تحقیقات میں 82 پائلٹس کے لائسنس جعلی نکلے، 180 کلیئر قرار

مشکوک لائسنس کی تحقیقات میں 262 پائلٹس میں سے 180 کے لائسنس کو کلیئر قرار دے دیا گیا۔ میڈیا رپورٹ میں ایوی ایشن ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مشکوک لائسنس کی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں ، جہاں 262 میں سے180 پائلٹس کے لائسنس کلیئر قرار دیئے گئے ہیں جب کہ 82 کے لائسنس میں جعل سازی ثابت ہو ئی، جن میں سے 50 پائلٹس کے لائسنس کے کمپیوٹر امتحان میں جعل سازی پکڑی گئی تو 32 کے اے ٹی پی ایل لائسنس جعلی ثابت ہوئے، جعلی لائسنس پر28پائلٹس کو پہلے ہی منسوخ کردیا گیا جب کہ کابینہ کی منظوری کے بعد مزید 22 پائلٹس کےخلاف کاروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق قومی ایئر لائن پی آئی اے کے141 میں سے 18پائلٹس کے لائسنس جعلی نکلے۔
یاد رہے وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے انکشاف کیا تھا کہ پی آئی اے سمیت دیگر ایئرلائنز میں مشکوک پائلٹس کی تعداد 262 ہے، پی آئی اے کے جن پائلٹس کے خلاف تحقیقات ہوئیں انہیں ماضی کی حکومتوں نے ملازمتیں دیں۔ پی آئی اے نے وزیر ہوابازی کی مبینہ فہرست کوتسلیم کرتے ہوئے پائلٹس کو معطل کیا تھا جبکہ معاملے پرپی آئی اے پائلٹس کی تنظیم پالپا نے مبینہ فہرست پر شدید اعتراض کئے تھے۔
مبینہ فہرست کی بنیاد پر پی آئی اے کی یورپ، برطانیہ، امریکا کی پروازوں اور مختلف ممالک میں موجود پاکستانی پائلٹس پربھی پر پابندی عائد کی گئیں تھیں۔ دوسری طرف گزشتہ تین ماہ یعنی جون، جولائی اور اگست میں پی آئی اے میں جعلی ڈگریوں، کرپشن، اسمگلنگ، غیر حاضری کے الزامات میں 177ملازمین کو برطرف کردیا گیا۔ فارغ کئے جانے والوں میں پشاور، چارسدہ سے تعلق رکھنے والے خواتین اورمرد کریو کے علاوہ مختلف شعبوں کے ملازمین شامل ہیں۔ ترجمان پی آئی اے نے برطرفیوں کی تصدیق کی ہے۔
