صحافیوں، سیاستداںوں کی ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے حوالے سے حکومت پر تنقید

سیاستدانوں اور صحافیوں کی جانب سے ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے حوالے سے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمٰن نے تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات اور عام معافی کے حکومتی بیان اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہ لینے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کیا وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ سے پوچھا کہ ہم اس بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ کیا انہوں نے اس پر ٹی ٹی پی کا ردعمل لیا ہے؟
شیری رحمٰن نے کہا آپ ان لوگوں کو کیسے معافی دے سکتے ہیں جنہوں نے آرمی پبلک سکول کے بچوں کو شہید کیا، آپ ان لوگوں کو کیسے معافی دے سکتے ہیں جو سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے ذمے دار ہیں، آپ یہ فیصلے کہاں کر رہے ہیں اور دنیا آپ پر ہنس رہی ہے۔
سینئر صحافی سلیم صافی نے بھی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میں عرض کرتا رہا ہوں کہ ایسے حکمران کے ہوتے ہوئے پاکستان کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں۔کاش وزیراعظم بنوانے سے پہلے ان کو سفارتی امور پر بات کرنے کی تربیت بھی دی جاتی یا کاش شاہ محمود میں اتنی ہمت ہوتی کہ ان کے سامنے کہہ سکتے کہ اس طرح کے معاملات پر اس انداز میں بولنے کا نقصان ہوتا ہے۔
صحافی و اینکر غریدہ فاروقی نے کہا کہ وزیر اعظم نے تصدیق کی ہے کہ حکومت افغان طالبان کی مدد سے کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات کررہی ہے لیکن ایک کالعدم تنظیم کے لیے ہم اتنا کیوں جھک رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کالعدم تنظیم نے ہماری عام معافی کو مسترد کردیا جو ہمارے منہ پر طمانچے کی مانند ہے لیکن اس کے باوجود ہم جھکے جا رہے ہیں، آخر کیوں اور کس لیے، کیا ہم مزید 80ہزار افراد شہید کرانا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ ترک میڈیا ‘ٹی آر ٹی ورلڈ’ کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے چند گروپس ہم سے مصالحت کے لیے بات کرنا چاہتے ہیں اور ہم ان گروپس کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ٹی ٹی پی مختلف گروپس پر مشتمل ہے اور ہم ان میں سے چند کے ساتھ ہتھیار ڈالنے اور مصالحت کے حوالے سے بات چیت کر رہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ ‘ہم ان کے ہتھیار ڈالنے کے بعد انہیں معاف کردیں گے جس کے بعد وہ عام شہریوں کی طرح رہ سکیں گے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل صدر مملکت بھی ہتھیار ڈالنے کی صورت میں تحریک طالبان پاکستان کو عام معافی دینے کا عندیا دے چکے ہیں۔گزشتہ ماہ ڈان نیوز کے پروگرام ‘خبر سے خبر’ کے لیے دیئے گئے انٹرویو میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا تھا کہ ٹی ٹی پی کے لوگ اگر ہتھیار ڈال کر پاکستان کے آئین کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں، تو پاکستان بھی سوچے گا کہ ان کو ایمنسٹی دے یا نہ دیں۔انہوں نے کہا تھا کہ ٹی ٹی پی والا نظریہ چھوڑ کر اگر یہ لوگ پاکستان کے آئین کی پابندی کرتے ہیں تو حکومت سوچ سکتی ہے کوئی معافی کا اعلان کرے۔
