توسیع نے ملکی سیاست کے بڑے بت پاش پاش کر دئیے

سیاست اور زراعت میں ایک چیز مشترک ہے۔ جو آج بویا جائے اسے فصل کے پک جانے پر کل کاٹنا پڑتا ہے۔ ایک ’انجینرڈ پارلیمان نے جو بیج آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی صورت میں بویا ہے اس کی فصل پاکستان یہ قوم کافی عرصے تک کاٹے گی۔
مسلم لیگ ن نے بڑی محنت سے ووٹ کو عزت دو کے بت کو تراشا تھا جس کی بنیاد پر نہ صرف وہ 2018 کے الیکشن میں بڑی تعداد میں نشستیں جیت پائی بلکہ اسی سیاسی کارڈ کو استعمال کرتے ہوئے انہوں نے ڈیل بھی لی۔ مگر اب یہ جعلی بت ٹوٹ چکا ہے اور اس کی کرچیوں سے پارٹی کی تمام قیادت زخمی ہو چکی ہے اور شاید اسی سے ان کی پنجاب میں سیاسی موت واقع ہو جو اس سے پہلے پی پی پی کا مقدر بنی۔ لیکن مذید بری بات یہ ہے کہ اپنے ووٹروں کے غصہ سے بچنے کے لیے مسلم لیگ ن کی قیادت انتہائی مضحکہ خیز بیان دے رہی۔ مثلاً یہ کے شریف خاندان پر اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں بڑے ظلم ہوئے۔ مگر پھر ایکسٹنشن بھی انہی کو دے دی جنہوں نے ظلم ڈھائے۔ پھر فرما تے ہیں کہ قوم نے ان کس ساتھ نہیں دیا۔ اگر قوم انکے ساتھ نہیں تھی تو پنجاب میں اتنی سیٹیں کیسے ملیں، جی ٹی روڈ کی ریلی کیوں کامیاب ہوئی اور مریم نواز کا فیصل آباد کا جلسہ اتنا بھرا ہوا کیوں تھا؟ اگر قوم ساتھ نہیں تھی تو فضل الرحمان کو خط لکھ کر یہ کیوں وعدہ کیا کے آزادی مارچ میں ’تن من دھن کے ساتھ‘ آپ کے ساتھ ہیں اور پھر جب ایکسٹنشن کی غیرمشروط حمایت کا فیصلہ کیا تو کیا مولانا فضل الرحمان کو اعتماد میں لیا جنہیں بڑا انقلابی خط لکھا تھا۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کی قیادت کو بھی یہی گلہ ہے کہ آرمی ترمیمی ایکٹ کی حمایت کا غیرمشروط اعلان کرنے سے پہلے ان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ تاہم اس سارے چکر میں جو سب سے بڑا بت ٹوٹا وہ تبدیلی اور جعلی مسیحائی کا ہے۔ عمران خان 22 سال تک قوم کو ایک ایسا خواب دکھاتے رہے جسے پورا کرنے کی نہ ان میں صلاحیت ہے اور نہ ان کی نیت ہے۔ تقریباً ہر وعدے پر وہ یو ٹرن لے کر اسے توڑ چکے ہیں۔ کشمیر، غربت، قوم کی دنیا میں عزت، روزگار، میرٹ، احتساب اور جمہوریت ہر وعدہ ایک ڈراونا خواب بن کر قوم کے سامنے ہے۔ آج قوم تبدیلی کے نام سے چاول ہو چکی ہے۔
ایک اور بت جس کے کئی ہزار ٹکڑے ہوگئے وہ فوج کے سربراہ کا یہ دعوی ہے کے وہ قوم اور ادارے کے مفاد کو ذاتی مفاد سے اوپر رکھتے ہیں۔ موجودہ سربراہ جو قوم کو تین سال تک یہ کہتے رہے کہ انہیں ایکسٹنشن میں کوئی دلچسپی نہیں ہے آخر میں وہاں پہنچے کے کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہو گئے۔ 2009 کے بعد عدلیہ نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کے انہوں نے انصاف اور قانون کا ایک نیا بت تیار کیا ہے جسے وہ ٹوٹنے نہیں دیں گے۔ مگر یہ بت بھی پاناما کیس، ایکسٹنشن کے فیصلے اور ساہیوال سانحے کے فیصلے وہ واقعات ہیں جنہوں نے انصاف کے بت کو بھرے بازار میں توڑا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button