔ اپنے والد پر جو الزامات ہیں ان کا جواب بھی دینا ہے۔ یہ سہل کام نہیں لیکن جس طرح وزیر خارجہ کے طور پر بلاول نے سیاسی دانش کا مظاہرہ کیا ہے اس سے توقع کی جا سکتی ہے کہ آنے والے دور میں وہ سب قرض چکا دیں گے۔ ابھی وہ نوجوان ہیں اور وقت کا پلڑا ان کے حق میں جھکا ہوا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا انہیں وزارت عظمی حاصل کرنے کے لیے پانچ برس انتظار کرنا پڑے گا یا اس سے پہلے ہی وہ وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہو جائیں گے۔
