تمام خفیہ ایجنسیاں آئی ایس آئی کے ماتحت کر دی گئیں


ملک بھر میں موجود لگ بھگ دو درجن سے زائد خفیہ ایجنسیوں کو ڈی جی آئی ایس آئی کی کمان میں دے دیا گیا ہے جو اب آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی زیر نگرانی کام کریں گی۔ بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ وزیراعظم کی خواہش پر کیا گیا ہے تا کہ انٹیلی جینس گیدرنگ کے دوران تمام ایجنسیوں کی باہمی ہم آہنگی میں اضافہ ہو۔
یاد رہے کہ 2011 میں بنائے جانے والے ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ میں یہ تجویز دی گئی تھی کہ سول ملٹری انٹیلی جنس کوآرڈینیشن میکانزم کو ہم آہنگ کرنے کے لیے امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمینٹ کی طرز پر کام کیا جائے اور تمام ایجنسیوں کو ایک چھت تلے جمع کر دیا جائے۔
دوسری طرف اپوزیشن نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو اس حوالے سے تمام امور پارلیمنٹ میں پیش کرنے چاہیں اور متفقہ فیصلہ کیا جانا چاہیے کیوں کہ آئی ایس آئی کا بنیادی کام بیرونی دشمنوں کی جانب سے ملک کے خلاف کی جانے والی سازشوں کو کنٹرول کرنا ہے جبکہ دیگر ایجنسیوں کا کام اس سے بالکل مختلف ہے۔ یاد رہے کہ کپتان حکومت نے خفیہ ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی مربوط بنانے کے لیے ائی ایس چیف کی زیر نگرانی نیشنل انٹیلی جنس کوآرڈنیشن کمیٹی یا این آئی سی سی کے قیام کا فیصلہ کیا تھا جسے اب عملی شکل دے دی گئی یے۔ قانون کے تحت آئی ایس آئی کا ڈی جی وزیر اعظم کو براہ راست رپورٹ کرتا ہے اور ان کے آنکھوں اور کانوں کا کردار ادا کرتا ہے۔ ویسے بھی وزیراعظم عمران خان کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ بیشتر فیصلے انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ وزیراعظم بارہا یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ آئی ایس آئی جانتی ہے کہ میں کرپٹ نہیں ہوں اور اپوزیشن کی قیادت کرپٹ ہے۔
23 جون 2021 کے روز قومی انٹیلی جنس رابطہ کمیٹی تب فعال ہو گئی جب عمران خان نے آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹرز میں کمیٹی کے افتتاحی اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں وزیر داخلہ شیخ رشید احمد، وزیر اطلاعات فواد چوہدری، انٹیلی جنس ایجنسیوں، انٹیلی جنس بیورو اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے سربراہان نے شرکت کی۔ وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ‘اجلاس کے شرکا کو انٹیلی جنس تعاون بڑھانے سے متعلق جامع بریفنگ دی گئی اور اس حوالے سے تبادلہ خیال خیال کیا۔ بتایا گیا ہے کہ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل، این آئی سی سی کے کنوینیئر ہوں گے جبکہ آئی بی کا ایک سینئر عہدیدار اس کے سیکریٹری کے فرائض انجام دے گا۔ توقع کی جارہی ہے کہ آئی ایس آئی کے افسران ابتدائی طور پر نئی تنظیم کے لیے سیکریٹریل تعاون فراہم کریں گے، تاہم ایک سیکیورٹی عہدیدار نے کہا اس کے بعد ایک علیحدہ سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا۔ اس فورم کو باضابطہ طور پر 22 جنوری کو ‘متحد اور متناسب قومی انٹیلی جنس اسسمنٹ کے لیے انٹیلی جنس رابطہ / تعاون کے ایک پلیٹ فارم’ کے طور پر نوٹیفائی کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آخر میں این آئی سی سی کے قیام سے متعلق تبادلہ خیال ہوا تھا اور وزیر اعظم نے اس نئے فورم کی منظوری دی تھی۔اس طرح کے ہم آہنگی کے اسٹرکچر کے لیے ماضی میں متعدد کوششیں کی گئیں تاہم اس کی قیادت اور مختلف ایجنسیوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے یہ کوششیں ناکام ہوئیں۔ واضح رہے کہ ملک میں دو درجن سے زائد انٹیلی جنس تنظیمیں ہیں۔
اس سے پہلے ایبٹ آباد کمشن نے اپنی رپورٹ میں سول اور عسکری خفیہ اداروں کے درمیان تعاون کے طریقہ کار کی عدم موجودگی کا انکشاف کرتے ہوئے امریکی محکمۂ داخلی سیکیورٹی کی طرز پر ایک ادارے کے قیام کی تجویز دی تھی۔
تاہم ملک کی تمام انٹیلی جنس ایجنسیز کو ڈی جی آئی ایس آئی کی کمان میں دینے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے ہوئے پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل فرحت اللہ بابر کہتے ہیں کہ آئی ایس آئی چیف کے ماتحت تمام خفیہ اداروں کی کمیٹی کا قیام خطرناک اور غلط اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ خفیہ اداروں کو قانون کے تابع بنانے کی ضرورت ہے نہ کہ ایک ایسے ادارے کو مزید طاقتور بنانے کی جس پر پاکستانی سیاست میں مداخلت کرنے کا الزام ہے۔
فرحت اللہ بابر کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کو اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے مداخلت کرنا ہو گی۔ یاد رہے کے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں آئی ایس آئی اور آئی بی کو وزارتِ داخلہ کے ماتحت کیا گیا تھا تاہم آئی ایس آئی کے سخت ردِ عمل کے بعد اس اعلامیے کو واپس لے لیا گیا تھا۔ تاہم اس فیصلے کے ناقدین کا خیال ہے کہ ملک کی تمام ایجنسیوں پر مبنی ایک کمیٹی اگر بنا ہی لی گئی ہے تو اس کی سربراہی ڈی جی آئی ایس آئی کی بجائے وزیر اعظم کے پاس ہونی چاہیئے تا کہ ملک میں پارلیمانی طرز حکومت رائج ہے۔ یوں وزیر اعظم کا جاسوسی کا شوق بھی پورا ہوتا رہے گا اور ان کی چودھراہٹ بھی قائم رہے گی۔

Back to top button