تحریک انصاف 2023 کے الیکشن میں کیوں ناکام ہو گی؟

سینئر صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ نے پیش گوئی کی ہے کہ 2023 کے انتخابات میں تحریک انصاف اقتدار ہار جائے گی جسکی بنیادی وجہ بری حکومتی کارکردگی کے علاوہ یہ حقیقت بھی ہے کہ آج دن تک پاکستان میں کوئی بھی سیاسی جماعت جس نے اپنے اقتدار کے پانچ سال پورے کیے ہیں، وہ اگلا الیکشن جیتنے میں ناکام رہی ہے۔
اپنے تازہ ترین تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ حقائق کو چھوڑیے فرض کر لیتے ہیں کہ سینیٹ الیکشن میں پی ٹی آئی کو کوئی نقصان نہیں ہو گا، یہ تصور بھی کر لیتے ہیں کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اگلے دو سال ایک ہی صفحے پر ر ہیں گےاور اپوزیشن کے واویلے، تحریک، لانگ مارچ یا جلسے جلوسوں سے کچھ فرق نہیں پڑے گا۔
یہ بھی سوچ لیتے ہیں کہ پی ٹی آئی اسی طرح 2023ءتک حکومت کرتی رہے گی، معیشت کو تھوڑا بہت سنبھالا مل جائے گا، برآمدات کچھ بہتر ہو جائیں گی مگر مستقبل قریب میں کوئی بڑا معاشی انقلاب نہیں آنے والا، چنانچہ 2023ء کا الیکشن کم و بیش آج ہی کے معاشی اور سماجی حالات میں ممعقد ہو گا۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ 2023ء میں جب پی ٹی آئی پانچ سال بعد الیکشن میں اترے گی تو کش منہ سے؟ ماضی کی انتخابی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو جب بھی کسی سیاسی حکومت نے وفاقی انتخابات کروائے ہیں، وہ دوبارہ سے جیت کر حکومت نہیں بنا سکی۔ 1977ء میں بھٹو صاحب کی پارٹی الیکشن تو جیت گئی مگر دھاندلی کے الزامات پر تحریک چلی اور پھر مارشل لا کے نتیجے میں انہیں رخصت ہونا پڑا۔ محمد خان جونیجو، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو اپنا مینڈیٹ پورا کرنے کا موقع ہی نہ ملا، وہ پہلے ہی رخصت کر دیے گئے۔
آصف علی زرداری کو 2013ء میں موقع ملا کہ وہ اپنا پانچ سالہ مینڈیٹ پورا کرکے نئے الیکشن کے لئے جائیں تو انکی جمارت بری طرح ناکام ہوئی، اس سے پہلے ق لیگ بھی پانچ سالہ مدت کے بعد الیکشن میں ناکام ہی ٹھہری، ن لیگ نے پانچ سال پورے کئے، الیکشن 2018ء میں گئی تو تحریک انصاف اکثریتی پارٹی بن گئی۔ غرضیکہ ماضی میں کسی بھی برسراقتدار پارٹی کے دوبارہ انتخابات جیتنے کی مثال موجود نہیں ہے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت کی بری کارکردگی بھی ذہن میں رکھنی چاہیے۔ تحریک انصاف کے پاس عوام کو دکھانے کے لئے نہ موٹر ویز اور ہائی ویز ہیں اور نہ بجلی یا دوسرے کارخانے، نہ کوئی لمبے چوڑے ترقیاتی منصوبے ہیں اور نہ پانی اور گیس گھر گھر پہنچانے کی کوئی داستان۔ آ جا کر یہی کہا جائے گا کہ ماضی کے قرضے ادا کئے، خراب معیشت کو ٹھیک کیا اور ملک کو سیدھے راستے پر ڈال دیا ہے، اس بیانیے پر لوگ کس حد تک یقین کریں گے اور کیا اس وعدے پر دوبارہ اعتماد کا ووٹ دیں گے کہ وہ بےروزگاروں کو روزگار دیں گے، 50 لاکھ گھر بنا کر دیں گے اور ایسا ماحول پیدا کریں گے کہ باہر سے آ کر لوگ پاکستان میں نوکری کریں گے۔ بیرون ملک پڑے اربوں روپے کے کالے دھن کو واپس لا کر ملک کا سارا قرض اتار دیں گے۔ نعرے، وعدے اور پھر ان پر عملدرآمد نہ کرنا تحریک انصاف کے لئے مشکل کا باعث بنے گا۔ سہیل وڑائچ کے مطابق اڑھائی سال گزرنے کے باوجود ایسا نہیں لگتا کہ پنجاب کی سوچ تبدیل ہو گئی ہے۔ ضمنی انتخابات میں نواز لیگ نے ڈسکہ اور وزیر آباد سے ریکارڈ ساز ووٹ حاصل کیے ہیں۔ الیکشن 2018 میں بھی لاہور اور گوجرانوالہ ڈویژن میں مسلم لیگ ن بھاری اکثریت سے جیتی تھی، راولپنڈی اور فیصل آباد ڈویژن میں ن لیگ کی کارکردگی خراب رہی۔ راولپنڈی میں تو یوں لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کی نظریاتی لہر نے نون لیگ کو مستقل طور پر دبا دیا ہے لیکن فیصل آباد میں ابھی کشمکش جاری ہے اور ہو سکتا ہے کہ ن لیگ پھر سے سر اٹھائے اور 2023ء کے الیکشن میں پی ٹی آئی کا صفایا کر دے کیونکہ فیصل آباد سے پی ٹی آئی کے جیتنے والے ٹکٹ ہولڈرز بشمول راجہ ریاض، شیر وسیر وغیرہ سب ناراض اور دل گرفتہ ہیں۔
