تحریک لبیک اپنے تخلیق کاروں کے گلے کیسے پڑ گئی؟


فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ماضی میں نواز شریف حکومت کے خلاف احتجاج کے لیے استعمال کی جانے والی تحریک لبیک اب تحریک انصاف حکومت کے گلے پڑتی دکھائی دیتی ہے. دلچسپ بات یہ ہے کہ موجودہ آئی ایس آئی سربراہ جنرل فیض حمید پر تحریک لبیک کو تشکیل دینے کا الزام لگتا ہے لہذا تجزیہ کاروں کے مطابق اب اس تنظیم سے نمٹنے کے لیے سب سے ذیادہ ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی یے خصوصا جب کہ انہیں عمران خان کو برسراقتدار لانے کا ذمہ دار بھی قرار دیا جاتا ہے۔
ایک جانب جہاں تحریکِ لبیک اسلام آباد میں دھرنا دینے کے لیے لانگ مارچ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کر رہی ہے وہیں حکومت اس لانگ مارچ کو ’ملک دشمن سازش‘ قرار دیتے ہوئے رینجرز کے نیم فوجی دستے تعینات کرنے جیسے اقدامات لے رہی ہے۔ اگر ٹی ایل پی کے لانگ مارچ کا دریائے جہلم کو عبور کرنے کی کوشش میں رینجرز سے ٹکراؤ ہوتا ہے تو آیا جانی و مالی نقصان ہو گا یا کسی بھی وقت فریقین کے درمیان باہمی گفت و شنید سے کوئی مفاہمت کا راستہ نکال لیا جائے گا۔ اس بات کا فی الحال واضح جواب دینا کافی مشکل ہے۔ یہ بھی حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ اگر رینجرز اور ٹی ایل پی کارکنوں میں خونریز تصادم ہوا تو کیا یہاں بھی اسلام آباد کی لال مسجد کے خلاف کی گئی کارروائی جیسے اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت کے اپنے دعوے کے مطابق، ٹی ایل پی کی اس طرح کے لانگ مارچ یا دھرنوں کی یہ چھٹی کوشش ہے۔ اس سے قبل ہر مرتبہ ٹی ایل پی کے دھرنے کو روکنے یا ختم کروانے کے لیے حکومتِ وقت پسپائی کا مظاہرہ کرتی آئی ہے۔
ویسے تو ٹی ایل پی نے اپنی طاقت کا مظاہرہ سنہ 2017 کے فیض آباد دھرنے پر کیا تھا لیکن اس کا قیام سنہ 2015 میں ہوا تھا اور اسے شہرت تب ملی تھی جب اس نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل کانسٹیبل ممتاز حسین قادری کی سزائے موت کے خلاف مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔ اس وقت ٹی ایل پی کے سربراہ خادم حسین رضوی تھے۔ نواز دور میں 2017 کے فیض آباد دھرنے کے موقع پر وفاقی حکومت نے فوج کو ٹی ایل پی کے خلاف تعینات کرنے کا حکم جاری کیا تھا لیکن اس وقت فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ فوج کو استعمال کرنے سے پہلے دیگر سول اقدامات کا جائزہ لے جس کے بعد یہ دھرنا فوج کے ضامن بننے کی وجہ سے ختم ہوا تھا۔ یاد رہے کہ تحریک لبیک کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر تب آئی ایس آئی میں تعینات فیض حمید نے بطور ضامن دستخط کیے تھے۔
اب تحریک لبیک کی جانب سے فرانسیسی سفیر کو پاکستان سے بے دخل کرنے کے مطالبے پر مذاکرات ٹوٹ جانے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اور وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے ٹی ایل پی کے خلاف سخت انتظامی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ اس تنظیم کو عالمی سطح پر ایک ’عسکریت پسند‘ تنظیم قرار دیا جا سکتا ہے۔ بظاہر ان کا اشارہ اقوام متحدہ اور اور یورپی یونین کی جانب تھا جو اپنے طور پر بھی کئی مذہبی شدت پسند تنظیموں پر پابندیاں عائد کرتے رہے ہیں۔ فواد چودھری نے بھی کچھ ایسا ہی اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تو القاعدہ کو ختم کر دیا تھا لہازا تحریک لبیک کیا چیز ہے۔
یاد رہے کہ اس برس اپریل میں جب ٹی ایل پی کے دھرنے کو ختم کروانے کے لیے مذہبی امور کے وزیر فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے پر راضی ہوئے تھے تو اس معاہدے پر یورپی یونین نے تنقید کی تھی۔ فرانس نے پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت پر پابندی لگانے سے انکار کر دیا تھا جس پر پاکستان میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کے مطالبے نے زور پکڑا تھا۔ اب ایک مرتبہ پھر تحریک لبیک سڑکوں پر ہے اور پچھلے دس روز کے دوران پانچ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ حالانکہ شروع۔میں لبیک کا بنیادی مطالبہ سعد رضوی کی رہائی کا تھا لیکن اب اسکا فوکس فرانس کے سفیر کی بے دخلی پر ہو چکا ہے۔
