تشدد کرنے والوں نے مجھ سے ISI زندہ باد کے نعرے لگوائے


حال ہی میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اپنے فلیٹ پر نامعلوم افراد کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والے سینئر صحافی اسد علی طور نے انکشاف کیا ہے کہ ان کو زخمی کرنے والوں نے انہیں باندھنے کے بعد پستول تان کر ان سے آئی ایس آئی زندہ باد، پاک فوج زندہ باد اور پاکستان زندہ باد کے نعرے بھی لگوائے۔
سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسد طور کا کہنا تھا کہ شاید ان کی والدہ کی دعائیں کام آگئیں ورنہ ایک موقع پر تو انہیں لگا کہ ان کے فلیٹ میں گھسنے والے خفیہ اہلکار انہیں جان سے ہی مار دیں گے۔ انہوں نے خود پر ہونے والے حملے کی روداد سناتے ہوئے بتایا کہ جب ان کے دروازے پر بیل ہوئی تو انہوں نے چھوٹی کھڑکی سے باہر پینٹ شرٹ میں ملبوس ایک شخص کھڑا دیکھا۔ اسد کے بقول جب انہوں نے دروازے پر کھڑے شخص سے پوچھا کہ اس کی آمد کا کیا مقصد ہے تو اس نے جھنجلاہٹ میں جواب دیا کہ وہ اسی پلازے میں رہتا ہے اور بلڈنگ کے حوالے سے کوئی بات کرنا چاہتا ہے۔ اسد کہتے ہیں کہ اس شخص کی باڈی لینگویج سے میں بھانپ گیا تھا کہ یہ مقامی شخص نہیں بلکہ کسی خاص مقصد سے آیا ہے لہذا میں نے ایک لمحے کے لئے سوچا کہ اگر میں فوراً فلیٹ کا دروازہ کھول کر نیچے بھاگ جاؤں تو ہو سکتا ہے کہ میں اس کے ارادوں کو ناکام بنانے میں کامیاب ہو جاؤں۔ اور پھر اسد طور نے ایسا ہی کیا۔ تاہم جونہی وہ دروازہ کھول کر اپنے فلیٹ سے نکلنے لگے تو اس شخص نے انہیں مضبوطی سے دبوچ لیا اور کہا: آئی ایم آئی ایس آئی، یعنی میرا تعلق آئی ایس آئی سے ہے۔
اسی دوران اسد کو اندازہ ہوا کہ وہ شخص اکیلا نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ دو اور مسلح افراد بھی موجود ہیں۔ اسد کہتے ہیں کہ ان تینوں افراد نے مجھے مضبوطی سے پکڑا اور گھسیٹ کر میرے فلیٹ کے اندر لانے کے بعد دروازہ اندر سے بند کر دیا۔ ان تینوں افراد نے پہلے انہیں باتھ روم میں لے جانے کی کوشش کی تاہم وہاں لائٹ آن نہ ہونے کی وجہ سے وہ انہیں بیڈروم میں واپس لے آئے۔ اس دوران انہوں نے سوال جواب اور باز پرس کرنے کے ساتھ ساتھ قریب ہی پڑی ان کی دو ٹی شرٹس پھاڑ کر ان کی دونوں ٹانگیں باندھیں اور منہ میں کپڑا ٹھونس دیا۔
اسد علی طور نے مطیع اللہ جان کو بتایا کہ اس دوران انہوں نے نامعلوم افراد سے پوچھا کہ آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں۔ انہیں جواب ملا کہ تم آئی ایس آئی کے خلاف ویڈیو بناتے ہو اس لیے ہم تم سے کچھ سوال کرنے آئے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ابھی کچھ دیر بعد ہمارے آفیسر بھی آئیں گے اور وہ تم سے تین سوال پوچھیں گے۔ اسد نے کہا کہ آپ ضرور اپنے آفیسر کو بلائیں، میں ان کے ہر سوال کا جواب دوں گا۔ اس سارے عمل کے دوران تینوں نامعلوم افراد انتہائی درشت لہجے میں بات کرتے ہوئے یہی الزام لگاتے رہے کہ تم غدار وطن ہو، کیونکہ تم آئی ایس آئی کے خلاف بولتے ہو۔ اسد دور کے بقول انہوں نے وضاحت کی کہ میں محب وطن پاکستانی ہوں اور چونکہ میں صحافی ہوں لہذا میرا کام خبر دینا ہے۔ اگر میری کسی خبر میں آئی ایس آئی کا کوئی حوالہ آتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ملک دشمن ہوں اور غیر ملکی ایجنٹ ہوں۔
