نوشہرہ میں پرویز خٹک نے عمران خان کو کیسے ہرایا؟

19 فروری کو ہونے والے ضمنی الیکشن کے نتائج نے تب کپتان حکومت کی صفوں میں کھلبلی مچا دی جب پی ٹی آئی کا گڑھ سمجھے جانے والے وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کے آبائی حلقے پی کے 63 نوشہرہ کی صوبائی نشست مسلم لیگ ن نے چھین لی۔ نوشہرہ سے پی ٹی آئی کی شکست اس لیے بھی حیران کن ہے کہ تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں اب تقریبا آٹھ برس سے برسر اقتدار ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس شکست کی بڑی وجہ حکومت کی ناقص ترین کارکردگی اورانتخابی حلقے میں پارٹی رہنماؤں کے اندرونی اختلافات تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پرویز خٹک کے خاندانی ذرائع اس شکست کو عمران خان کی شکست اور پرویز خٹک کی فتح قرار دے رہے ہین۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ نوشہرہ کے اس حلقے سے پرویز خٹک نے اپنے بھائی اور رکن صوبائی اسمبلی لیاقت خٹک کے بیٹے احد خٹک کے لیے ٹکٹ مانگی تھی لیکن عمران خان نے ٹکٹ کسی اور کو دے دیا۔
خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں صوبائی اسمبلی کے حلقے پی کے63 میں 19 فروری کو ہونے والے ضمنی انتخاب کے غیر سرکاری اور غیرحتمی نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار اختیار ولی نے چار ہزار سے زائد ووٹوں کی برتری سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار میاں محمد عمر کو شکست دے دی یوں تحریک انصاف کو بڑے اپ سیٹ کا سامنا کرنا پڑا اور مسلم لیگ ن نے عام انتخابات میں تحریک انصاف کی جیتی ہوئی نشست اپنے نام کر لی۔ خیال رہے کہ یہ سیٹ پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی رکن اسمبلی میاں جمشید الدین کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔ پشاور کے ریٹرننگ افسر کے دفتر میں موصول ہونے والے 102 پولنگ سٹیشنز کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے امیدوار اختیار علی کو سب سے زیادہ ووٹ ملے۔ غیر سرکاری، غیر حتمی نتائج کے مطابق اختیار ولی 21 ہزار 208 ووٹ لے کر پہلے اور پی ٹی آئی کے میاں محمد عمر 17 ہزار 97 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے جبکہ تیسرے نمبر پر چار ہزار 270 ووٹوں کے ساتھ عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار میاں وجاہت رہے۔
انتخابات سے قبل یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل جماعتیں شاید اتحاد کرکے پی ٹی آئی کے امیدوار کے مدمقابل ایک ہو جائیں۔ اگرچہ مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حمایت کا اعلان بھی کیا گیا تھا لیکن پھر بھی عوامی نیشنل پارٹی نے اپنا امیدوار کھڑا کر دیا۔ چنانچہ اسی حلقے سے عوامی نیشنل پارٹی کے میاں وجاہت اللہ، پی ٹی آئی کے میاں محمد عمر جو سابق صوبائی اسمبلی کے رکن میاں جمشید الدین کے بیٹے ہیں اور پاکستان مسلم لیگ ن کے اختیار ولی ایک دوسرے کے مد مقابل تھے۔
تاہم کانٹے کا مقابلہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کےامیدواروں کے مابین پہلے سے متوقع تھا۔ اسی حلقے سے 2013 اور 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے جب کہ مسلم لیگ کے موجودہ امیدوار اختیار ولی 2018 کے انتخابات میں دوسرے نمبر پر تھے۔ 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے میاں جمشید الدین 24 ہزار 760 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے، جبکہ اختیار ولی نے 13 ہزار 60 ووٹ حاصل کیے تھے۔
