تحریک انصاف کے "آزاد” امیدواروں کی جیت اسٹیبلشمنٹ کے لئے فائدہ مند؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ اللّہ خان نیازی نے کہا ھے کہ عمران خان آج اپنی پارٹی اسٹیبلشمنٹ کے حوالے کر چکے ان کا واحد اثاثہ پبلک سپورٹ اور بالغ رائے دہیپر انحصار ھے جس کے لیے انہیں بیلٹ باکس کی ضرورت ھے جس سے وہ محروم ھو چکے ہیں ۔ تحریک انصاف کے ووٹرز بے بس ، بے کس اور بے یار و مددگار ہیں ،وہ اس شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ ووٹ دیتے ہیں تو اسٹیبلشمنٹ کی جیت ھو گی ، گھر بیٹھتے ہیں تو بھی اسٹیبلشمنٹ جیت جائے گی ۔ آزاد امیدواروں کی جیت تو اسٹیبلشمنٹ کے زیادہ فائدے میں ھے۔اپنے ایک کالم میں حفیظ اللّہ نیازی لکھتے ہیں کہ عمران خان اپنی لڑائی اسٹیبلشمنٹ کیساتھ جس انتہا تک پہنچا چکا تھا اس کے بعد یہ بات طے تھی کہ دونوں میں سے ایک کو ہی رہنا ہے ۔ یہ لڑائی کی ایسی قسم ھے جس میں اسٹیبلشمنٹ بات کرنے پر تیار ھے نہ موڈ میں ہے ۔اس سے پہلے بھٹو اور اسٹیبلشمنٹ کے مقابلے میں جنرل ضیاء الحق کسی صورت بھٹو کیساتھ بات کرنے پر تیار نہ تھے ۔
حفیظ اللّہ نیازی کے مطابق نواز شریف پر بیتے مسائل عمران خان کو منتقل ھو چکے ہیں اور عمران خان پر برسی نوازشات آج نواز شریف کا مقدر بن چکی ہیں ۔لیکن دونوں میں حیران کُن مماثلت یہ ہے کہ ،جج محمد بشیر کو وزیراعظم نواز شریف نے 2015ءمیں توسیع دی اور 2018ءمیں ان سے ہی سزائیں پائیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے 2018 ءاور 2021ءمیں اس جج کو دو دفعہ توسیع دی ، آج ان سے ہی 14 سال سزا پاچکے ۔ہماری اسٹیبلشمنٹ کئی رہنما اصولوں پر سختی سے کاربند ہے ۔ جب وہ کچھ کر گزرنے یا کچھ پانے کا ارادہ باندھتے ہیں تو یہ سفر ،”نان سٹاپ‘‘، منزل پر اختتام پذیر ہوتاہے۔ اختلاف رائے رکھنے والے سیاستدان ، وزرائے اعظم کا مقدر لقمہ اجل ، جیل یا جلا وطنی ھوتی ھے ۔ ہر حالت میں ایک عرصہ تک سیاست کے دروازے ان پر بند رہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی اٹل حقیقت جس سے آنکھیں چرانا سیاسی عاقبت نا اندیشی ہو گی ۔ عمران خان کی بہن نے بھائی کی صورتحال یا حالت زار کاجامع نقشہ دو فقروں میں باندھ دیا ،’’ کہاں ہیں وہ وکلاء جو کہتے تھے کہ وکلاء لشکر بن کر ٹوٹ پڑیں گے ؟ آج سارے وکلاء عمران خان کو کسمپرسی میں چھوڑ کر اپنی اپنی الیکشن کمپین میں مصروف ہیں‘‘۔
