ترک صدر اردوان نے اسرائیلی وزیراعظم سے میری خفیہ ملاقات کروائی تھی

سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوی نے انکشاف کیا ہے کہ ترک صدر نے اسرائیلی وزیراعظم نے میری خفیہ ملاقات کروائی تھی،خفیہ اس لیے تھی کہ جب تک بات فائنل نہ ہوجائے تب تک ملاقات خفیہ ہی رہے، 1950ء کے بعد اسرائیل سے سفارتی سطح پر بیک ڈور رابطے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور اسرائیل جب سے معرض وجود میں آئے ہیں، بیک ڈور رابطے جاری رہے لیکن میرا خیال ہے کہ 1950ء کے بعد سفیروں کی سطح پر کبھی نیویارک، کبھی لندن، کبھی پیرس میں مختلف دارالحکومتوں میں بیک ڈور رابطے رہے ہیں۔
پاکستان اور اسرائیل کے درمیان پہلا رابطہ ترکی کے موجودہ صدر اردوان نے کروایا۔ اس وقت پارلیمانی فورم تھا، اردوان لیڈر تھے۔ انہوں نے میری اسرائیل کے ڈپٹی وزیراعظم سے ملاقات کروائی تھی، یہ ملاقات بڑی خفیہ تھی، خفیہ اس لیے تھی کہ جب تک کوئی بات فائنل نہ ہوجائے تب تک خفیہ ہی رہے۔ یہ بطور وزیر خارجہ میرا پہلا پبلک کنٹیکٹ تھا۔ خورشید قصوری نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید کی دورہ سعودی عرب میں وزیر دفاع سے ملاقات ہوئی، وزیر خارجہ جب جاتے ہیں، تو پروٹوکول کچھ اور ہوتا ہے۔
آرمی چیف کے جانے سے قبل دورے سے متعلق باتیں طے ہوچکی تھیں۔ انڈین میڈیا محض پروپیگنڈا کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا جب سعودی عرب سے متعلق بیان آیا تھا، تو میرے خیال میں وزیر خارجہ ایسے بیان نہیں دے سکتے، جب تک ان کی کسی سے بات نہ ہوئی ہو، ظاہر انہوں نے بیان دینے سے پہلے وزیراعظم عمران خان سے بات کی ہوگی، اگر بات نہیں کی تو پھر حیران کن ہے۔
میرا خیال تھا کہ شاہ محمود قریشی نے فوج سے بھی بات کی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات مفادات سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک تو سعودی عرب سے ہمارا روحانی تعلق ہے، دوسرا وزیراعظم کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سعودی عرب میں 3ملین پاکستانی کام کرتے ہیں۔ 2 ملین کے قریب متحدہ عرب امارات میں ہیں۔ جولائی 2018ء میں جب ہماری مالی پوزیشن خراب تھی تو انہوں نے مدد کی، انہوں نے ہر موقعے پر ہمارا ساتھ دیا، جب ہم نے نیوکلیئر پروگرام کیا، ہمارا ساتھ دیا، زلزلہ آیا تو امریکا اور سعودی عرب نے 500ملین ڈالر دیے تھے۔ سعودی عرب ایک حد سے زیادہ آگے نہیں جائے گا۔
