کیا ڈالر واقعی 180 روپے سے بھی اوپر جانے والا ہے؟
https://youtu.be/ddKosKDpm_8
پاکستان میں افواہیں گرم ہیں کہ ایک امریکی ڈالر کی ویلیو اگلے چند مہینوں میں ایک سو اسی روپے سے دو سو روپے تک جا سکتی ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قدر کے حوالے سے عالمی ادارے فچ ریٹنگز نے بھی خطرناک پیشگوئی کر دی ہے کہ مستقبل قریب میں ڈالر 180 روپوں بھی سے زائد کا ہوسکتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی عوام کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا اور مہنگائی کا نیا دور شروع ہوگا۔
فِچ ریٹنگز نے پاکستانی روپے کے لیے اس سال اور آئندہ برسوں میں مختلف عوامل کی وجہ سے اپنی پیش گوئی پر نظر ثانی کرتے ہوئے 2022 میں 165 کی سابقہ پیش گوئی کے مقابلے میں 180 کی اوسط شرح کا تخمینہ دے دیا۔ اردو نیوز کے مطابق عالمی درجہ بندی کی تین بڑی ایجنسیوں میں سے ایک نیو یارک میں قائم ایجنسی کی پیش گوئی، اس سال روپے کی اوسط شرح کے لیے اب امریکی ڈالر کے مقابلے میں 164 روپے ہے جو اس سے قبل پہلے 158 روپے تھی۔ واضح رہے کہ اس وقت پاکستان میں امریکی ڈالر کی قیمت 173 روپے سے بھی زائد ہو چکی ہے۔
اس کی وجہ امریکی سینیٹ میں پیش کردہ ہوں وہ بل تھا جس میں طالبان کی مدد کرنے کے الزام پر پاکستان کے خلاف فوجی اور اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ عمران حکومت کے تیسرے برس مہں پاکستانی روپے کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ اسے ایشیا کی بدترین کارکردگی دکھانے والی کرنسی قرار دیا گیا ہے، چنانچہ اپنی ساکھ تباہ ہو جانے کے بعد اب ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر پاکستانی تاریخ کی بلند ترین سطح پر چلی گئی ہے۔ مقامی مارکیٹ میں پاکستانی کرنسی تیزی سے قوتِ خرید کھو رہی ہے جس سے ہونے والی مہنگائی نے عام لوگوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
26 اگست 2020 کو ڈالر 168.43 روپے کا ہو گیا تھا، پھر یہ کم ہونا شروع ہوا اور 14 مئی 2021 کو 151.83 روپے تک پہنچ گیا۔تاہم پھر اس میں دوبارہ اضافہ شروع ہوا اور جون اور 14 مئی 2021 کے بعد سے اسکی قیمت میں بالترتیب 6.6 فیصد اور 9.9 فیصد اضافہ ہوا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پہلے اشارہ کیا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ کے متوقع خسارے کی وجہ سے موجودہ مالی سال کے دوران ڈالر کی قدر بڑھ سکتی ہے۔اب 2022 کے اپنے تخمینوں میں فِچ ریٹنگز نے 165 روپے کی سابقہ پیش گوئی کے مقابلے میں 180 کی اوسط شرح کی توقع پیش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘کرنسی کے مزید کمزور ہونے کی ہماری توقع پاکستان کی بگڑتی ہوئی تجارت کی شرائط، سخت امریکی مالیاتی پالیسی، پاکستان سے باہر اور افغانستان میں امریکی ڈالر کے بہاؤ پر مبنی ہے’۔تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ ملکی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی وجہ سے روپے ڈالر کی مسلسل مانگ سے متاثر ہوا ہے جبکہ افغان صورت حال پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے اور روپے کی قدر کم ہونے سے قرضے بھی بڑھ رہے ہیں۔ اگر حکومت کے دعوے مان لیں کہ معاشی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں تو سوال یہ ہے کہ ڈالر کی قیمت کیوں بڑھ رہی ہے ۔حکومت کا دعویٰ یہ بھی ہے کہ برآمدات بڑھ رہی ہیں ،باہر سے ڈالر آرہے ہیں تو اس سب کے باوجود ڈالر کیوں مہنگا ہو رہا ہے۔ روپیہ کیوں سستا ہو رہا ہے ،حکومت کیوں کنٹرول نہیں کر پا رہی ہے۔ کچھ معاشی ماہرین کے مطابق حکومت معیشت کو انتہائی کمزور بنیادوں پر استوار کر رہی ہے جو چیلنجز اور خطرات اکنامک انڈیکیٹر میں نظرآرہے ہیں ان سے چشم پوشی کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب سے ڈالر کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، پام آئل کی قیمت80 فیصد، دالوں کی قیمت24 فیصد، پٹرول کی قیمتیں 75 فیصد بڑھ چکی ہیں۔ فچ رٹنگز کی پیشنگوئی سے پتہ چلتا ہے کہ مستقبل میں بھی جتنا ڈالر مہنگا اور روپیہ نیچے آئے گا تو ان چیزوں کی قیمتیں بڑھتی رہیں گی جس سے عوام کی زندگیاں مزید اجیرن ہوجائیں گی۔