اسد طور کے بقول اس دوران تینوں حملہ آوروں نے انہیں اچھی طرح باندھ کر بیڈ پر پھینک دیا اور ایک شخص ان کے سینے پر چڑھ گیا۔ حملہ آوروں میں سے ایک فرد ان کی ویڈیو بنانے لگا اور ان سے کہا گیا کہ پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد، آئی ایس آئی زندہ باد کے نعرے لگائو۔ اسد کہتے ہیں کہ چونکہ میرے منہ میں کپڑا ٹھونس ہوا تھا اس لیے میری آواز بھی ٹھیک طرح سے نہیں نکل پا رہی تھی لیکن میں نے اپنی جان بچانے کی خاطر جیسا مجھ سے کہا گیا ویسا کیا۔
اسد طور نے بتایا کہ جب خفیہ والوں نے انہیں بیڈ سے اٹھا کر فرش پر پھینکا اور راڈ سے مارنا شروع کیا تو کہنیوں پر چوٹ لگنے اور خون بہنے کی وجہ سے ان کی حالت خراب ہو گئی۔ اتنے میں ایک حملہ آور نے اپنا پستول نکال کر لوڈ کر لیا۔ اسد کہتے ہیں کہ اسی لمحے مجھے لگا کہ اب یہ مجھے قتل کردیں گے کیونکہ یہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ میں زندہ رہوں اور بعد میں ان کا چہرہ لوگوں کے سامنے بے نقاب کروں۔
تاہم اسی دوران ایک مسلح شخص کے فون پر کال آئی، اس نے غالبا اپنے کسی افسر کو صورتحال سے آگاہ کیا جس کے بعد پستول مجھ پر سے ہٹا لی گئی۔ اسد طور کہتے ہیں کہ مجھے لگا کہ جیسے آج میری ماں کی دعاؤں نے مجھے زندہ بچا لیا ہے ورنہ میں بھی دیگر صحافیوں کی طرح خفیہ والوں کے ہاتھوں قتل ہونے کے لئے ذہنی طور پر تیار ہو چکا تھا۔ اسد نے بتایا کہ حملہ آور ان سے مسلسل یہی پوچھتے رہے کہ تم کن غیر ملکی قوتوں کے ایما پر کام کرتے ہو۔ انہوں نے میرے جوتوں کپڑوں کو بھی غور سے دیکھا اور ایک شخص نے کہا کہ یہ برینڈڈ جوتے پہنتا ہے، یہ جوتے بھی بلاشبہ اسے سے کسی دشمن ملک نے بھجوائے ہوں گے، اس موقع پر اسد طور نے وضاحت دی کہ انہیں صرف اہنی نوکری کی تنخواہ ملتی ہے اور آپ میرا بینک اکاؤنٹ چیک کر سکتے ہیں۔
اسد کہتے ہیں کہ حملہ آوروں نے ان کی ٹانگیں باندھ رکھی تھیں مگر وہ پھر بھی ان سے چلنے کے لئے کہتے رہے۔ ان کے منہ میں کپڑا ٹھونس رکھا تھا مگر وہ ان سے پاکستان، آئی ایس آئی اور فوج کے حق میں نعرے لگواتے رہے۔ اسد طور کے بقول جب تینوں مسلح افراد انہیں زخمی حالت میں چھوڑ کر وہاں سے نکل گئے تو وہ بڑی مشکل سے گھسٹ کر اپنے فلیٹ سے باہر آئے۔ اس موقع پر قریبی فلیٹ والوں نے انہیں دیکھا تو پہلے ان کی بندھی ہوئی ٹانگوں کو کھولا اور پھر واقعے سے متعلق پوچھا۔ اسد کہتے ہیں کہ انہوں نے کسی کو نہیں بتایا کہ حملہ آوروں کا تعلق آئی ایس آئی سے تھا ورنہ بلڈنگ والے لوگ پریشان ہو جاتے۔ اسد طور کے مطابق کیونکہ مسلح افراد جاتے ہوئے ان کے دونوں موبائل فون بھی ساتھ لے گئے تھے اس لئے انہوں نے کسی سے موبائل فون لے کر اپنے دوستوں کو وہاں بلوایا جو تقریبا آدھے گھنٹے بعد پہنچے۔ اسد کے بقول چونکہ وہ خاصی تکلیف میں تھے اس لئے ان کے دوستوں نے انہیں اسپتال لے جانا چاہا لیکن انہوں نے اصرار کیا کہ پہلی واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جائے تاکہ ثبوت کے طور پر استعمال ہو سکے۔ لیکن انہیں بتایا گیا کہ ان کے فلیٹ کے باہر لگے کیمرے کی فوٹیج دستیاب ہے لیکن داخلی دروازے پر لگے کیمرے کی فوٹیج تکنیکی فالٹ کی وجہ سے ریکارڈ کی نہیں ہو سکی۔
اسد نے بعد ازاں اسپتال سے طبی معائنہ کروایا اور ایف آئی آر درج کروائی، لیکن ویڈیو میں نظر آنے والے تینوں افراد کی واضح شناخت کے باوجود انہیں سزا ملنے کی کوئی امید اس لئے نہیں کیونکہ ماضی میں حامد میر، مطیع اللہ جان اور ابصارعالم پر ہونے والے حملوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے باوجود بھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی تھی۔

Back to top button