ترکی میں شدید زلزلہ، 19 افراد جاں بحق 600 زخمی

ترکی میں آنے والے 6.8 شدت کے طاقتور زلزلے سے19 افراد جاں بحق جبکہ 600 سے زائد زخمی ہوگئے، تاہم امدادی کارروائیوں میں ریسکیو ٹیمز تباہ حال عمارتوں کے ملبے میں پھنسے افراد کو نکالنے کی کوشش کررہی ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق کے مطابق ڈزاسٹر اینڈ منیجمنٹ پریزیڈینسی (اے ایف اے ڈی) نے ہلاکتوں اور 651 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی۔رپورٹ میں اے ایف ڈی اے کے حوالے سے بتایا گیا کہ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق رات 8 بج کر 55 منٹ پر آیا 6.8 شدت کے زلزلے کے بعد 5.1اور 5.4 شدت کے آفٹر شاکس بھی ریکارڈ کیے گئے۔زلزلے کے بعد لوگ بدحواس ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے اور سرد ترین موسم میں خود کو گرم رکھنے کے لیے سڑکوں پر آگ جلا کر بیٹھے رہے، جو لوگ اپنے گھروں میں واپس جانے سے خوف زدہ تھے انہیں طالبعلموں کے ہاسٹلز اور اسپورٹس سینٹر منتقل کردیا گیا۔
دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ زلزلے سے متاثر ہونے والے افراد کی امداد کے لیے تمام تر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور ہم اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ترک نشریاتی ادارے کے مطابق مشرقی ترکی میں عراق اور شامی سرحد کے قریبی علاقوں کے علاوہ کئی صوبوں میں زلزلہ محسوس کیا گیا اور اطراف کے شہروں نے زلزلے کے متاثرہ مقامات پر ریسکیو ٹیمز روانہ کردی ہیں۔
ترک وزیر ماحولیات کے مطابق زلزلے سے دونوں صوبوں میں تقریباً 30 عمارتیں گر کر تباہ ہوئیں۔ترک وزیر دفاع ہولوسی اکر کے مطابق امدادی کارروائیوں کے لیے اگر ضرورت پڑی تو فوج شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔
خیال رہے کہ رواں سال یہ ترکی میں آنے والا پہلا زلزلہ نہیں، اس سے قبل 22 جنوری کو مغربی صوبے مانیسا میں 5.4 شدت کا زلزلہ آیا تھا جبکہ اس کے ایک روز بعد ہی ترک دارالحکومت انقرہ 4.5 شدت کے زلزلے سے لرز اٹھا تھا۔ جبکہ 1999 میں ترکی کے شمال مغربی علاقے میں 7.4 شدت کے زلزلے میں 18 ہزار افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ 2010 میں الازیع میں آنے والا زلزلے سے 51 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button