2018 کے انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی نے نو ہزار 372 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار پانچ ہزار 684 ووٹ لے کر چوتھے نمبر پر تھے، لیکن اب ضمنی انتخابات میں پی پی پی نے کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا اور اس نے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی ایک پریس کانفرنس میں مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
اس حلقے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق کل ایک لاکھ 41 ہزار 934 ووٹ رجسٹرڈ ہیں جبکہ ضمنی انتخابات کے لیے 102 پولنگ سٹیشن بنائے گئے تھے۔ اس حلقے میں ضمنی انتخابات سے قبل پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔ پی ٹی آئی کے وفاقی وزیر اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کا تعلق اسی ضلع سے ہے اور وہ اس حلقے میں کافی اثر رسوخ رکھتے ہیں، تاہم جب میاں جمشید الدین کے انتقال کے بعد پرویز خٹک کے بھائی صوبائی رکن اسمبلی لیاقت خٹک نے اسی حلقے سے اپنے بیٹے احد خٹک کو انتخابات میں حصہ دلوانے کی خواہش ظاہر کی تھی تو پارٹی نے انہیں ٹکٹ نہیں دیا تھا اور میاں جمشید الدین کے بیٹے کو نواز دیا تھا۔
چنانچہ پرویز خٹک کا خاندان عمران خان سے ناراض ہو گیا تھا۔ تاہم دید لحاظ رکھتے ہوئے پرویز خٹک نے خاموشی اختیار کیے رکھی اور ضمی انتخابات کے لیے انتخابی مہم میں بھی شرکت کرتے رہے۔ تاہم انکی ناراض بھائی لیاقت خٹک نے میڈیا کسان نے اپنا اظہار ناراضی کر دیا تھا اور عمران خان سے ملاقات کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا جو پوری نہ ہو سکی۔
چنانچہ مبصرین سمجھتے ہیں کہ نوشہرہ کے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کی شکست عمران خان کی شکست یے اور خٹک خاندان کی جیت ہے۔
مبصرین کے مطابق اس الیکشن میں ایک بات یہ بھی سامنے آئی کہ پی ٹی آئی کو ہمدردی کا ووٹ بھی نہیں ملا کیوں کہ عمومی طور پر جب کسی رکن اسمبلی کا انتقال ہو جائے تو ان کا رشتے دار امیدوار ہمدردی کا ووٹ حاصل کرتا ہے اور زیادہ تر کیسز میں وہی جیت جاتا ہے۔ مثال کے طور پر عوامی نیشنل پارٹی کے سابق رکن اسمبلی ہارون بلور کی شہادت کے بعد ان کی اہلیہ ثمر بلور کو ہمدردی کا ووٹ ملا تھا اور وہ جیت گئی تھیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ صوبے میں پی ٹی آئی کی کارکردگی اتنی بری ہے کہ اب ان کے امیدواروں کو ہمدردی کا ووٹ بھی نہیں مل رہا۔
دوسری جانب مبصرین یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کا اتحاد بھی پی ٹی آئی شکست کی ایک وجہ ہے کیونکہ ایک جانب اگر عوامی نیشنل پارٹی نے اپ ا امیدوار کھڑا کر بھی دیا تو دوسری جانب پی ڈی ایم میں شامل جمعیت علمائے اسلام اور پی پی پی نے اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا جسکا فائدہ ن لیگ کے امیدوار کو ہوا۔ مبصرین کے مطابق حلقے میں انتخابت شفاف نظر آئے ہیں کیونکہ جتنے بھی نتائج موصول ہوئے ہیں وہ پولنگ سٹیشن سے موصول ہوئے ہیں جبکہ اس سے پہلے انتخابات میں پولنگ سٹیشن سے انتخابی نتائج ملنا مشکل تھا۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ اس انتخاب میں سکیورٹی فورسز کے جوان پولنگ سٹیشن کے باہر سکیورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے جب کہ اس سے پہلے انتخابات میں زیادہ تر ان کو پولنگ سٹیشن کے اندر تعینات کیا گیا تھا۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ مستقبل میں عمران خان اور ان کے وزیر دفاع پرویز خٹک کے معاملات کیسے چلتے ہیں اور ان کے اختلافات میں اضافہ ہوتا ہے یا کمی ہوتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button