تحریک انصاف کے اراکین نے ثانیہ نشتر پر نشتر چلا دیے

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہونے والے غیر مستحق افراد کی نشاندہی کے بعد تحریک انصاف کے پارلیمانی اراکین بھی وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے خلاف ہوتے نظر آتے ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے حالیہ اجلاس کے دوران کئی ممبران نے ثانیہ نشتر پر نشتر برساتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ ان کے سیاسی مخالفین کو فائدہ پہنچا رہی ہیں نہ کہ تحریک انصاف کے لوگوں کو۔ جواب میں ڈاکٹر ثانیہ کا کہنا تھا کہ کابینہ میں ایک ’چھوٹی سی اقلیت‘ ہے جو چیزوں کو پرانے انداز سے چلانا چاہتی ہے اور سماجی تحفظ کے سرکاری پروگرام پر سیاست کرنا چاہتی ہے۔ ایسے پروگرام ماضی میں سیاست کےلیے استعمال کیے جاتے تھے جن کا مقصد ووٹ بینک بنانا ہوتا تھا۔‘ ان کا موقف تھا کہ یہ پروگرام غیر سیاسی بنیادوں پر چلنا چاہیے۔ اور جب تک میں اسکی انچارج یوں، ہوں یہ ایسے ہی غیر سیاسی بنیادوں پر چلے گا۔‘
یاد رہے کہ گزشتہ سال نئی حکومت نے تخفیف غربت کے سب سے بڑے پروگرام کی بنیاد رکھی جسے احساس پروگرام کہا جاتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت غریبوں کی مدد کےلیے 134 پالیسیز متعارف کروائی گئیں جن کا مقصد بیواؤں، یتیموں، مزدوروں، طلبہ، کسانوں اور بزرگ شہریوں کومعاونت فراہم کرنا تھا۔
یہ ایک مشکل کام تھا لیکن ڈاکٹر ثانیہ نشتر جانتی تھیں کہ انہیں سیاسی محاذ سے مخالفت کا سامنا ہوگا۔ ان کے مطابق جب وزیراعظم عمران خان نے انہیں کابینہ میں شمولیت کی پیشکش کی تو وہ تذبذب کا شکار تھیں۔ انہوں نے کام کرنے کی مکمل آزادی کی یقین دہانی پر یہ حامی بھری۔
ڈاکٹر ثانیہ نشتر کہتی ہیں کہ ’وزیراعظم عمران خان ایک ایسے انسان محسوس ہوتے ہیں جو غریبوں کے مسائل حل کرنے میں مخلص ہیں۔ میں نے آج تک وہی کیا ہے جو ٹھیک ہے اور اگر مجھے وزیر اعظم کی حمایت نہ حاصل ہوتی تو میں آج یہاں نہ ہوتی۔‘
مارچ سے ایک کے بعد پروگرام ماہانہ بنیادوں پر شروع کیے جا رہے ہیں جن کی عوامی تقریبات میں وزیراعظم خود بھی شریک ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ پروگراموں میں سوپ کچن، اور بے گھر افراد کےلیے شیلٹر ہومز بنانا شامل ہے۔ وہ خواتین جن کا کوئی ذریعہ آمدن نہیں ہے ان کےلیے کفالت پروگرام شروع کیا گیا ہے جس میں انہیں ماہانہ دو ہزار روپے کا وظیفہ دیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو روکنے کی کوششوں کے باوجود ان کا عزم مزید مضبوط ہوا ہے۔ گزشتہ مہینے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں سے 8 لاکھ افراد کو نکال دیا گیا ہے۔ یہ پروگرام 2008 میں شروع کیا گیا تھا جس کے تحت بغیر ذرائع آمدن والی خواتین کو امدادی رقم دی جاتی تھی۔ اب یہ پروگرام احساس پروگرام کے تحت آگیا ہے۔
ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے صحافیوں کو بتایا کہ نکالے جانے والے نام ’غیر مستحق‘ افراد کے تھے۔ نکالے جانے والے ناموں میں سے ایک لاکھ 40 ہزار سرکاری ملازمین کے نام بھی شامل تھے جب کہ کچھ افراد گاڑیوں اور گھروں کے مالک تھے۔ ان کے علاوہ کئی افراد بیرون ملک دورے بھی کر چکے تھے۔
ڈاکٹر ثانیہ نشتر کہتی ہیں کہ ’حال ہی میں ایک رکن قومی اسمبلی مجھ سے ملنے آئے اور شکایت کہ ان کے گھر کی ملازمہ کا نام بھی بی آئی ایس پی سے نکال دیا گیا ہے کیوں کہ وہ عمرے پر جا چکی ہیں۔ تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ ملازمہ آپ کے گھر میں ہی رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا ہاں۔ میں نے پوچھا کہ ان کے کھانے پینے کا اور باقی اخراجات آپ اٹھاتے ہیں تو ان کا کہنا تھا ہاں۔ تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نہیں سمجھتے کوئی اور خاتون اس امدادی رقم کی زیادہ مستحق ہے؟ یہ پروگرام سب سے غریب طبقے کےلیے ہے۔‘
بی آئی ایس پی اور کفالت پروگرام کا مقصد پاکستان میں ستر لاکھ خواتین کی مالی معاونت کرنا ہے۔
گزشتہ ہفتے ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے اعلان کیا ہے کہ امداد کی سہ ماہی رقم کو چھ ہزار تک بڑھا دیا جائے گا۔