دوسری طرف پی ٹی آئی کے حمایتی کہتے ہیں کہ ن لیگ کا ووٹر مایوس ہے، اسے ن لیگ کی کرپشن کے الزامات کا شافی جواب نہیں مل رہا، اس لئے وہ غیر متحرک اور چپ ہے اور اگر صورتحال ایسے ہی رہی تو یہ ووٹر اپنی رائے بدل سکتا ہے۔ لیکن سہیل وڑائچ کے مطابق حقیقت احوال یہ ہے کہ ن لیگ کا مڈل کلاس کاروباری ووٹر اپنی سیاسی ہمدردی کا اظہار صرف ووٹ کی پرچی سے کرتا ہے۔ وہ اپنے کاروباری اور دنیاوی معاملات کو سیاست کی وجہ سے خراب کرنے کا قائل نہیں ہے۔ وہ جلسے جلوس یا احتجاج کے لئے اپنی دکان یا کاروبار بند کرنے کو تیار نہیں۔
ن لیگ کے ووٹر کا یہ پیٹرن آج سے نہیں شروع سے ہے، وہ صرف الیکشن ڈے پر نہا دھو کر تیار ہو کر ووٹ ڈالتے ہیں، وہ سیاست میں اپنا اتنا ہی حصہ ضروری خیال کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ لاہور اور گوجرانوالہ میں اکثریتی جماعت ہونے کے باوجود ن لیگ کے احتجاجی جلسے بہت بڑے نہیں ہو پاتے۔ اب تک جتنے سروے آئے ہیں ان سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ اگر آج پنجاب میں الیکشن ہوں اور ان میں غیرجانبداری یقینی بنائی جائے تو اب بھی مسلم لیگ ن کا پلڑا بھاری رہے گا۔ ویسے بھی ماضی میں کوئی سیاسی حکومت پانچ سال پورے کرنے کے بعد دوبارہ منتخب نہیں ہوئی، چنانچہ اگلے عام انتخابات میں بھی پی ٹی آئی کے جیتنے کا امکان بہت کم ہے۔
اس لئے بہتر ہے کہ آئندہ انتخابات کے حوالے سے پی ٹی آئی ابھی سے منصوبہ بندی شروع کرے اگر اس کی پٹاری میں عوام کو دینے کے لئے کچھ ہے تو اس کا یہی وقت ہے۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کا بیانیہ دراصل تنخواہ دار اور کارپوریٹ مڈل کلاس کا بیانیہ تھا جو میرٹ، ٹیکس دہندگی اور قانون کی پابندی پر مشتمل تھا۔ اس بیانیے میں بزنس مڈل کلاس کے پاس دولت کے انبار ہونے اور ان کی لوٹ مار کے خلاف تعصب مخفی تھا چنانچہ ججوں، جرنیلوں اور دوسرے تنخواہ دار طبقات کا یہ بیانیہ بزنس کلاس کے نمائندگان کو انجام تک پہنچا کے رہا مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ بیانیہ اب کمزور ہو گیا ہے۔
دوسری طرف بزنس مڈل کلاس کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ پی ٹی آئی کا یہ بیانیہ بالآخر بزنس کے لئے منفی ثابت ہو چکا ہے اور جب تک یہ حکومت موجود ہے بزنس کلاس کے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی اور دوسری جماعتوں کے لئے وقت تیزی سے گزر رہا ہے، آج انتہائی آسانی سے یہ پشین گوئی کی جا سکتی ہے کہ اگلے دس سال میں پاکستان کی ریاست مکمل طور پر بدل جائے گی۔ نئے چہرے اور نئے نام سامنے آ جائیں گے، انسانی زندگی کی حدود میں میری زندگی بھی محدود ہے اور اہل سیاست کی زندگی بھی۔ سہیل وڑائچ یاد دلواتے ہیں کہ عمران خان 68 برس کے ہیں اور نواز شریف 71 سال کے۔ 2023ء کے الیکشن میں عمران 70 سال کے ہوں گے اور نواز شریف 72 سال کے، لیکن دونوں لیڈروں نے اپنی پارٹی کے اندر کوئی ایسا میکنزم نہیں بنایا جو ایک مستقل بندوبست ہو اور ان کی عدم موجودگی میں اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اس لئے ہم ہوں نہ ہوں اگلے آٹھ نو سال میں نئے سیاسی چیلنج ہوں گے۔ نئے سیاسی لیڈر ہوں گے۔ نئے سیاسی بیانیے ہوں گے اور ساتھ ہی ساتھ ملک کو چلانے کے لئے پہلے سے بہتر اور اچھے پروگرام اور منشور بھی سامنے آئیں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ 2023ء کا الیکشن جو کہ پی ٹی آئی اور ن لیگ کے درمیان ہو گا اور اس فیصلہ کن جنگ کے بعد سیاست نیا رخ اختیار کرے گی۔ لیکن اگر پی ڈی ایم انتخابی اتحاد کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور 2023ء کے الیکشن میں ساری جماعتیں مل کر پی ٹی آئی کے مقابلے میں اترتی ہیں تو پھر یہ معرکۃ الآرا انتخاب ہو گا۔ دونوں صورتوں میں اگلا اقتدار پی ٹی آئی کو ملنے والا نہیں۔
