سائفر جھوٹ، امریکہ کا عمران حکومت کے خاتمے میں کردار نہیں

جنوبی اور وسط ایشیا کے امور کے لیے اسسٹنٹ سیکریٹری ڈونلڈ لو نے امریکی ایوان نمائندگان کی امور خارجہ کی کمیٹی کو بریفنگ کے دوران موقف اپنایا ہے کہ پاکستان میں معاشی استحکام امریکا کے مفاد میں ہے اور پاکستان کی کامیابی امریکا کی بھی کامیابی ہے، امریکا پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کرتا ہے، سائفر سازش سراسر جھوٹ اور بے بنیاد ہے اور امریکا کا عمران خان حکومت خاتمے میں کوئی کردار نہیں۔
اس حوالے سے امریکی ایوان نمائندگان کی امور خارجہ کی کمیٹی نے پاکستان میں انتخابی عمل میں دھاندلی کے الزامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی سفیر کو بانی پاکستان تحریک انصاف سے جیل میں جا کر ملاقات کرنے کی ہدایت کی، امریکی ایوان نمائندگان کی امور خارجہ کی مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور وسط ایشیا کی ذیلی کمیٹی نے پاکستان میں انتخابات کے حوالے سے معاملات کی سماعت کی جس کے دوران اسسٹنٹ سیکریٹری ڈونلڈ لو نے کا کہنا تھا کہ سائفر کو امریکی سازش قرار دینے کا بانی پی ٹی آئی کا الزام جھوٹ پر مبنی ہے اور پاکستانی سفیر اسد مجید تصدیق کرچکے ہیں کہ سائفر کا الزام جھوٹ ہے۔امریکی بیورو کے سیکریٹری نے کہا کہ پاکستان کے عوام دہشت گردی کا شکار ہیں اور دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کو امریکی تعاون درکار ہے۔پاکستان امریکا کا اہم پارٹنر ہے، پاکستان اس وقت قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور امریکی سرمایہ کاری کے لیے بہترین مقام ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 8فروری کو ہونے والے انتخابات میں عوام نے بھرپور طریقے سے حق رائے دہی استعمال کیا، ہمیں انتخابات میں دھاندلی کے الزامات پر تشویش ہے جن کی تحقیقات ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ امریکا پاکستان میں انتخابات کے موقع پر تشدد کی مذمت کرتا ہے اور آزادی رائے اگر تشدد کی دھمکیوں تک چلی جائے تو یہ ٹھیک نہیں۔ریپبلیکن شرمین نے ڈونلڈ لو کو ہدایت کی کہ امریکی سفیر عمران خان سے جا کر جیل میں ملاقات کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ یہ بتانے کے لیے زندہ رہیں کہ انہیں خاص طریقے سے نشانہ بنا کر کس طرح غلط طریقے سے جیل میں ڈالا گیا۔
