عدالتی فیصلے کے بعد سعد رضوی رہا ہو پائیں گے یا نہیں


لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ سعد رضوی کی نظر بندی کا نوٹی فکیشن معطل کیے جانے کے بعد ان کی رہائی کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں، تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی ان کے جیل سے باہر آنے کا کوئی امکان نہیں۔

یاد رہے کہ یکم اکتوبر کے روز لاہور ہائی کورٹ نے تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کی نظر بندی کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دے دیا تھا۔ سعد رضوی کی نظربندی کے لیے جاری کردہ وفاقی حکومت کے نوٹیفیکیشن کے خلاف ان کے چچا کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس طارق سلیم شیخ نے مختصر فیصلہ سنایا۔ کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت کی طرف سے نظربندی کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دیے جانے کے بعد سعد رضوی کو رہا کیا جا سکتا ہے کیونکہ وہ کسی دوسرے مقدمے میں تاحال گرفتار نہیں۔ لیکن دوسری جانب پنجاب حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے 24 گھنٹوں میں سعد رضوی کی کسی اور کیس میں جیل سے دوبارہ گرفتاری کے واضح امکانات ہیں کیونکہ ابھی ان کو رہا کرنے کا رسک نہیں لیا جا سکتا۔ یاد رہے کہ رواں برس 9 جولائی کو سعد رضوی کو وفاقی حکومت کی طرف انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت جاری ایک نوٹیفیکیشن پر دوبارہ نظربند کر دیا گیا تھا۔
اسی روز انھیں رہا کیا جانا تھا کیونکہ ہائی کورٹ کے نظرثانی بورڈ نے پنجاب حکومت کی طرف سے سعد رضوی کی ایم پی او کے تحت نظربندی میں توسیع کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔ سعد رضوی کے چچا کے وکیل نے حالیہ درخواست کی سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت نے نوٹیفیکشن میں سعد رضوی کی دوبارہ نظربندی کی وجوہات نہیں بتائیں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی طرف سے متعدد بار حکومت سے یہ وجوہات بتانے کی درخواست کی گئی تاہم انھوں نے جواب نہیں دیا۔

لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب اور وفاقی حکومت کے وکلا نے سعد رضوی کی نظربندی کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کی مخالفت کی تھی۔ یاد رہے کہ پیغمبرِ اسلام کے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کو 20 اپریل تک ملک بدر نہ کیے جانے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی دھمکی دینے والے تحریکِ لبیک کے امیر سعد رضوی کو اپریل کے وسط میں لاہور پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی پر الزام تھا کہ انھوں نے اپنی جماعت کے کارکنان کو حکومت کے خلاف مظاہر پر اکسایا جس کے دوران پرتشدد کارروائیوں میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد تحریکِ لبیک کی جانب سے ملک کے متعدد شہروں میں پرتشدد احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ اس احتجاج کے دوران کم از کم چار پولیس اہلکار ہلاک جبکہ سینکڑوں اہلکار اور کارکن زخمی ہوئے تھے۔

حکومت نے 16 نومبر 2020 کو اسلام آباد میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے ساتھ دھرنا دینے والی تحریک لبیک پاکستان کے سابق سربراہ خادم حسین رضوی سے چار نکات پر معاہدہ کیا تھا جن کے تحت حکومت کو دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمان سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنا تھا۔ اس معاہدے پر عمل نہ ہونے کے بعد فروری 2021 میں تی اہل پی اور حکومت کے درمیان ایک اور معاہدہ ہوا جس کے تحت حکومت کو 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے وعدے پر عمل کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔ اس کے بعد تنظیم نے 20 اپریل تک فرانس کے سفیر کی ملک بدری نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم 12 اپریل کو احتجاج کا حالیہ سلسلہ تنظیم کے سربراہ سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد شروع ہوا تھا۔

Back to top button