حفیظ اللّہ خان نیازی کہتے ہیں کہ گوہر خان کی تعیناتی پر واویلا تھا کہ PTI اُچک لی گئی ہے اس میں عمران خان کی رضا و رغبت شامل رہی ہوگی ۔ عمران خان نے چشم تصور میں اسٹیبلشمنٹ سے جو ڈیل کرنی ہوگی وہ اس کو اس ڈیل کی شروعات سمجھ رھے ہوں گے ۔ حالانکہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان سے کسی قسم کی ڈیل کی دلچسپی نہیں رکھتی ۔ اگرچہ پارٹی میں نقب لگائی جا چکی ہے ، غیر متعلقہ عناصر سے پارٹی کا قبضہ چھڑانے کیلئے کچھ بچے کھچے پرانے نامور لوگ بھی متحرک ہو چکے ہیں اور پارٹی کو بچانے کیلئے سر توڑ کوشش کر رہے ہیں ۔بالفرض محال کوشش کامیاب ہو بھی گئی تو تحریک انصاف کا اب اصل حالت میں بحال ہونا ناممکن ہے ۔ بحال شدہ پارٹی گوہر خان کی تحریک انصاف سے قطعاً مختلف نہیں ہوگی کہ اب اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف کی ہر رگ میں سرایت کر چکی ہے ۔رہا معاملہ بہنوں کا توآنے والے کئی سال تک انہیں در بدر پھرناہے مگر آخری سانس تک عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گی
حفیظ اللّہ نیازی کے مطابق بے چارے ورکرز سپورٹرز کچھ عرصہ تک عمران خان کو اپنی گفتگو کی زینت بنائے رکھیں گے تا آنکہ ایک نسل تبدیل ہوگی ،عمران خان کی بہن کا یہ واویلا کہ میرا بھائی اکیلا ہے تو اس میں عمران خان کی اپنی کوہ تا اندیشی اور خود غرضی ہے کہ آج وہ آج بیچارگی ، بے بسی اور لاچاری کی گرفت میں ہے ۔ اپنی ذات کو بے پناہ طاقتور اور مقبول بنانے کیلئے ، متبادل قیادت کی سوچ کبھی ان کے قریب بھی نہ پھٹک پائی ۔ ’’ عمران موروثی سیاست‘‘ کے نام پر تالیاں بجوا کر خوش ہوا ، بہنوں کو خاطر میں نہ لایا ، حلف وفاداری کی تقریب سے لیکر 10اپریل 2022 تک انہیں بے دخل رکھا ۔ آج وہی بہنیں اپنی زندگی ، اپنی سوچ ، اپنے دن رات اپنے بھائی کیلئے خلوص کیساتھ وقف کر چکی ہیں ، اسکے بیانیہ کو لیکر آگے بڑھنا لیکن انکے لئے ممکن نہیں ہے۔
حفیظ اللّہ خان نیازی کہتے ہیں کہ آج عمران خان کو سخت سزاؤں کے باوجو د گوہر خان سمیت پارٹی قیادت پُر امن احتجاج سے بھی احترا ز برت رہی ہے۔ 9مئی کا واقعہ الطاف حسین کے 2015ء خطاب سے کہیں زیادہ سنگین ھے ۔ عمران خان کے سخت بیانیہ کو کوئی ان کا کوئی بااعتماد ساتھی بھی اب اپنانے کو تیار نہیں۔آج کڑے وقت میں ، بینظیر ، مریم نواز ، حسینہ واجد ، راجیو گاندھی ، کوری اکینو، بندرا نائیکے ، ایک بھی فرد ایسا نہیں جو عمران خان کا سخت بیانیہ عام کرنے کیلئے صف اول میں موجود ہو ۔ پھانسی سے چند دن پہلے بھٹو نے دل دہلا دینے والے چند فقرے کرنل رفیع الدین کو کہے، ،’’ کرنل ! آج میں تنہا ہوں ۔ نصرت اور بینظیر کے علاوہ آج میرے ساتھ کوئی نہیں ہے‘‘۔ آج عمران خان بھی اکیلا اور تنہا ھے ۔ عمران خان کی اپنی والی تحریک انصاف عملاً تحلیل ہو چکی ہے ۔عمران خان کی متاع سیاست لٹ چکی ۔’’وائے ناکامی!متاع زندگی و کارواں ، سیاست سب کچھ جاتا رہا‘‘۔
