تحریک لبیک کا احتجاجی مارچ،جھڑپیں، پولیس کا لاٹھی چارج اور شیلنگ

وفاقی دارالحکومت کے جڑواں شہر راولپنڈی میں مذہبی اور سیاسی جماعت تحریک لبیک کے کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان ’جھڑپیں‘ہوئیں.
تحریک لبیک کے مظاہرین فرانس میں پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے خلاف مظاہرہ کیا اور تحریک لبیک کے ایک ترجمان کے مطابق ان کی جماعت کی طرف سے ان خاکوں کے خلاف پر امن ریلی کا اہتمام کیا گیا ہے۔ مقامی صحافی ممتاز خان نے بتایا کہ پولیس اور مظاہرین کے درمیاں مغرب کے بعد شدید ترین جھڑپیں شروچ ہوئی ہیں۔ اس دوران پولیس کی جانب سے شدید ترین آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی تھی۔ پولیس اور تحریک لبیک کے کارکنوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں پولیس کی جانب سے فائر کیے گئے آنسو گیس کے شیل مقامی آبادی اور بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی میں بھی گرے۔ جس کے باعث گھروں میں موجود خواتین، بچوں اور بزرگ افراد سمیت ہسپتال میں مریضوں کے ساتھ ساتھ تیماداروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ راولپنڈی پولیس نے اب تک 200 سے زیادہ مظاہرین کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ راولپنڈی کی مری روڈ کے اطراف کی آبادیوں کی تنگ گلیوں میں مظاہرین کے چھپ جانے کے باعث انھیں گرفتار کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ پولیس کے مطابق ان جھڑپوں میں اب تک 12 پولیس اہلکار مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ پر زخمی ہوئے ہیں۔

اس جلوس کے قریب موجود ایک اور صحافی ملک ظفر اقبال کے مطابق جب مظاہرین شام کے وقت لیاقت باغ سے چلے تو اس موقع پر پولیس نے جلوس کو روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ ملک طفر اقبال کے مطابق خادم حسین رضوی کے بیٹے سعد رضوی بھی جلوس میں موجود ہیں جبکہ مظاہرین ڈنڈوں اور پتھروں سے لیس ہیں۔ تحریک لبیک کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ریلی کی قیادت علامہ خادم حسین رضوی کر رہے ہیں اور منصوبے کے مطابق اس ریلی نے راولپنڈی میں واقع لیاقت باغ سے فیض آباد تک جانا تھا۔ لیکن ان کے بقول پولیس نے پرامن مظاہرین کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی جس پر کارکنوں نے احتجاج کیا تو پولیس نے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا ہے۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ان مظاہرین نے ناصرف لیاقت روڑ پر واقع دوکانوں کی توڑ پھوڑ کی بلکہ وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ بھی کیا جس کے جواب میں پولیس نے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔
راولپنڈی پولیس کی سپیشل برانچ کے ایک اہلکار کے مطابق اس وقت لیاقت باغ اور اس کے قریبی علاقوں میں مظاہرین کی تعداد چار ہزار سے زیادہ ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ابھی بہت سے مزید مظاہرین اس احتجاجی ریلی میں شرکت کے لیے آرہے ہیں۔ اہکار کے مطابق صورت حال کو دیکھتے ہوئے اضافی نفری طلب کرنے سے متعلق پولیس کے اعلی حکام سے کہا گیا ہے۔ اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ پولیس کے علاوہ رینجرز کے اہلکاروں کو بھی پولیس کی مدد کے لیے طلب کیا گیا تھا جنھیں حساس مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔ راولپنڈی کے علاقے لیاقت باغ کی قریبی آبادی کے رہائشی عرفان تنولی نے بتایا کہ ‘کل سے انتظامیہ کی جانب سے کھڑی رکاوٹوں کے سبب ہم لوگ اپنے گھروں میں عملاً قید ہو گئے۔ بجلی کی عدم موجودگی کی بنا پر انٹرنیٹ وائی فائی کنکشن بھی کام نہیں کر رہے تھے۔‘ عرفان تنولی کا کہنا تھا کہ ’پولیس کے سخت ترین ناکوں کے باوجود تحریک لبیک کے کارکناں مری روڈ پر پہنچ چکے ہیں۔ یہ کارکناں ایک بجے کے بعد اچانک اکھٹا ہونا شروع ہوئے ہیں۔ جس کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیاں آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس نے لیاقت باغ کے ارد گرد کے علاقوں میں شدید آنسو گیس کی شیلنگ کی ہے مگر بارش کی وجہ سے اس کا زیادہ اثر نہیں ہوا۔’ لیاقت باغ کے رہائشی علاقے میں موجود ایک اور مقامی شخص کا بھی کہنا تھا کہ ‘تحریک لبیک کے کارکناں ڈنڈوں اور پتھروں سے مسلح ہیں وہ پولیس کی شیلنگ کے جواب میں پتھراؤ کر رہے ہیں۔ پہلے تو پولیس ان پر شیلنگ کرتی رہی تھی مگر بعد ازاں پولیس نے بھی جوابی پتھراؤ کیا۔’ حکومت نے اس احتجاجی ریلی کے پیش نظر راولپنڈی اور اسلام آباد کے محتلف علاقوں میں موبائل سروس آج صبح سے بند کر رکھی ہے جبکہ راولپنڈی کی انتظامیہ نے لیاقت باغ سے فیض آباد کی طرف جانے والی مری روڑ کو مختلف جگہوں سے کنٹینرز لگا کر بند کردیا ہے۔

