تحریک طالبان کے لیے معافی شہیدوں کے خون سے غداری قرار


وزیراعظم عمران خان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کو عام معافی دینے کی تجویز شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ 80 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی قاتل دہشت گرد تنظیم کو معافی دینا شہیدوں کے خون سے غداری کے مترادف ہوگا۔

وزیر اعظم عمران خان نے ترک میڈیا ٹی آر ٹی کو انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان سے ہتھیار ڈالنے کے لیے افغان طالبان کے ذریعے بات چیت کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی طالبان کے چند گروپس ہم سے مصالحت کے لیے بات کرنا چاہتے ہیں اور ہم ان کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی مختلف گروپس پر مشتمل ہے اور ہم ان میں سے چند کے ساتھ ہتھیار ڈالنے اور صلح کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔

افغان طالبان کے اس معاملے میں مدد کے حوالے سے ایک سوال پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘ٹی ٹی پی والوں سے بات چیت افغانستان میں جاری ہے اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ وہ اس معاملے میں ہماری مدد کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم ہتھیار ڈالنے پر انہیں معاف کردیں گے جسکے بعد وہ پاکستان میں عام شہریوں کی طرح رہ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس مسئلے کے فوجی حل پر یقین نہیں رکھتا اور سیاست دان ہونے کے ناطے سیاسی مذاکرات کو ہی صحیح راستہ سمجھتا ہوں جیسا کہ میں نے افغانستان کے بارے میں بھی کہا تھا۔

تاہم ناقدین نے عمران خان کا یہ موقف سختی سے رد کیا ہے اور یاد دلایا ہے کہ وہ پاکستانی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ تو مذاکرات پر تیار نہیں لیکن ہزاروں معصوم پاکستانیوں کے قاتلوں کے ساتھ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر خفیہ مذاکرات کر رہے ہیں۔ زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ پاکستانی طالبان کے ساتھ افغان طالبان کے ذریعے مذاکرات کر رہے ہیں جبکہ یہ دونوں تنظیمیں کالعدم ہیں۔

انٹرویو کے دوران طالبان کے ساتھ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر ٹی ٹی پی کے حالیہ حملوں کے حوالے سے سوال کے جواب میں عمران کا کہنا تھا کہ ‘ہم بات چیت کر رہے ہیں، ہوسکتا ہے کہ کوئی نتیجہ نہ نکل سکے مگر ہم بات کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور صدر عارف علوی بھی طالبان کو ہتھیار پھینکنے کے عوض عام معافی دینے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

آرمی چیف اور صدر علوی نے مختلف مواقع پر یہ کہا تھا کہ ٹی ٹی پی اگر آئینِ پاکستان کے تحت چلنا چاہے اور ہتھیار ڈال دے تو اسے عام معافی دینے کا سوچا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی کہا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان کے اراکین کو معاف کرنے کے لیے حکومت تب تیار ہوگی جب وہ وعدہ کریں کہ دوبارہ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوں گے اور آئین پاکستان کو تسلیم کریں گے۔

تاہم پاکستانی حکام کی جانب سے عام معافی کی اس پیشکش کے جواب میں تحریک طالبان پاکستان کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ معافی طالبان نے نہیں مانگنی بلکہ حکومت پاکستان نے مانگنی ہے اور اگر پاکستانی حکومت ان سے معافی مانگنے پر تیار ہو جائے تو وہ بھی اسے معافی دینے پر غور کر سکتے ہیں۔ ان حالات میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے طالبان کو معافی دینے پر کیا جانے والا اصرار سمجھ سے بالاتر ہے اور اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تاہم طالبان کو معافی دینے کی تجویز کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ڈسنا سانپ کی فطرت میں شامل ہے لہذا اسے معافی دینے اور دودھ پلانے کی بجائے اس کا سر کچل دینا چاہیے۔ دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دراصل یہ تجویز سب سے پہلے فوجی قیادت کی طرف سے تب آئی جب آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے لنڈی کوتل کے دورہ کے دوران قبائلی عمائدین سے گفتگو میں کہا تھا کہ اگر افغانستان میں چھپے ہوئے دہشت گرد تشدد کا راستہ ترک کر دیں، تو حکومت انکے لیے عام معافی کا اعلان کر دے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کو شکست دی ہے اور ان دہشت گردوں کو بھی معاف کر دے گی اگر وہ ہتھیار ڈال دیں اور ریاست کی رٹ کو چیلنج نہ کرنے کا عہد کریں۔ اس کے بعد صدر عارف علوی نے تحریک طالبان کو معافی دینے کی پیشکش کی تھی اور اب وزیراعظم عمران خان نے وہی بات دہرائی ہے۔

تاہم تحریک طالبان کو عام معافی دینے کی تجویز کی مخالفین کا کہنا ہے کہ انہوں نے افواج پاکستان اور عوام کو نشانہ بنایا اس لئے انہیں کڑی سے کڑی سزا دی جائے، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ ہزاروں معصوم پاکستانیوں کے قاتل طالبان کو معافی دینے کا سوچنا بھی شہیدوں کے خون سے غداری کے مترادف ہوگا۔

Back to top button