اس معاملے پر سکیورٹی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر رینجرز اور ٹی ایل پی کے کارکنوں کے درمیان تصادم کے دوران خون خرابہ ہوتا ہے تو اس کے سنگین سیاسی مضمرات ہوں گے۔ فی الحال یہ نظر آتا ہے کہ عسکری ادارے اس معاملے پر حکومت کے ساتھ ماضی کی طرح ’آن بورڈ‘ نہیں ہیں۔ اس کی ایک بنیادی وجہ حال ہی میں ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے معاملے پر آرمی چیف اور وزیر اعظم کے مابین پیدا ہونے والی دوریاں بھی قرار دی جا رہی ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس معاملے پر چاہے تمام ادارے ایک پیج پر بھی آ جائیں، اسکی سیاسی قیمت بہرحال پی ٹی آئی کو ہی ادا کرنی پڑے گی۔ دیگر سیاسی جماعتیں اس کارروائی کے اثرات کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی پوری کوشش کریں گی۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایسی مذہبی تحریکوں کا کبھی بھی کوئی پُرامن حل نہیں ہوتا، کسی نہ کسی کو سخت کارروائی کرنا پڑتی ہے۔ ’آپ احرار یا خاکسار تحریکوں کو دیکھ لیں، یہ سب مقبول نعروں پر شروع کی گئی تھیں اور کامیابی کے ساتھ ساتھ یہ زیادہ پرتشدد ہوتی گئیں۔ بالآخر انھیں قانون نافذ کرنے والے اداروں ہی نے ختم کیا تھا۔ اس کے علاوہ ان کا کوئی حل نہیں ہو سکتا۔ تاہم حکومت کو اور انتظامیہ کو سخت کارروائی کرتے وقت ایسا ماحول ضرور بنانا چاہیے اور تاثر ضرور دینا چاہیے جس سے ٹی ایل پی مظلومیت کے کارڈ کھیلنے سے محروم رہے۔
سول ملٹری تعلقات کے امور کے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ رینجرز یا کسی بھی انتظامی اقدام سے ٹی ایل پی کے قضیے کو حل کرنے کی کوشش توقعات کے برعکس نتائج بھی دے سکتی ہے اور اب بھی بات چیت ہی آگے بڑھنے کا سب سے بہتر راستہ ہے۔ انکا کہنا ہے کہ فوجی وسائل کا زیادہ استعمال معاشرے میں، اور خاص طور پر ٹی ایل پی کی صفوں میں، مزید تشدد کے فروغ کا باعث بنے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ماضی کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے سول اداروں سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا، اور فوج ہی آخری حربہ ہو گی لیکن دیکھنا یہ بھی ہے کہ آیا فوجی قیادت اس مسئلے میں الجھنا چاہے گی بھی یا نہیں۔
اس سوال کے جواب میں کہ کیا موجودہ تعطل سے باہر نکلنے کے لیے حکومت کے پاس کوئی پُرامن راستہ ہے، سینیئر صحافی اور تجزیہ کار محمد ضیاالدین زور دے کر کہتے ہیں کہ اس وقت کوئی حل نظر نہیں آرہا ہے۔ ضیا الدین نے دعویٰ کیا کہ ٹی ایل پی کو جی ایچ کیو نے فیض حمید کی آئی ایس آئی کے ذریعے مسلم لیگ کی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے بنایا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ عمران خان اور شیخ رشید نے اس دور میں ٹی ایل پی کی حمایت کی تھی۔ ٹی ایل پی کے قبضے سے فیض آباد جنکشن کو خالی کرانے کے لیے مسلم لیگ کی حکومت کو مجبور کیا گیا تھا کہ وہ ٹی ایل پی کے ساتھ ہتھیار ڈالنے کی دستاویز پر دستخط کرے۔ ایم ضیاالدین کے مطابق اسی موقع پر فیض حمید اُس معاہدے کے ضامن بنے تھے اور لاہور کور کمانڈر نے ٹی ایل پی کے رہائی پانے والے کارکنوں میں سرِعام رقم تقسیم کی تھی۔ ضیاالدین کے مطابق 2018 کے انتخابات سے قبل پی ایم ایل این کے ووٹ بینک میں نقب ڈالنے کے لیے ٹی ایل پی کو ایک جائز سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹرڈ ہونے کا موقع فراہم کیا تھا۔ لہذا اب تحریک لبیک سے نمٹنے کی ذمہ داری بھی انہی عناصر کی بنتی ہے جنہوں نے اسے پالا پوسا تھا اور طاقت فراہم کی تھی۔

Back to top button