اس ریلی کی کوریج کے لیے آئے ہوئے مقامی صحافی کا کہنا ہے کہ جونہی وہ حالات کا جائزہ لینے کے باہر نکلے تو وہاں پر موجود تحریک لبیک کے کارکنوں نے اُنھیں پکڑ لیا اور ان سے موبائل بھی چھین لیا۔ ان مظاہرین نے ان کا موبائل پر بیان ریکارڈ کیا اور کہا کہ وہ شہر کی صورت حال کے بارے میں بتائیں اور اگر ان کی ایک بات بھی غلط ثابت ہوئی تو اُنھیں جسمانی طورپر نقصان پہنچایا جائے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ جب وہ بیان ریکارڈ کروا رہے تھے تو ان کے پیچھے تحریک لبیک کے کارکن ڈنڈے لیکر کھڑے تھے۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کے مطابق تحریک لبیک کی یہ ریلی پلان کے مطابق فیض آباد پہنچ کر اختتام پذیر ہوگی لیکن صورت حال کو دیکھتے ہوئے اسلام آباد میں حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ راولپنڈی سے اسلام آباد آنے والے راستوں پر سکیورٹی سخت کی گئی ہے جبکہ کچھ مقامات سے اسلام آباد ہائی وے کو بند کیا گیا ہے۔ ریلی کی کوریج کے لیے آنے والے چند صحافیوں کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو تصاویر اور ویڈیوز بنانے سے روکا جا رہا ہے اور وہ پریس کلب میں قید ہو کر رہ گئے ہیں۔اس کے علاوہ انھوں نے مزید کہا کہ موبائل سروس بند ہونے کی وجہ سے بھی انھیں مشکلات ہیں۔ اسلام آباد پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا ہے اور خاص طور پر ڈپلومیٹک انکلیو کی طرف جانے والے راستے سیل کردیے گئے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ اس علاقے میں پولیس کے علاوہ رینجرز کے اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ دوسری جانب دارالحکومت کے حالات اور سڑکوں کی بندش کے سبب وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف کی جانب سے غیر ملکی صحافیوں کو انڈیا کے پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے متعلق، پریس بریفنگ بھی پیر تک معطل کر دی گئی ہے۔
